Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

سے دور بھگاتے رہے اور ساتھ ساتھ فرماتے رہے :   ’’ کاش کوئی ایک شخص بھی میرا ہم پلہ ہوتا تو میں   اس کے لئے کافی ہوتا ۔  ‘‘  راوی بیان

 

 کرتے ہیں   کہ ’’ مسجدکی چھت پر حضرت سیِّدُناعبداللہبن زُبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے کچھ مددگارچڑھے ہوئے تھے جو دشمنوں   پر اینٹیں   برسا رہے تھے ۔  اتفاق سے ایک اینٹ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے سرکے درمیان آ لگی جس سے سر پھٹ گیا اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ٹھہرگئے اور فرمانے لگے :  

وَلَسْنَا عَلَی الْاَعْقَابِ تَدْمِیْ کُلُوْمُنَا           وَلٰـکِنْ عَلٰی اَقْدَامِنَا تَقْطُرُ الدَّمَا

                ترجمہ :  ہم وہ لوگ نہیں   کہ پیٹھ پھیرنے کی وجہ سے ہماری ایڑیوں   پرخون گرتا ہوبلکہ سینہ سپرہونے کی وجہ سے ہمارے قدموں   پرخون ٹپکتا ہے ۔

                راوی بیان کرتے ہیں   کہ پھرحضرت سیِّدُناعبداللہبن زُبیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا  زمین پر تشریف لے آئے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے دوخادم یہ کہتے ہوئے ان پر جھکے کہ ’’  بندہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی خاطر حملہ کرتا ہے اور اس سے بچتا ہے ۔  ‘‘  پھر شامیوں   کی ایک جماعت نے آگے بڑھ کر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا سرِ مبارَک تن سے جدا کر دیا  ۔   ( [1] )

  ( 1171 ) … حضرت سیِّدُناابواِسحاقعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الرَّزَاق فرماتے ہیں  کہ جب حضرت سیِّدُنا عبداللہبن زُبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کومسجد ِ حرام میں   شہید کیا گیااس وقت میں   بھی وہاں   موجود تھا ۔  ہوا کچھ یوں   کہ شامیوں   کے لشکر مسجد کے دروازوں   سے داخل ہونا شروع ہوئے ۔  جب کچھ لوگ مسجدمیں   داخل ہوتے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ تن تنہا مردانہ وار ان پر حملہ کرتے اور اِنہیں   مسجدسے نکال دیتے ۔  اسی دوران مسجد کی ایک اِینٹ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے سرپر آلگی جس کے گہرے زخموں  کی تاب نہ لا کر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ زمین پر تشریف لے آئے ۔  اس وقت ان اشعار  کی مثل رَجْزِیَہ اَشعار زبان پر تھے:

أَسْمَائُ اِنْ قُتِلْتُ لَاتَبْکِیْنِیْ                  لَمْ یَبْقَ اِلَّاحَسَبِیْ وَدِیْنِیْ

وَصَارِمٌ لَانَتْ بِہٖ یَمِیْنِیْ

                ترجمہ :   اے  ( میری والدہ ماجدہ )  اسمائ !  اگر میں   شہیدہوجاؤں   تومجھ پرمت رونا چونکہ صرف میرا حسب ودین اور ایک تلوار جس پر میرا دایاں   ہاتھ نرم پڑ گیا،   باقی رہ جائے گی ۔  ‘‘   ( [2] )

 

 ( 1172 ) … حضرت سیِّدُنا عُرْوَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن زُبَیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا شامیوں  پرحملہ آورہوتے یہاں  تک کہ انہیں   مسجد ِ حرام کے دروازوں   سے باہر نکال دیتے اور فرماتے جاتے :   ’’ کاش  ! کوئی ایک شخص بھی میرا ہم پلہ ہوتا تومیں   اس کے لئے کافی ہوتا ۔  ‘‘

            اور یہ رجزپڑھتے تھے :  

وَلَسْنَا عَلَی الْاَعْقَابِ تَدْمِیْ کُلُوْمُنَا               وَلٰـکِنْ عَلٰی اَقْدَامِنَا تَقْطُرُ الدَّمَا

                ترجمہ :  ہم وہ لوگ نہیں   کہ پیٹھ پھیرنے کی وجہ سے ہماری ایڑیوں   پرخون گرتا ہو بلکہ سینہ سپرہونے کی وجہ سے ہمارے قدموں   پرخون ٹپکتا ہے ۔    ( [3] )

پیدا ہوتے ہی بارگاہِ رسالت میں   حاضری :  

 ( 1173 ) … حضرت سیِّدُناہِشَام بن عُرْوَہ اور حضرت سیِّدَ تُنافاطمہ بنت مُنْذِر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمبیان کرتے ہیں : ’’  حضرت سیِّدَ تُنا اسماء بنت ابی بکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے حضورنبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہجرت کی ۔ اس وقت وہ حضرت عبد اللہبن زُبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے حمل سے تھیں   ۔ جب ان  کی ولادت ہوئی تو اس وقت تک دودھ نہ پلایا جب تک حضور نبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   لے کر حاضر نہ ہوئیں    ۔  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں   اپنی گود میں   لیا اور ایک چھوارا ( یعنی خشک کھجور )  منگوا کراسے چبا یااور انہیں   گھٹی دی ۔ چنانچہ،   دنیا میں   آنے کے بعد سب سے پہلے حضور نبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا لعابِ دَہن ان کے پیٹ میں   داخل ہوا جو چھوار ے سے ملا ہوا تھا ۔  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کا نام عبد اللہرکھا ۔  ‘‘

            حضرت سیِّدُناشُعَیْب اپنی روایت میں   بیان کرتے ہیں  : ’’ حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چھوارا منگوایا،   ہم نے کچھ دیر تلاش کرکے پیش کیاتوآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے چبا کر حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن زُبیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے منہ میں   ڈال دیا  ۔  ‘‘   ( [4] )

               

 

حَجَّاج ومُختارثَقَفِی کے بارے میں   پیشین گوئی :  

 ( 1174 ) … حضرت سیِّدُنایَعْلٰی تَیْمِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی بیان کرتے ہیں   کہ میں   حضرت سیِّدُناعبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی شہادت کے تین روز بعد مکۂ مکرمہ زَادَھَا اللہ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًاحاضر ہوا تو



[1]    المستدرک ،  الحدیث : ۶۳۹۴ ، باب ذکر قتال ابن الزُبَیرمع حصین بن نمیر ،  الحدیث : ۶۳۹۵ ، ص۷۱۱۔

                اخبارمکۃ للفاکہی ،  ذکرقتال ابن الزُبَیرالخ ،  الحدیث : ۱۶۵۲ / ۱۶۵۳ / ۱۶۵۴ ، ج۲ ، ص۳۵۱۔

[2]    تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر ،  الرقم۳۲۹۷عبداﷲ بن الزُبَیر ، ج۲۸ ، ص۲۲۵۔

[3]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الادب ،  باب الرخصۃ فی الشعر ،  الحدیث : ۷۴ ، ج۶ ، ص۱۸۲۔

[4]    المرجع السابق ،  کتاب المغازی ،  باب ما قالوافی مہاجرالنبی ،  الحدیث : ۱۵ ، ج۸ ، ص۴۶۰۔

                صحیح مسلم ،  کتاب الآداب ،  باب استحباب تحنیک المولودالخ