Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 1130 ) … حضرت سیِّدُناعطاء رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ میں   نے کبھی کوئی گھرایسا نہیں  دیکھاجہاں   حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے گھر سے زیادہ لوگوں   کوکھلایاپلایاجاتاہو ۔  ‘‘  

 ( 1131 ) …  حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی حسین رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ میں   نے کوئی گھر ایسانہیں   دیکھاجہاں  حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے گھرسے زیادہ لوگوں  کوکھانا،  پانی ،   پھل فروٹ اورعلم سیکھنا میسر آیاہو ۔  ‘‘

 ( 1132 ) … حضرت سیِّدُنا عثمان بن ابی سُلَیْمَانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ایک ہزار درہم کا لباس خرید کر زیبِ تن فرمایا ۔ ( [1] )

گالی دینے والے پرنرمی :   

 ( 1133 ) … حضرت سیِّدُناابنِ بُرَیْدَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ

 

بن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکوگالی دی توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’  تم مجھے گالی دے رہے ہو جبکہ مجھ میں   تین خصلتیں   ہیں   ۔ میں   کتابُ اللہکی ایک آیت کی تلاوت کرتا ہوں   تو میں   چاہتا ہوں   کہ اس آیت کے بارے میں   جو میں   جانتا ہوں  اسے سب جان لیں   اورجب میں   سنتا ہوں  کہ کوئی مسلمان حکمران عدل و انصاف پر مبنی فیصلہ کرتا ہے تو مجھے خوشی ہوتی ہے اگرچہ میں   کبھی اس سے اپناکوئی فیصلہ نہ کرواؤں  اورجب مسلمانوں   کے کسی شہرپربارش برسنے کاسنتا ہوں   تو مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے اگرچہ میرے جانوروہاں   نہ چرتے ہوں   ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 1134 ) … حضرت سیِّدُناسعیدبن جُبَیْررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا :  ’’ اگرفرعون بھی مجھے کہے کہ اللہعَزَّوَجَلَّتجھے برکت دے تو میں   ضرورکہوں   کہ ’’  اورتجھے بھی ( اللہعَزَّوَجَلَّہدایت دے )   ۔  ‘‘    ( [3] )

آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے ارشادات

 ( 1135 ) … حضرت سیِّدُنا مجاہدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَاحِدسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا :  ’’ اگرایک پہاڑ دوسرے پہاڑ پر ظلم وزِیادتی کرنے پر اُترآئے تو سرکشی کرنے والا پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر ہموار ہو جائے ۔  ‘‘    ( [4] )

کثرتِ اَموات کاایک سبب :  

 ( 1136 ) … حضرت سیِّدُناحَسَن بن مُسْلِم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا :  ’’ جس قوم میں   بھی ظلم ظاہر ہوتا ہے اس میں   کثرت سے اموات واقع ہوتی ہیں   ۔  ‘‘   ( [5] )

بادشاہ کاخوف ہوتوکیاپڑھاجائے :  

 ( 1137 ) … حضرت سیِّدُناسعیدبن جُبَیْررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عبَّاس

 

رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا :  ’’ جب تم کسی ظالم بادشاہ کے پاس جاؤ اوراس کے ظلم کااندیشہ ہوتوتین مرتبہ یہ پڑھ لیا کرو :  

            اللہ اَکْبَرُ،   اللہ اَعَزُّمِنْ خَلْقِہٖ جَمِیْعًا،   اللہ اَعَزُّمِمَّا اَخَافُ وَاَحْذَرُ،   اَعُوْذُ بِاللہ الَّذِیْ لَا اِلٰـہَ اِلَّا ہُوَالْمُمْسِکُ لِلسَّمٰوَاتِ السَّبْعِ اَنْ تَقَعَ عَلَی الْاَرْضِ اِلَّابِاِذْنِہٖ مِنْ شَرِّعَبْدِہٖ فُـلَانٍ،   وَجُنْدِہٖ وَاَتْبَاعِہٖ وَاَشْیَاعِہٖ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ،    اللہمَّ کُنْ لِیْ جَارًا  مِّنْ شَرِّھِمْ جَلَّ ثَنَاؤُکَ وَعَزَّجَارُکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَلَااِلٰـہَ غَیْرُک.

                یعنی :  اللہعَزَّوَجَلَّسب سے بڑا ہے ۔  اللہعَزَّوَجَلَّاپنی ساری مخلوق پر غالب ہے ۔  اللہعَزَّوَجَلَّ اس پربھی غالب ہے جس سے میں   خوفزدہ ہوں   ۔ میں   فلاں   بندے اورفلاں  کی جماعت اور اس کے پیروکار جن وانس کے شرسے اللہعَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتا ہوں   ۔ جس کے سوا کوئی معبودنہیں   ۔  جوساتوں   آسمانوں   کو زمین پر گرنے سے روکے ہوئے ہے مگراسی کے حکم سے ۔ اے اللہعَزَّوَجَلَّ !  توان کے شرسے مجھے اپنی پناہ عطافرما ۔ توجلیل الشان ہے ۔  تیری پناہ والا ہی غالب ہے ۔  تیرانام برکت والا ہے اور تیرے سوا کوئی معبودنہیں   ۔  ‘‘   ( [6] )

مختلف اَذکارکی برکات :  

 ( 1138 ) …  حضرت سیِّدُناضَحَّاک  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الرّزَّاقَ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا :  ’’ جس نے ’’ بِسْمِ اللہ ‘‘ پڑھی اس نے اللہعَزَّوَجَلَّکاذکرکیا ۔ جس نے ’’ اَلْحَمْدُلِلّٰہ ‘‘  کہا اس نے اللہعَزَّوَجَلَّ کا شکر اداکیا ۔  جس نے ’’  اللہ اَکْبَر ‘‘ کہا اس نے اللہعَزَّوَجَلَّکی بڑائی بیان کی ۔  جس نے ’’ لَااِلٰـہَ اِلَّااللہ ‘‘  پڑھا اس نے



[1]    فضائل الصحابۃ للامام احمدبن حنبل ،  فضائل عبداﷲ بن عبَّاس ،  الحدیث : ۱۹۱۲ ، ج۲ ، ص۹۷۲ ، بدون ’ ’درہم فلبسہ۔

[2]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۱۰۶۲۱ ، ج۱۰ ، ص۲۶۶۔

[3]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الادب ،  باب فی الیہودی والنصرانی یدعی لہ ،  الحدیث : ۳ ، ج۶ ، ص۱۵۰۔