Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

لوٹ کر آیا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دریافت فرمایا :   ’’ اے عبداللہ ! خون کہاں  محفوظ کیا ؟  ‘‘ عرض کی :   ’’ ایسی جگہ جہاں   کوئی نہیں   دیکھ سکتا ۔  ‘‘  کیونکہ میں   سمجھ گیا تھا کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو لوگوں   کے مطلع ہونے کا اندیشہ تھا ۔ ارشاد فرمایا :  ’’ شاید تم نے اسے پی لیا ہے ۔  ‘‘ عرض کی :   ’’ جی ہاں   ۔  ‘‘ فرمایا :  ’’  تمہیں   خون پینے کا کس نے کہا تھا ۔ خرابی ہے تیرے لئے لوگوں   سے اوران کے لئے تجھ سے ( [1] ) ۔  ‘‘   ( [2] )

 ( 1167 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن زُبَیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے خادم حضرت کَیْسَان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا سلمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ حضورنبی ٔ ٔپاک،   صاحبِ لَوْلاک،   سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمتِ اَقدس میں   حاضری کے لئے آئے تودیکھاکہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن زُبَیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پاس ایک برتن تھا جس سے وہ کچھ پی رہے تھے ۔  فارغ ہونے کے بعدوہ بھی بارگاہِ رسالت عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں   حاضر ہوئے توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا :  ’’ تم فارغ ہوگئے ہو ؟  ‘‘  عرض کی :  ’’ جی ہاں   ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُناسلمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  آپ نے انہیں   کیاحکم دیا تھا ؟  ‘‘ ارشاد فرمایا :   ’’  پچھنے لگوانے سے جو خون نکلا تھا وہ کسی محفوظ جگہ رکھ آنے کو دیا تھا ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا سلمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی :  ’’  اس ذات کی قسم جس نے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو

 

 حق کے ساتھ مبعوث فرمایا !  انہوں   نے تو اسے پی لیاہے  ۔  ‘‘ حضور نبی ٔاکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِسْتِفْسَار فرمایا :   ’’ کیا واقعی تم نے اسے پی لیا ہے ؟  ‘‘  حضرت سیِّدُنا عبداللہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی :  ’’ جی ہاں   !  ‘‘  ارشاد فرمایا :   ’’ کیوں   ؟  ‘‘  عرض کی :  ’’ میں   نے چاہا کہاللہعَزَّوَجَلَّ کے رسولصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا بابرکت خون میرے پیٹ میں   چلا جائے ۔  ‘‘ توحضور نبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا ہاتھ مبارک حضرت سیِّدُنا عبداللہبن زُبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے سرپررکھا اور ارشاد فرمایا :   ’’ خرابی ہے تیرے لئے لوگوں   سے اورلوگوں   کے لئے تجھ سے ۔  تجھے دوزخ کی آگ نہیں   چھوئے گی مگر یہ کہ قسم پوری کرنے کے لئے  ( [3] ) ۔  ‘‘   ( [4] )

یزید پلید کی بیعت سے کھلاانکار :  

 ( 1168 ) … حضرت سیِّدُناقاسِم بن محمدبن اَبی بکررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ بیان کرتے ہیں  کہ حضرت سیِّدُنامُعَاوِیہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوخبرملی کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر،   حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن ابی بکراور حضرت سیِّدُنا عبداللہ  بن زُبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْیزید کی بیعت سے بچنے کے لئے مدینہ طیبہ سے مکۂ مکرمہزَادَھُمَااللہ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًاروانہ ہوگئے ہیں    ۔  چنانچہ،  جب حضرت سیِّدُنامُعَاوِیَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم مکۂ مکرمہ زَادَھُااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا تشریف لائے تو مقامِ تنعیم میں   حضرت سیِّدُناعبداللہبن زُبَیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے ملاقات ہوئی  ۔ مسکراتے ہوئے ان سے ان کے اَقارب ودوستوں   کا حال دریافت کیا اور جس معاملے کی خبرملی تھی اس کے بارے میں   کچھ نہ کہا ۔  اس کے بعد حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر،   حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن اَبی بکررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے ملاقات ہوئی توان سے

 

یزیدکی بیعت کے بارے میں   تبادلہ خیال کیا اورپھر حضرت سیِّدُنا عبداللہبن زُبَیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو بلا کر فرمایا کہ ’’ یہ سب تم نے ہی کیا ہے کہ ان دوآدمیوں   کو اپنے ساتھ ملالیاہے اور یہ معاملہ تیار کر لیا ہے ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن زُبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے کہا :   ’’ میں   کسی قسم کی مخالفت کے درپے نہیں   ہوں   ۔  البتہ ایک ساتھ دو آدمیوں   کے ہاتھ پر بیعت کرنامجھے پسندنہیں   ۔ کیونکہ اگرمیں   دونوں  کی بیعت کر لوں   تو پھر دونوں   میں   سے کس کی اطاعت کروں   گا ؟  اگر آپ حکومت کے اہل نہیں   ہیں   تو یزید کی بیعت کر لیجئے ہم بھی آپ کے ساتھ اس کی بیعت کر لیں   گے ۔  ‘‘  یوں   جب سب نے یزید کی بیعت سے انکار کر دیا تو حضرت سیِّدُنا امیرِمُعَاوِیَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے کھڑے ہو کر فرمایا:  ’’ یاد رکھو !  مجھے بہت سارے لوگوں   کی باتیں   پہنچی ہیں   جو قابلِ غورہیں   اور مجھے ان لوگوں   کے بارے میں   مختلف افواہیں   پہنچی ہیں   جنہیں   میں   سراسر جھوٹ سمجھتا ہوں   کیونکہ یہ لوگ بات سننے اور اطاعت کرنے والے ہیں   اور جس صلح میں   پوری اُمت داخل ہے یہ بھی اس میں   داخل ہیں   ۔  ‘‘   ( [5] )

یزیدپلید کاخط  پھینک دیا :  

 ( 1169 ) … حضرت سیِّدُنا عُرْوَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ یزید نے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن زُبَیر  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف خط لکھاکہ میں   ایک چاندی کی کڑی،   دو سونے کی



[1]    ’’خرابی ہے تیرے لئے لوگوں   سے ۔‘‘اس کی شرح میں   حضرت سیِّدُناامام محمدبن عبدالباقی زرقانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں   :  ’’حضرت سیِّدُناعبداللہ بن زُبیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا  کومحاصرہ کرکے شہیدکردیاگیا اور پھر سولی چڑھایاگیایہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے لئے حجاج وغیرہ کی طرف سے خرابی ہے۔‘‘اور ’’لوگوں   کے لئے تجھ سے ‘‘اس کی شرح میں   فرماتے ہیں   :  ’’آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے قاتلوں   نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  کوقتل کرنے اورکعبہ معظمہ زَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاکی بے حرمتی کا جو بہت بڑا گناہ اپنے سر لیا وہ ان لوگوں   کے لئے خرابی ہے۔ ‘‘  ( شرح العلامۃالزرقانی علی المواھب اللدنیۃ ج۵  ،  ص۵۴۶ )

[2]    المستدرک ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  شراب ابن الزُبَیردم النبی بعداحتجامہ ،  الحدیث : ۶۴۰۰ ، ج۴ ، ص۷۱۷۔

[3]    یہاں   اِس فرمان باری تعالیٰ کی طرف اشارہ ہے : ’’ وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ-كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ(۷۱) ‘‘  ( پ۱۶ ،   مریم : ۷۱ )  ترجمۂ کنزالایمان : ’’اورتم میں   کوئی ایسا نہیں   جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو ، تمہارے رب کے ذمہ پریہ ضرورٹھہری ہوئی بات ہے۔‘‘

                 صدر الافاضل مفسر شہیر مفتی محمدنعیم الدین مرادآبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْھَادِی اس آیت کے پہلے حصہ کی تفسیرمیں   فرماتے ہیں   : ’’نیک ہو یا بد ،  مگر نیک سلامت رہیں   گے اورجب ان کاگزردوزخ پرہوگاتودوزخ سے صدااٹھے گی :  اے مومن! گزر جا کہ تیرے نورنے میری لپٹ ( یعنی گرمی  )   سَرْدْکردی ہے۔ حَسَن وقتادَہ  ( رَحِمَہُمَااللہ تَعَالٰی )  سے مروی ہے کہ دوزخ پرگزرنے سے پل صراط پرگزرنامرادہے جودوزخ پرہے۔‘‘ اور دوسرے حصۂ آیت کے تحت ارشاد فرماتے ہیں   : ’’یعنی ورودِ جہنم قضائے لازم ہے جو  اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں   پرلازم کیاہے ۔‘‘  ( تفسیرخزائن العرفان ،  پ۱۶ ، مریم ،  تحت الایۃ : ۷۱ )

[4]    جزء ابن الغطریف ،  الحدیث : ۶۵ ، ص۶۶