Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

۔ میں   اس آدمی سے خوش ہوں   جو دنیا کی محبت میں   مبتلاہو کرتمہاری غلامی کرنے لگے ۔  ‘‘   ( [1] )

 ( 1160 ) …  حضرت سیِّدُناابنِ اَبی مُلَیْکَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا :  ’’  ( نیک وباکمال )  لوگ دنیا سے چلے گئے اب صرف ’’  نَسْنَاس ‘‘ باقی رہ گئے ہیں   ۔ کسی نے پوچھا:  ’’ نَسْنَاس ‘‘  کون ہیں   ؟  ‘‘  فرمایا :  ’’ جونیکوں  کالبادہ اوڑھے رہتے ہیں   لیکن حقیقت میں   وہ نیک نہیں   ہوتے ۔  ‘‘   ( [2] )

 

 ( 1161 ) … حضرت سیِّدُنامجاہدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَاحِد سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا :  ’’ لوگوں   پرایک ایسازمانہ آنے والا ہے کہ عقلیں   ماندپڑ جائیں   گی یہاں   تک کہ تم ان میں   کوئی بھی عقل والا نہ پاؤ گے ۔  ‘‘  

 ( 1162 ) … حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُناامیرِمُعَاوِیَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے استفسارفرمایا :  ’’ کیاآپ حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی ملت پر ہیں   ؟  ‘‘  میں   نے کہا :   ’’ نہیں   !  اور نہ ہی ملت ِ عثمان پر ہوں   بلکہ میں   تو حضور نبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ملت پر ہوں   ۔  ‘‘   ( [3] )

 گریہ وزاری:

 ( 1163 ) … حضرت سیِّدُناابورَجَاء رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی یہ جگہ  ( یعنی آنسوبہنے کی جگہ کثرتِ گریہ کے سبب )  پرانے تسمے کی طرح  ہو گئی تھی ۔  ‘‘   ( [4] )

 ( 1164 ) … حضرت سیِّدُنااَیوب سَخْتَیانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں   کہ مجھے بتایا گیا کہ حضرت سیِّدُناطاؤس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایاکرتے تھے :   ’’  میں   نے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے بڑھ کر اللہعَزَّوَجَلَّ کی حرمات کی تعظیم کرتے ہوئے کسی کو نہیں   دیکھا ۔  اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم !  میں   جب بھی انہیں   یاد کر کے رونا چاہتا ہوں   تو رو لیتاہوں    ۔   ‘‘   ( [5] )

سفیدپرندہ کفن میں   داخل ہوگیا :  

 ( 1165 ) … حضرت سیِّدُنا مَیْمُوْن بن مِہْرَان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں  کہ میں   طائف میں   حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے جنازے میں   شریک تھا ۔  جب ان کاجنازہ نماز کے لئے رکھاگیاتو اچانک ایک سفیدپرندہ آیا جوان کے کفن میں   گھس گیالوگوں   نے اسے تلاش کیا لیکن وہ نہ ملا ۔  پھر جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی قبرپراینٹیں   درست کی گئیں   تو ہم نے ایک آوازسنی لیکن آواز والا دکھائی نہ دیا اس نے کہا :   

 

یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىٕنَّةُۗۖ(۲۷)ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ(۲۸)فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ(۲۹)وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠(۳۰) ( پ۳۰،   الفجر :  ۲۷تا۳۰ )

 ترجمۂ کنزالایمان: اے اطمینان والی جان اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں   کہ تواس سے راضی وہ تجھ سے راضی پھر میرے خاص بندوں   میں   داخل ہواورمیری جنت میں   آ ۔  ( [6] )

حضرت سیِّدُناعَبْدُاللہ بِن زُبَیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا

            حضرت سیِّدُناعبداللہ بن زُبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا بھی مہاجرین صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  میں   سے ہیں   ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ حق کی خاطر لڑنے والے،   سچ بولنے والے،  حضور نبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لعابِ دہن سے گھٹی پانے والے،   خاندانی شرافت والے،   رات کو قیام کرنے والے،   لگاتار روزے رکھنے والے،   بے مثال شمشیر زن،   پختہ رائے والے،   بہادروں   کو للکارنے والے،   حافظِ قرآن،  حضور نبی ٔپاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت کے پیروکار،  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے رفیق،   حضور نبی ٔکریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پھوپھی حضرت سیِّدَتُناصَفِیَّہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کے پوتے ،   حضورپرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفا شعار زوجہ ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کے بھانجے،   معاملہ کی گہرائی تک جانے والے اور جنگ میں   خون سے لت پت ہونے والے ہیں   ۔

            اہلِ تصوُّف فرماتے ہیں : ’’ مخلوق کی کثرت پرحق کوغالب کر دینے کا نام تصوُّف ہے ۔  ‘‘

رحمت ِ عالم  کابابرکت خون :  

 ( 1166 ) … حضرت سیِّدُنا عامر بن عبداللہبن زُبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن زُبیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ دربارِ رِسالتعَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں   حاضرہوئے تودیکھاکہ مکی مدنی آقا،   میٹھے میٹھے مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپچھنے لگوا رہے ہیں   ۔  فارغ ہوئے توفرمایا :  ’’ اے عبداللہ ! یہ

 

خون لے جاؤ اورایسی جگہ محفوظ کرآؤ جہاں   کوئی نہ دیکھے ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُناعبداللہبن زُبیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : باہرجا کر مَیں   نے سارا خون پی لیا ( [7] ) ۔ جب خدمت اقدس میں   



[1]    صفۃ الصفوۃ ،  الرقم۱۱۹عبداﷲ بن العبَّاس بن عبدالمطلب ، ج۱ ، ص۳۸۴۔

[2]   الزھدالکبیرللبیہقی ،  فصل فی العزلۃ والخمول ،  الحدیث : ۲۱۹ ، ص۱۲۳ ، عن ابی ھریرہ۔

[3]    شرح اصول اعتقاداہل السنۃ والجماعۃ ،  سیاقفی الحث علی التمسکالخ ،  الحدیث :