Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

۔  ‘‘   ( [1] )

 ( 51 ) … حضرت سیِّدُناعبد الرحمن بن مجیب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمُجِیْب  سے صوفی کے متعلق پوچھا گیا :  تو فرمایا :  ’’  صوفی اپنے نفس کو ذبح کرنے والا،  اپنی خواہشات کو رسوا کرنے والا،  اپنے دشمن  ( شیطان )  کو نقصان پہنچا نے والا ،   مخلوق کو نصیحت کرنے اور ہمیشہ خوفِ خدا رکھنے والا ہوتا ہے ۔  عمل کو ٹھیک طور انجام دیتا اور اُمیدو ں   سے دور رہتاہے ،   بگاڑ دور کرتااور لغزشوں   سے در گزر کرتا ہے ۔  اس کا عذرسر مایہ،   اس کا ہنر غم ،   اس کی زندگی سراپا قناعت ،   حق کوپہچا ننے والا،  اللہ عَزَّوَجَلَّکے دروازے پرڈیرہ جمانے والا ،   ہر چیز سے بے نیاز رہنے والا،   نیکی کی کاشت کرنے والا،   محبت کا درخت لگانے والا اور اپنے وعدہ کی حفاظت کرنے والا ہوتا ہے ۔  ‘‘

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہاَصْفَہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِیفرماتے ہیں  :  ’’ میں   نے اس کتاب کے علاوہ دوسری کتاب میں   مشائخ   کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام کے تصوف کے متعلق کثیر جوابات اورمختلف عبارتوں   کو  ذکر کر دیاہے جن میں   سے ہر ایک نے تصوف کو اپنے حال کے مطابق بیان کیا ہے  ۔

کلام صوفیہ کی تین اَقسام

          صوفیہ کا کلام تین اقسام پر مشتمل ہوتا ہے :  

             ( ۱ ) …  توحید کی دعوت دینا ۔  ( ۲ )  … مراد ومراتب کے بارے میں   کلام کرنا ۔

              ( ۳ )  … مرید اور اس کے احوال کے بارے میں   کلام کرنا ۔

             پھر ہر قسم بے شمار مسائل و فرو عا ت پرمشتمل ہے لہٰذا صوفیہ کا سب سے پہلا اُصول اللہ تبارک وتعالیٰ کا عر فان حاصل کرناہے اور پھراس  کے اَحکام پر اپنے آپ کو ثابت قدم رکھنا اور اس پر ہمیشگی اختیار کرنا ہے ۔ چنانچہ، 

 ( 52 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن عباس  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ جب رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنامُعا ذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو یمن کی طرف بھیجا تو ارشاد فرمایاـ :   ’’  تم اہل کتاب کی طر ف جارہے ہو لہٰذا سب سے پہلے تم انہیں   اللہعَزَّوَجَلَّکی عبادت کی دعوت دینا ،  جب انہیں  اللہ َزَّوَجَلَّ کا عرفان حاصل ہو جائے تو پھر انہیں   بتا نا کہاللہعَزَّوَجلَّ نے ان پر دن رات میں   پانچ نمازیں   فر ض فرمائی ہیں   ۔  اور جب وہ نمازوں  کی پابندی کرنے والے بن جائیں  توپھرانہیں   یہ خبردیناکہاللہ عَزَّوَجَلَّنے ان پر زکوٰۃ فرض فرمائی ہے جو ان کے اغنیا کے اموال سے لے کر انہی کے فقرا میں   تقسیم کر دی جائے گی ۔  ‘‘  ( [2] )

  ( 53 )  … حضرت سیِّدُناعبداللہبن مِسور رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبیان فرماتے ہیں :  ایک شخص نے شہنشاہِ مدینہ،   قرارِ قلب و سینہ،   صاحبِ معطر پسینہ،   باعثِ نُزولِ سکینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں   حاضر ہوکر عرض کی:  ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  مجھے نادر علوم میں   سے کچھ سکھا دیجئے !  ‘‘ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  تم نے اصل علم میں   کیا سیکھا ہے جو نادر علوم طلب کر رہے ہو  ؟  ‘‘  اس نے عرض کی :   ’’ اصل علم کیا ہے ؟  ‘‘  ارشاد فرمایا :  ’’  کیا تم نےاللہعَزَّوَجَلَّکی معرفت حاصل کرلی ہے  ؟  ‘‘  اس نے عرض کی :   ’’ جی ہاں   !  ‘‘  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :  ’’  پھر تم نے اس کا کتنا حق ادا کیا ہے  ؟  ‘‘  اس نے عرض کی :  ’’  جتنا اللہعَزَّوَجَلَّنے چاہا اتنا اداکیا ہے ۔  ‘‘  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استفسار فرمایا :  ’’  کیا تم نے موت کو پہچان لیاہے ؟  ‘‘  اس نے جواب دیا :  ’’  جی ہاں   !  ‘‘ فرمایا :  ’’ تم نے اس کے لئے کس قدرتیاری کی ؟  ‘‘ اس نے عرض کی :  ’’ جتنی اللہ  عَزَّوَجَلَّنے چاہی اتنی میں   نے موت کی تیاری کرلی ہے ۔  ‘‘ توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’ جاؤ پہلے ان چیزوں   کو پختہ کرو پھر آنا میں   تمہیں   نادر علوم سکھادو ں   گا ۔  ‘‘     ( [3] )

تَصَوُّف کے بُنْیَادی اَرکان

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہاَصْفَہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِیفرماتے ہیں :  ’’ حقیقی تصوُّف کی بنیاد چا ر ارکان پر ہے :   ( ۱ ) … اللہعَزَّوَجَلَّاور اس کے اسما،   صفات و افعال کی معرفت  ۔  ( ۲ ) … نفس ،   اس کی برائیوں   اور ان برائیوں   کی طرف لے جانے والے اسباب کی معرفت نیز دشمن ( یعنی شیطان ) کے وساوس،  مکرو فریب اور گمراہیوں   کی معرفت ۔  ( ۳ ) …  دنیاکی معرفت،  اور اس بات کی معرفت کہ دنیا ایک دھوکہ ہے ،  دنیا فانی ہے،   اس کی رنگینیاں   عارضی ہیں   نیز اس سے بچنے اوردور رہنے کے طریقوں   کی معرفت ۔  ( ۴ ) … ان کی معرفت کے بعد اپنے نفس کو ہمیشہ مجاہد ہ اور سخت مشقت کا عادی بنائے،  اپنے اوقات کی حفا ظت کرے ،   طا عت کو غنیمت سمجھے ،   راحت وآرام اور لذات سے کنارہ کشی اختیار کرے ،  کرامات کی حفاظت کرے لیکن معاملات سے ناطہ نہ توڑے اور نہ بے جا   تَأْوِیْلَات کی طرف مائل ہو بلکہ دنیاوی تعلقات سے بے رغبت ہوکر ہر چیز سے اعراض کرلے اور تمام غموں  کوایک ہی غم گمان کرے،  مال ومتاع میں  اضافے سے دامن چھڑائے ،   مہاجرین وانصار کی پیروی کر ے،  زمین وجائیداد سے کنارہ کشی اختیار کرے ،   راہِ خدا میں   خرچ وایثار کرنے کو تر جیح دے ،   اپنے دین کی حفاظت کی غرض سے پہاڑوں  ا ور جنگلوں   کی طرف نکل جائے،   بلا ضرورت نگاہیں   اٹھائے اِدھر اُدھر دیکھنے سے اجتناب کرے کہ اس کی وجہ سے اس کی طر ف اُنگلیاں   اُٹھیں   کیونکہ یہ چیز انوار وبر کات سے دو ری کا با عث ہے ۔  پس انہیں   صفات سے متصف لوگ متقی ،  گوشہ نشین،  اپنے دین کی حفاظت کے لیے بھاگنے والے اور اعلیٰ کردار کے مالک ہوتے ہیں   ان کا عقیدہ درست اور باطن محفو ظ ہوتا ہے ۔ چنانچہ، 

 ( 54 ) … حضرت سیِّدُناسعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاپنے والدسے روایت کرتے ہیں   کہ سرکارِ مدینہ،   راحتِ قلب وسینہ،  فیض گنجینہ،  صاحب معطر پسینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ



[1]    الرسالۃ القشیریۃ  ،  باب التصوف ، ص۳۱۳ ، بتغیرٍ۔

[2]    صحیح مسلم  ،  کتاب الایمان  ،  باب الدعاء الی الشھادتین و شرائع الاسلام  ،  الحدیث : ۱۲۳ ، ص۶۸۴۔

[3]    الزھد لوکیع ،  باب الاستعداد للموت  ،   الحدیث  ۱۲ ، ج ۱ ، ص۱۷۔



Total Pages: 273

Go To