Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 1145 ) … حضرت سیِّدُناابونَضْرَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبد اللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :  ’’ قیامت سے پہلے ایک پکارنے والاپکارے گا :  ’’ قیامت قائم ہوگئی،  قیامت قائم ہوگئی ۔  ‘‘  یہاں   تک کہ ہر زندہ اور مردہ یہ پکار سنے گا ۔ اس کے بعدپھرایک ندادینے والا فرمائے گا :   لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَؕ-لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ(۱۶) ( پ۲۴،    المؤمن :  ۱۶ )  ترجمۂ کنزالایمان :  آج کس کی بادشاہی ہے ایک اللہ سب پر غالب کی  ۔  ‘‘    ( [1] )

 

 ( 1146 ) … حضرت سیِّدُناشَقِیْق رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے ہمیں   حج کے دنوں   میں  خطبہ دیا ۔  چنانچہ،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسورۂ بقرہ کی تلاوت کرنے اور اس کی تفسیربیان کرنے لگے ۔  میں   کہنے لگا کہ میں   نے ان جیسا کلام کرتے نہ کسی آدمی کو دیکھانہ سنا،   اگر اہلِ فارس واہلِ روم اس کلام کو سن لیں   تو ضرور اسلام قبول کر لیں   ۔  ‘‘    ( [2] )

ایک گناہ کئی گناہوں   کاسبب ہوتاہے :  

 ( 1147 ) … حضرت سیِّدُناضَحَّاک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الرَّزَّاق سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا :  ’’ اے گناہ کرنے والے !  گناہ کے برے اَنجام سے بے خوف مت رہ اور اگرتواسے سمجھے توجوگناہ کے نتیجے میں   ہوتاہے وہ ضرور اس گناہ سے زیادہ بڑاہوتاہے ۔ چنانچہ،  اِرْتِکابِ گناہ کے وقت تیرا کراماًکاتبین سے حیانہ کرنا ۔ اس گناہ سے بڑھ کرہے جو تو کرتا ہے ۔  تیرا ہنسنا جبکہ تو نہیں   جانتا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  تیرے ساتھ کیسامعاملہ فرمانے والا ہے اس گناہ سے عظیم تر ہے ۔  تیرا گناہ کرنے میں   کامیابی ملنے پرخوش ہوناگناہ کرنے سے بڑھ کر ہے ۔ تیرا گناہ میں   کامیابی نہ ملنے پرغمگین ہونا اس گناہ سے بڑھ کرہے جس کا تو اِرتکاب کرتا ہے اورجب تو گھر میں   پردے لٹکائے گناہ میں   مصروف ہوکہ ہوا سے پردے ہلنے لگیں   تو تُوڈرجائے لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّجوتمہیں   دیکھ رہا ہے اس سے تیرے دل کا پریشان ومضطرب نہ ہونا اس گناہ سے عظیم ترہے جس کاتوارتکاب کرتاہے ۔  تیرا ناس ہو !  کیا تجھے معلوم ہے کہ حضرت سیِّدُنااَیوب عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃوَالسَّلَام کی کس لغزش کی وجہ سےاللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں   جسم کی بیماری اورمال کے ختم ہونے کی آزمائش  ( [3] )میں   مبتلا فرمایا تھا ؟ بس یہی کہ ایک مظلوم مسکین نے اپنے ظلم کو دور کرنے

 

کے لئے آپ عَلَیْہِ السَّلَام سے مدد طلب کی تھی لیکن آپ عَلَیْہِ السَّلَاماس کی مدد نہ کر سکے،  نہ ہی ظالم کو نیکی کرنے اور مسکین پرظلم سے بازرہنے کی تلقین کی ۔  چنانچہ،   اللہ عَزَّوَجَلَّنے انہیں   آزمائش میں   مبتلا فرما دیا  ۔  ‘‘   ( [4] )

تقدیرمیں   جھگڑنے والوں   پرانفرادی کوشش :  

 ( 1149 ) … حضرت سیِّدُناوَہْب بن مُنَبِّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کوکسی نے خبردی کہ بابِ بنی سہم کے پاس کچھ لوگ مسئلۂ تقدیر پر جھگڑ رہے ہیں   ۔  چنانچہ،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہان کے پاس جانے کے لئے اُٹھے ۔  اپنی لاٹھی حضرت عِکْرِمَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو دی ۔  پھر اپنا ایک بازو حضرت عِکْرِمَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے کندھے پر اور دوسرا حضرت طاؤس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہکے کندھے پر رکھا ۔  جب ان کے پاس پہنچے تو اُنہوں   نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے لئے جگہ کشادہ کر دی ۔ خوش آمدید کہا لیکن آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہان کے پاس نہ بیٹھے  ۔

            حضرت سیِّدُناابوشِہَاب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْوَھَّاب اپنی روایت میں   بیان کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ان لوگوں   سے فرمایا :  ’’ تم اپنا نسب بیان کرو تا کہ میں   تمہیں   پہچان لوں   ۔  ‘‘  تو انہوں   نے اپنا اپنا نسب بیان کیا یا ان میں   سے ایک شخص نے ان کانسب بیان کیا توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  کیا تمہیں   معلوم نہیں   کہ اللہعَزَّوَجَلَّکے کچھ بندے ایسے ہیں   جنہیں   اللہعَزَّوَجَلَّکے خوف وخشیت نے خاموش کر رکھا ہے حالانکہ وہ لوگ گونگے ہیں   نہ کلام کرنے سے عاجز،   وہ ایسے عُلما،   فصحا،  شگفتہ وشیریں   کلام اورمعززلوگ ہیں   جو اللہ

 

 



[1]    المستدرک ،  کتاب التفسیر ،  تفسیرسورۃ حمٓ المؤمن ،  باب الحوامیہم دیباج القرآن ،  الحدیث : ۳۶۸۹ ، ج۳ ، ص۲۲۴۔

[2]    المستدرک ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  باب رای ابن عبَّاس جبریل فی بیت النبی ،  الحدیث : ۶۳۴۴ ، ج۴ ، ص۶۹۲ ،    ’’سورۃ البقرۃ‘‘بدلہ ’ ’سورۃ النور‘‘۔

[3]    حضرت سیِّدُنااَیوب عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَامکی آزمائش کوصدرالافاضل ،  حضرت سیِّدُنانعیم الدین مرادآبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْہَادِی یوں   بیان فرماتے ہیں   کہ ’ ’اللہ تعالیٰ نے آپعَلَیْہِ السَّلَامکوہرطرح کی نعمتیں   عطافرمائی ہیں   ،  حسنِ صورت بھی ،  کثرتِ اولاد بھی ،  کثرتِ اموال بھی۔ اللہتعالیٰ نے آپ کو ابتلاء میں   ڈالا اور آپ کے فرزند واولاد مکان کے گرنے سے دب کر مر گئے ،  تمام جانور جس میں   ہزارہا اونٹ ،  ہزارہا بکریاں   تھیں   سب مر گئے ،  تمام کھیتیاں   اورباغات برباد ہو گئے ،  کچھ بھی باقی نہ رہا اور جب آپ کوان چیزوں   کے ہلاک ہونے اور ضائع ہونے کی خبر دی جاتی تھی توآپ حمدِ الٰہی بجا لاتے تھے اور فرماتے تھے میراکیاہے جس کا تھا اس نے لیاجب تک مجھے دیا اور میرے پاس رکھا اس کاشکرہی ادانہیں   ہوسکتامیں   اس کی مرضی پرراضی ہوں   پھرآپ بیمارہوئے تمام جسم شریف میں   آبلے پڑے بدن مبارَک سب کاسب زخموں   سے بھرگیاسب لوگوں   نے چھوڑدیابجزآپ کی بی بی صاحبہ کے کہ وہ آپ کی خدمت کرتی رہیں   اور یہ حالت سالہاسال رہی آخرکارکوئی ایسا سبب پیش آیا کہ آپ نے بارگاہ الٰہی میں   دعا کی۔‘‘اللہتعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ’’ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ ترجمۂ کنزالایمان :  تو ہم نے اس کی دعا سن لی تو ہم نے دور کردی جو تکلیف اسے تھی ۔‘‘اس طرح کہ حضرت ایوب عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا کہ آپ زمین میں   پاؤں   ماریئے انہوں   نے پاؤں   مارا ایک چشمہ ظاہر ہوا  ،  حکم دیا گیا اس سے غسل کیجئے غسل کیا تو ظاہر بدن کی تمام بیماریاں   دور ہو گئیں   پھر آپ چالیس قدم چلے پھر دوبارہ زمین میں   پاؤں   مارنے کا حکم ہوا پھر آپ نے پاؤ ں   مارا اس سے بھی ایک چشمہ ظاہر ہوا جس کا پانی نہایت سرد تھا  ،  آپ نے بحکمِ الٰہی پیا اس سے باطن کی تمام بیماریاں   دور ہو گئیں   اور آپ کو اعلیٰ درجہ کی صحت حاصل ہوئی ۔‘‘  ( تفسیرخزائن العرفان ،  پ۱۷ ،  الانبیاء ،  تحت الایہ : ۸۳ ) 

[4]    تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر ،  الرقم۸۴۸ایوب نبی علیہ السلام ، ج۱۰ ، ص۶۰۔



Total Pages: 273

Go To