Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

اَجْمَعِیْنکے ایک گروہ میں   تشریف فرما تھے  وہ ایک دوسرے سے شب قدرکا تذکرہ کرنے لگے ۔  پس شبِ قدر سے متعلق جس نے جو سناتھابیان کردیا ۔ ان سب نے اس رات کے بارے میں   مختلف اقوال بیان کئے ۔ امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ اے ابن عبَّاس !  آپ کیوں   خاموش ہیں   ؟  بیان کریں   اور کم عمری کی وجہ سے خاموش مت رہیں   ۔  ‘‘  میں   نے عرض کی :  ’’  اے امیرالمومنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  بے شک اللہعَزَّوَجَلَّطاق ہے اورطاق کو پسند فرماتا ہے  ۔  چنانچہ،   اللہعَزَّوَجَلَّنے دنیاکی زندگی کو اس طرح بنایاہے کہ وہ سات کے عددکے گرد گھومتی ہے ۔  انسان کی تخلیق سات چیزوں   سے فرمائی ۔  ہمارا رزق سات چیزوں   میں   رکھا ۔ ہمارے اُوپرسات آسمان بنائے اورنیچے سات زمینیں   بنائیں   ۔  سورۂ فاتحہ کی باربارتلاوت کی جانے والی سات آیات نازل فرمائیں   ۔  قرآنِ حکیم میں   سات قسم کے  ( نسبی )  رشتوں   سے نکاح ممنوع و حرام ٹھہرایا ۔ قرآنِ کریم میں   وراثت کو سات قسم کے ورثاء کے لئے بیان فرمایا ۔  ہم سجدہ بھی سات اعضاء پر کرتے ہیں   ۔  حضورنبی ٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے طوافِ کعبہ کے سات پھیرے لگائے ۔  صفاومروہ کے درمیان سعی کے سات چکر لگائے اور جمرات کی رمی بھی سات کنکریوں   سے فرمائی ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّکے حکم کوبجالانے کے لئے جواس نے اپنی کتاب میں   فرمایا ہے ۔  لہٰذا میرا خیال ہے کہ لَیْلَۃُ الْقَدْربھی رمضان المبارَک کی آخری سات راتوں   میں   ہوتی ہے ۔  وَاللہ اَعْلَم یعنی اور اللہعَزَّوَجَلَّ بہترجانتاہے ۔  ‘‘  

             یہ سن کرامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبڑے حیران ہوئے اورفرمایا :   ’’ اس لڑکے کی اَعلیٰ صلاحیتوں   کی کوئی مثال نہیں   ۔  اس کے سواکسی نے اس فرمانِ مصطفیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں   میری

 

موافقت نہیں   کی کہ ’’  لیلۃ القدرکوماہِ رمضان کی آخری 10 راتوں   میں   تلاش کرو ۔  ‘‘  پھر فرمایا :   ’’ اے لوگو !  عبداللہبن عبَّاس کی طرح کون میری تائید کرتا ہے ؟  ‘‘    ( [1] )

علم تفسیرمیں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کامقام :  

 ( 1124 ) … حضرت سیِّدُنا ابوبکرہُذَلی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَلِی فرماتے ہیں : میں   حضرت سیِّدُناحَسَن بَصْرِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی کے پاس گیاتوانہوں   نے فرمایا :   حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا تفسیرِقرآن میں   اِمتیازی مقام رکھتے تھے ۔ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہان  کے بارے میں  فرمایاکرتے تھے کہ ’’   تم اس پختہ عمرکے جوان  کی صحبت میں   رہا کرو کہ یہ بہت سوال کرنے والی زبان اوربہت سمجھدار دل کا مالک ہے ۔  ‘‘ اورفرمایا :  ’’ وہ  ہمارے اس منبرپرجلوہ افروزہواکرتے تھے  ( راوی فرماتے ہیں : شایدیہ شبِ عرفہ ہوتاتھا ۔  )  اور سورۂ بقرہ اورسورۂ آل عمران کی تلاوت کرکے ایک ایک آیت کی تفسیر بیان فرما یاکرتے اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے کلام کی سلاست ورَوانی بے مثال تھی ۔  ‘‘    ( [2] )

تین باتوں   کی نصیحت :  

 ( 1125 ) … حضرت سیِّدُناعَامِرشَعْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کرتے ہیں   کہ ان کے والدحضرت سیِّدُنا عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے انہیں   نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :   ’’ اے میرے بیٹے ! میں   دیکھ رہا ہوں   کہ امیرالمومنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ تمہیں  صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنکے ساتھ اپنے پاس بلاتے،   قریب بٹھاتے اورتم سے مشورہ بھی کرتے ہیں   ۔ پس تم اللہعَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور میری تین باتیں   یادرکھو :   ( ۱ )  امیرالمومنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے سامنے کبھی بھی تم سے ذرّہ برابرجھوٹ صادرنہ ہو  ( ۲ ) کبھی ان کاراز کسی پرظاہرنہ کرنا اور  ( ۳ ) نہ ان کے پاس کسی کی غیبت کرنا ۔  ‘‘

 

            حضرت سیِّدُناعَامِرشَعْبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہ الْقَوِی فرماتے ہیں :  میں   نے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے عرض کی کہ ’’  ان میں   سے ہربات ایک ہزار ( درہم ودینار ) سے بڑھ کرہے ۔  ‘‘ توانہوں   نے فرمایا :   ’’ نہیں   ! بلکہ میرے نزدیک ان میں   سے ہربات کی قیمت 10 ہزارسے بڑھ کرہے ۔  ‘‘    ( [3] )

خارجیوں   کو منہ توڑجوابات :  

 ( 1126 ) … حضرت سیِّدُنااَبوزُمَیْلحَنَفِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :  جب خارجیوں   نے اہلِ حق کا ساتھ چھوڑ دیا اورعلیحدہ ہوگئے تومیں  نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی خدمت میں   عرض کی :  ’’ نمازِ ظہر کو ٹھنڈاکرلیں   تاکہ میں   ان لوگوں   کے پاس جا کر ان سے بات کرسکوں   ۔  ‘‘ امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ مجھے تم پران کی طرف سے نقصان کاخوف ہے ۔  ‘‘ میں   نے عرض کی :  ’’  اِنْ شَاءَ اللہعَزَّوَجَلَّ ایسا ہر گز نہیں   ہو گا ۔  ‘‘  

            چنانچہ،  میں   عمدہ یمنی لباس پہن کر ان کے پاس گیا ۔  دیکھا کہ وہ عین دوپہرکے وقت قیلولہ کررہے ہیں   اورمیں   نے ان جیسی عبادت وریاضت کرنے والے لوگ نہیں   دیکھے تھے کیونکہ ( کثرت عبادت کے سبب )  ان کے ہاتھ اُونٹ کے گھٹنوں  کی طرح سخت ہوچکے تھے اور چہروں   پر سجدوں   کے نشان نمایاں   تھے ۔ میں   ان کے پاس پہنچا تو انہوں   نے مجھے خوش آمدید کہتے ہوئے آنے کی وجہ پوچھی تو میں  نے کہا :   ’’ میں   تم سے ایک بات کرنے آیاہوں   اور وہ یہ کہ پیارے مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنکے زمانے میں   وحی اترتی تھی اوروہ اس کی تأویل وتفسیر کو بہترجانتے ہیں   ۔  ‘‘  اتنے میں   ایک کہنے لگا :  ’’ ان سے بات مت کرو ۔  ‘‘  لیکن دوسرے بولے :  ’’ ہم ان سے ضرور بات کریں   گے ۔  ‘‘  پھر میں   نے ان سے کہا :   ’’ مجھے یہ بتاؤ کہ تم لوگ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا زاد بھائی،   آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے داماد اور ( بچوں   میں   )   آپصَلَّی اللہ



[1]    صحیح ابن خزیمۃ ،  کتاب الصیام ،  باب الامربالتماس لیلۃ القدرالخ ،  الحدیث : ۲۱۷۲ ، ج۳ ، ص۳۲۲۔

                المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۲۰۶۱۸ ، ج۱۰ ، ص ۲۶۴۔ صحیح البخاری ،  کتاب فضل لیلۃ القدر ،  باب تحری لیلۃ القدر فی الوترالخ ،  الحدیث : ۲۰۲۱ ، ص۱۵۷۔

[2]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۱۰۶۲۰ ، ج۱۰ ، ص۲۶۵۔

[3]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۱۰۶۱۹ ، ج۱۰ ، ص۲۶۵۔

                المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الادب ،  باب مایؤمربہ الرجل فی مجلسہ ،  الحدیث : ۱ ، ج۶ ، ص۱۱۳