Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

جب اس کا شوہر سفر سے واپس لوٹا توبیوی کو غیظ وغضب سے بھرپور پا کر ٹوکری کے متعلق پوچھا ۔  اس کی بیوی نے اسے سارا واقعہ کہہ سنایا تو وہ قدری کہنے لگا :   ’’ میں   اللہعَزَّوَجَلَّ پر ایمان لاتا اور تقدیرکے حق ہونے کا اقرار کرتا ہوں   ۔  ‘‘ چنانچہ،  اس نے ’’ تقدیر کے انکار سے توبہ کر لی ۔

ایک صالح وخائف نوجوان :  

 ( 1155 ) … حضرت سیِّدُنامُقَاتِلرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک شخص سے روایت کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا :  ’’ تم سے پہلی اُمت میں   ایک شخص تھاجس نے 80 سال تک اللہعَزَّوَجَلَّ کی عبادت کی پھر اچانک اس سے کوئی خطا سرزدہوگئی جس کی وجہ سے وہ بہت خوفزدہ ہوا ۔  اسی خوف کے عالَم میں   وہ ایک بیابان میں   آیااوراسے مخاطب کرکے کہنے لگا :  ’’ اے بیابان !  تجھ میں   ریت کے ٹیلے،   جھاڑیاں  ،   رِینگنے والے جانوروں   کی بہت تعداد ہے،   تو کیا تجھ میں   کوئی ایسی جگہ بھی ہے جومجھے میرے پروردگارعَزَّوَجَلَّسے چھپا لے ؟  ‘‘  بیابان نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے جواب دیا :  ’’  اے فلاں   ! مجھ میں   موجودہردرخت اورجھاڑی پر ایک فرشتہ مقرر ہے ۔  میں   تمہیں   اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کیسے چھپاسکتا ہوں   ؟  ‘‘  پھروہ آدمی سمندر کے پاس آیا،  اسے پکارااورکہا :  ’’ اے گہرے پانی اورکثیر مچھلیوں   والے سمندر !  بتا کیا تجھ میں   کوئی ایسی جگہ ہے جو مجھے میرے رب عَزَّوَجَلَّسے چھپا لے ؟  ‘‘  سمندر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے بول اٹھا: ’’ اے فلاں   !  میرے اندر جو بھی کنکری یاجانور ہے اس پر ایک نگہبان فرشتہ مقررہے ۔  میں   تمہیں   اللہعَزَّوَجَلَّ

 

  سے کس طرح چھپا سکتا ہوں   ؟  ‘‘  اس کے بعد اس شخص نے پہاڑوں   کا رُخ کیاان کے پاس آیااور کہا :   ’’ اے آسمان کی طرف بلند ہونے والے کثیر غاروں   والے پہاڑو !  کیا تم میں   کوئی ایسی جگہ ہے جو مجھے میرے رب عَزَّوَجَلَّ سے چھپا سکے ؟  ‘‘ پہاڑوں   نے جواب دیا :   ’’  اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم !  ہمارے اندر کوئی کنکری اور کوئی غارایسا نہیں   جس پر ایک نگہبان فرشتہ مقررنہ ہوتوہم تجھے کہاں   چھپاسکتے ہیں   ؟  ‘‘ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :  ’’ پھروہ شخص اسی جگہ قیام پذیر ہو کر اللہعَزَّوَجَلَّ کی عبادت اورتوبہ میں   مصروف رہنے لگابالآخر جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے روکرعرض کی :   ’’ اے میرے مالک عَزَّوَجَلَّ  !  میری روح قبض کرکے فوت شدہ اَرواح اورمیراجسم فوت شدہ اَجسام سے ملا دے اور مجھے قیامت کے دن نہ اُٹھانا ۔  ‘‘

 ( 1156 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن اَبی مُلَیْکَہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ میں   نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ زَادَھُمَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاجاتے ہوئے حضرت سیِّدُناعبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی صحبتِ با برکت اختیار کی ۔  چنانچہ،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ راستے میں  جب کہیں  پڑاؤ ڈالتے توآدھی رات تک عبادت کرتے ۔   ‘‘  آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : حضرت سیِّدُنااَیوب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھ سے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی تلاوت کے بارے میں   دریافت کیا تومیں   نے بتایا کہ ’’  ایک مرتبہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے یہ آیت مبارَکہ تلاوت کی :  

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّؕ-ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ(۱۹)  ( پ۲۶،   ق :  ۹ )

ترجمۂ کنز الایمان :   اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا  ۔

            توآپ اسے ٹھہر ٹھہر کر بار بارپڑھنے اور آنسوبہانے لگے  ۔  ‘‘   ( [1] )

زبان کی حفاظت :  

 ( 1157 ) … حضرت سیِّدُناسَعِیْدجُرَیْرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی ایک شخص سے روایت کرتے ہیں   کہ اس نے دیکھا کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَااپنی زبان کی نوک ہاتھ سے پکڑ کرفرمارہے ہیں : ’’ تجھ پر

 

 اَفسوس ہے ! اچھی بات کہہ کہ اسی میں   تیرا فائدہ ہے اور بری بات سے خاموش رَہ کہ اسی میں   تیری سلامتی ہے ۔  ‘‘  دیکھنے والے نے اس کی وجہ دریافت کی توفرمایا :  ’’  مجھے خبرملی ہے کہ قیامت کے دن آدمی اپنی زبان کی وجہ سے سب سے زیادہ خسارہ اُٹھائے گا ۔  ‘‘  ( [2] )

مسلمانوں   کی خیرخواہی کاجذبہ :  

 ( 1158 ) … حضرت سیِّدُناعِکْرِمَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا :  ’’ مجھے کسی مسلمان گھرانے کی مہینہ بھریا ہفتہ بھریا جتنے دن اللہعَزَّوَجَلَّ چاہے اتنے دن کفالت کرنا نفلی حج کرنے سے زیادہ محبوب ہے اور میں   اپنے کسی مسلمان بھائی کو اللہعَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے ایک دَانِق  ( یعنی درہم کے چھٹے حصہ ) کے برابرمال ہدیہ کروں   یہ مجھے اللہعَزَّوَجَلَّ کے راستے میں   دینار خرچ کرنے سے زیادہ پسند ہے ۔  ‘‘   ( [3] )

 درہم ودیناربننے پر شیطان کی خوشی :  

 ( 1159 ) … حضرت سیِّدُناضَحَّاک  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الرَّزَاق سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناا بن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا :  جب درہم ودیناربنائے گئے تو ابلیس نے انہیں   پکڑ کر اپنی آنکھوں   سے لگایا اور کہا: ’’ تم میرے دل کی غذا اور آنکھوں   کی ٹھنڈک ہو ۔  میں   تمہارے ذریعے لوگوں   کو سرکش وکافر بناؤں   گا اور تمہاری وجہ سے میں   لوگوں   کو جہنم میں   داخل کراؤں  گا



[1]    فضائل الصحابۃ للامام احمدبن حنبل ،  فضائل عبداﷲ بن عبَّاس ،  الحدیث : ۱۸۴۰ ، ج۲ ، ص۹۵۰۔

[2]    الزھد للامام احمدبن حنبل ،  اخبارعبداﷲ بن عبَّاس ،  الحدیث : ۱۰۴۷ ،  ص۲۰۶۔

[3]    صفۃ الصفوۃ ،  الرقم۱۱۹عبداﷲ بن العبَّاس بن عبدالمطلب ، ج۱ ، ص۳۸۴۔



Total Pages: 273

Go To