Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

بیڑیاں   اورایک چاندی کاطوق بھیج رہا ہوں   اورمیں   نے قسم کھائی ہے کہ تم ان چیزوں   کو پہن کر ضرور میرے پاس آؤ گے ۔  ‘‘  تو حضرت سیِّدُنا عبداللہبن زُبَیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کا خط پھینک کر فرمایا :  

وَ لَا اَ لِیْنُ  لِغَیْرِ الْحَقِّ  اَسْئَـلُـہٗ                  حَتّٰی یَلِیْنَ لِضَرْسِ الْمَاضِغِ الْحَجَرٗ

                ترجمہ :  میں   ناحق مطالبے کوپوراکرنے کے لئے معمولی سی نرمی بھی اختیار نہیں   کروں   گا یہاں   تک کہ چبانے والی داڑھوں   کے لئے پتھر نرم ہو جائیں   ۔  ‘‘   ( [1] )

آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی بے مثل شہادت :  

 ( 1170 ) … حضرت سیِّدُنا عُرْوَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُناا میرِمُعَاوِیَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی

 

 عَنْہ کے وصال کے بعدحضرت سیِّدُناعبداللہبن زُبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے یزید کی اطاعت کرنے سے اِنکار کرتے ہوئے علانیہ طورپراسے برا بھلا کہا ۔  جب یزید کو اس کا پتہ چلا تو اس نے قسم کھائی کہ انہیں   گرفتارکرکے طوق پہنا کر میرے دربار میں   لایا جائے ورنہ میں   ا ن پر لشکر کشی کر وں   گا ۔  لوگوں   نے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن زُبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے عرض کی کہ ’’   ہم آپ کے لئے چاندی کا ایک طوق بنا دیتے ہیں   آپ اسے کپڑوں   کے نیچے پہن لیجئے گا تاکہ یزید کی قسم بھی پوری ہو جائے اور آپ کے لئے صلح کا بہتر راستہ بھی نکل آئے ؟  ‘‘  فرمایا :  ’’ اللہعَزَّوَجَلَّ اس کی قسم کو پورا نہ کرے ۔  ‘‘  پھر یہ شعر پڑھا :  

وَ لَا اَ لِیْنُ  لِغَیْرِ الْحَقِّ  اَسْئَـلُـہٗ           حَتّٰی یَلِیْنَ لِضَرْسِ الْمَاضِغِ الْحَجَرٗ

                ترجمہ :  میں  ناحق مطالبے کوپوراکرنے کے لئے معمولی سی نرمی بھی اختیار نہیں   کروں   گا یہاں   تک کہ چبانے والی داڑھوں   کے لئے پتھرنرم ہوجائیں   ۔

            پھر فرمایا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! مجھے عزت والے معاملہ میں  تلوارکا وار ،  ذلت والے معاملہ میں   کوڑے کی ضرب سے زیادہ محبوب ہے ۔  ‘‘  پھر لوگوں   کو اپنے ہاتھ پربیعت کرنے کی دعوت دی اور یزید کی مخالفت کا اِعلان کر دیا ۔  اُدھر یزید نے حُصَیْن بن نُمَیْرکِنْدِی کو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے جنگ کرنے کے لئے بھیج دیا اور اس سے کہا کہ ’’  اے گدھے کے بچے !  قریش کی دھوکہ بازیوں   سے بچ کر رہنااور ان کے ساتھ صرف نیزوں   اور گھوڑوں   سے مقابلہ کرنا  ( یعنی صلح میں   نہ پڑجانا )  ۔  ‘‘  چنانچہ،   وہ مکہ مکرمہ پہنچا توحضرت سیِّدُنا عبداللہ بن زُبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے اس کے ساتھ بھرپور جنگ کی اور حُصَیْن نے  ( مَعَاذَاللہعَزَّوَجَلَّ ) کعبہ معظمہ تک کو جلا ڈالا ۔  مگر جب اسے یزید پلید کے مرنے کی خبر ملی تو وہ بھاگ نکلا ۔  یزید کی موت کے بعد مَرْوَان بن حَکم نے لوگوں   کو اپنے ہاتھ پر بیعت کرنے کا کہا ۔  جب مَرْوَان مر گیا توعبدالملک بن مروان نے اپنے ہاتھ پربیعت کرنے کا اِعلان کیا اور حَجَّاج کو ایک لشکر کا امیر مقرر کر کے مکۂ مکرمہ روانہ کیا،   حَجَّاج مکہ پہنچا تو جبلِ ابوقبیس پرچڑھ کر وہاں  مَنْجَنِیْقنصب کی اور مسجدحرام میں   حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن زُبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا   اور ان کے اَصحاب پر پتھر برسائے  ۔  

            جب حضرت سیِّدُنا عبداللہبن زُبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت کا دن طلوع ہوا تو اس دن آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ صبح سویرے اپنی والدہ ماجدہ حضرت سیِّدَتُنا اسماء بنت اَبی بکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی خدمت میں   آئے،   اس وقت

 

 آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی والدہ سو برس کی تھیں   اور ابھی تک ان کاکوئی دانت گرا تھا نہ بینائی میں   کچھ فرق آیا تھا ۔  والدہ ماجدہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے پوچھا :  ’’  اے عبداللہ !  تمہاری جنگ کا کیا ہوا ؟  ‘‘  عرض کی :  ’’ دُشمن فلاں   مقام تک پہنچ چکا ہے ۔  ‘‘ یہ کہہ کر مسکرا دیئے اور کہا کہ ’’  بلاشبہ موت ہی میں   راحت وآرام ہے ۔  ‘‘  والدہ نے فرمایا :  ’’ اے میرے بیٹے !  شاید تم نے میرے لئے موت کی تمنا کی ہے لیکن مجھے تو اس وقت تک مرنا پسند نہیں  جب تک تمہاراکچھ فیصلہ نہ ہو جائے ۔  اگر تم اقتدار حاصل کر لوگے تو اس سے میری آنکھیں   ٹھنڈی ہوں  گی اور اگر تم قتل کر دئیے گئے تو میں   اسے باعثِ ثواب سمجھوں   گی  ( کہ میرا بیٹا راہِ حق میں   شہید ہوگیا )  پھر حضرت سیِّدُنا عبداللہبن زُبیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا  نے اپنی والدہ کو الوَدَاع کہا تو والدہ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :  ’’ بیٹا !  تم قتل کے خوف سے اپنے دین کی کوئی خصلت نہ چھوڑنا ۔  ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ وہاں   سے نکل کر مسجد میں   داخل ہوئے تولوگوں   نے عرض کی کہ ’’  ہم دشمن سے صلح کی بات چیت نہ کر لیں   ؟  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ کیا یہ صلح کا وقت ہے ؟  ‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !  اگر دشمن تمہیں   اس وقت کعبہ کے اندر بھی پا لیں   تو ضرور ذبح کر ڈالیں   ۔  ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ شعر پڑھا :  

وَلَسْتُ بِمُبْتَاعِ الْحَیَاۃِ بِذِلَّۃٍ               وَلَا مُرْتَقٍ مِنْ خَشْیَۃِ الْمَوْتِ سُلَّمَا

ترجمہ :  میں   ذلت ورسوائی کے بدلے میں   زندگی کا خریدارنہیں   ہوں   اورنہ ہی موت کے ڈرسے سیڑھی پرچڑھنے والا ہوں   ۔

            پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے رُفقا کونصیحت کرتے ہوئے فرمایا :   ’’ جس طرح تمہارے چہرے غصہ سے بھرپورہیں   اس طرح تمہاری تلواریں   بھی غصہ سے آگ اُگلیں  ،   کسی کی تلوار نہ ٹوٹنے پائے کہ وہ پھر عورت کی طرح ہاتھوں   سے اپنادِفاع کرنے لگے ۔  بخدا !  جب بھی کسی لشکرسے میرا سامنا ہوا تو میں   ہمیشہ صفِ اوّل میں   رہا اور مجھے جو بھی زخم لگا میں   نے اس کا اتنا ہی درد محسوس کیا جتنا اس پردوالگانے سے ہوتا ہے  ۔  ‘‘  پھرآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے شامیوں   پر حملہ کر دیا اور آپ کے پاس دو تلواریں   تھیں   ۔  سب سے پہلے اسود نامی آدمی سے مقابلہ ہوا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے تلوارکے ایک ہی وار میں   اس کی ٹانگ کاٹ دی ۔  اس نے بکواس کی :   ’’ اَخْ  ( غصہ کے وقت کی آواز )  اے زانیہ  کے بیٹے !  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ اے کالی عورت کے مَردُودبیٹے !  کیا حضرت اسماء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا زانیہ ہیں   ؟  ‘‘  پھر شامیوں   کو مسجد سے مار بھگایا ۔  اسی طرح مسلسل ان پر حملے کرتے رہے اور انہیں   مسجد



[1]    المستدرک ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  باب سبب قتال ابن الزُبَیرمع یزید ،  الحدیث : ۶۳۹۳ ، ج۴ ، ص۷۱۱۔



Total Pages: 273

Go To