Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

نہیں   دے سکتے اور جو شے اللہعَزَّوَجَلَّنے تیرے مقدرمیں   لکھ دی ہے اسے سب لوگ مل کر بھی تجھ سے نہیں   روک سکتے ۔  لہٰذا اللہعَزَّوَجَلَّکی رِضا کے لئے یقین کے ساتھ عمل کرو اور جان لو کہ ناگوار چیز پر صبر کرنا بہت زیادہ بھلائی کاکام ہے اور مدد صبر کرنے سے حاصل ہوتی ہے  ۔  وُسعت وکشادگی تنگی کے

 

ساتھ ہوتی ہے اور ہر تنگی کے بعد آسانی ہے ۔  ‘‘    ( [1] )

مدنیآقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دُعاؤں   سے نوازا

علم وفہم میں   ترقی کی دُعا :  

 ( 1111 ) … حضرت سیِّدُناکُرَیْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا :  ایک مرتبہ رات کے پچھلے پہرمیں  حضورنبی ٔپاک،   صاحبِ لَوْلاک،   سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے پیچھے نماز پڑھنے لگا تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے اپنے برابر کر لیا ۔  نماز سے فراغت کے بعدمیں   نے عرض کی :   ’’ کیاآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے برابر کھڑے ہو کر نماز پڑھنا کسی کو رَوا ہو سکتا ہے جبکہ آپ اللہعَزَّوَجَلَّکے رسول ہیں   ۔  اللہعَزَّوَجَلَّنے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بلند مقام عطا فرمایا ہے ؟  ‘‘  فرماتے ہیں : ’’  ( میرا اَدب ملاحظہ فرما کر )  حضورنبی ٔ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بارگاہِ خداوندی میں   میرے لئے علم وفہم میں   ترقی کی دُعا فرمائی ۔  ‘‘    ( [2] )

حکمت ودانائی کی دُعا :  

 ( 1112 ) … حضرت سیِّدُنا عبدالمومِن اَنصاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْبَارِی سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :  میں  حضورنبی ٔکریم ،   رَء ُوفٌ رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تھاکہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مشکیزے کی طرف بڑھے ۔ وضو فرمایا پھر کھڑے کھڑے پانی نوش فرمایا ( [3] )    تو میں   نے ارادہ کر لیاکہ اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم !  میں   بھی اسی طرح کروں   گا ۔  چنانچہ،   میں   اُٹھا وضو کیا اور پھر کھڑے کھڑے پانی پیا اور حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے صف میں   کھڑا ہو گیا ۔  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے اپنے برابردائیں   جانب کھڑے ہونے کااشارہ فرمایامگرمیں   کھڑانہ ہوا ۔  نماز مکمل کرنے کے بعد استفسار فرمایا :   ’’ میرے برابر

 

کھڑا ہونے سے تمہیں   کس چیزنے روکا ؟  ‘‘  میں   نے عرض کی :   ’’  یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  میرے دل میں   جو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عزت وجلالت کی شمع روشن ہے اس نے مجھے اس سے باز رکھا ۔  ‘‘ یہ سن کر حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دُعا کی :  ’’ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !  اسے حکمت ودانائی عطا فرما ۔  ‘‘    ( [4] )

علم وحکمت کی دُعا :  

 ( 1113 ) …  حضرت سیِّدُناعِکْرِمَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :  ’’ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے اپنے سینۂ اَقدس سے لگاکرمیرے لئے علم وحکمت کی دُعا فرمائی ۔  ‘‘    ( [5] )

برکت کی دُعا :  

 ( 1114 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :  حضور نبی ٔمُکَرَّم،  نُورِمُجسَّم،  شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے حضرت سیِّدُناعبد اللہبن عبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے لئے یہ دعافرمائی کہ ’’ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !  اسے برکت عطا فرما اور اشاعتِ دین کا ذریعہ بنا ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 1115 ) … حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضورنبی ٔ کریم،  رَء ُ وفٌ رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گھرسے باہرتشریف لائے توحضرت سیِّدُناعبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہملے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :  ’’ اے ابوالفضل ! میں   تمہیں   خوشخبری نہ سناؤں   ؟  ‘‘  انہوں   نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! کیوں   نہیں   ۔  ‘‘  ارشاد فرمایا :  ’’ بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّنے میرے ذریعے اس امرکی اِبتدا فرمائی اور تیری اَولاد کے ذریعے اس کی تکمیل فرمائے گا ۔  ‘‘

 ( 1116 ) … حضرت سیِّدُناجابِربن عبد اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن،   رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :   ’’ عبَّاس کی اَولادمیں   سے کچھ بادشاہ ہوں   گے جومیری امت

 

کے اُمورخلافت کے ذمہ دارہوں   گے ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّان کے ذریعے اِسْلَام کوشان وشوکت عطا فرمائے گا ۔  ‘‘    ( [7] )

 



[1]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  مسندعبداﷲ بن عبَّاس ،  الحدیث : ۲۸۰۴ ، ج۱ ، ص۶۵۹۔

[2]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  مسندعبداﷲ بن عبَّاس ،  الحدیث : ۳۰۶۱ ، ج۱ ، ص۷۰۸ ، بتغیرٍ۔

[3]    تین پانی کھڑے ہوکر پینا مستحب ہے :   ( ۱ ) آبِ زمزم ( ۲وضو کا بچا ہوا پانی اور ( ۳بزرگوں   کا پس خوردہ ( جوٹھا )  پانی ۔

  ( مرآۃ المناجیح ، ج۶ ،  ص۰ ۷ ، ملخصًا )



Total Pages: 273

Go To