Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 44 ) … حضرت سیِّدُنااَزدیاربن سلیمان فارسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْکَافِی سے مروی ہے کہ ’’  حضرت سیِّدُناجنید بن محمد  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الصَّمَدسے تصوُّف کے متعلق سوال کیا گیا توآپ  رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا :  ’’  تصوُّف ایک ایسا نام ہے جو 10معانی پر مشتمل ہے :  

 ( ۱ ) …  دُنیا کی ہر شے میں   کثرت کی بجائے قلت پر اِکتفاکرنا ۔  

 ( ۲ ) … اَسباب پر بھر وسا کرنے کی بجائے اللہعَزَّوَجَلَّپر دل سے اعتماد رکھنا  ۔

 ( ۳ ) … صحت و تند رستی میں   نفلی عبادات میں   رغبت رکھنا ۔

 ( ۴ )  … دنیا چھوٹ جانے پر بھیک مانگنے اور شکوہ وشکایت کرنے کے بجائے صبر کرنا ۔  

 ( ۵ )  … کسی چیز کے پائے جانے کے با وجود استعمال کے وقت تمیز رکھنا ۔

 ( ۶ )  … ساری مشغولیات ترک کر کے ذکراللہمیں   مشغول رہنا ۔  

 ( ۷ )  … تمام اذکار کے مقابلے میں   ذکرِ خفی کرنا ۔

 ( ۸ )  … وساوس کے با وجود اِخلاص پر ثابت قدم رہنا ۔

 ( ۹ )  … شک کے با وجود یقین کو متز لز ل نہ ہونے دینا ۔  

 ( ۱۰ )  … اضطراب ووحشت کے وقت اللہعَزَّوَجَلَّکی طر ف متوجہ ہو کر سکون حاصل کرنا  ۔

            پس جس شخص میں   یہ صفات پائی جائیں   وہ صوفی کہلانے کا مستحق ہے ورنہ وہ جھوٹا ہے ۔  ‘‘

صوفی ،  حَقائِق سے پردہ اُٹھاتاہے :  

 ( 45 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن محمد بن میمون  رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا  ذوالنون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے صوفی کے بارے میں   پوچھا تو انہوں   نے فرمایا :  ’’  صوفی وہ ہے کہ جب گفتگو کرے تو حقائق سے پر دہ اٹھائے اگر خاموش ہوتو اس کے اعضاء دنیا سے ترکِ تعلُّق کی گواہی دیں   ۔  ‘‘   ( [1] )

 ( 46 ) … حضرت سیِّدُناجعفر بن محمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْصَمَد سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناابو حسن مُزَیَّن  رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا :  ’’  تصوُّف ایسی قمیص ہے جواللہعَزَّوَجَلَّنے لوگو ں   کو پہنائی ہے اگر وہ اس پر شکر ادا کریں   تو ٹھیک ورنہ اللہعَزَّوَجَلَّاس کے بارے میں   مواخذہ فرمائے گا ۔  ‘‘

 ( 47 ) … حضرت سیِّدُناخواص عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَھَّاب  سے سوال ہوا کہ تصوُّف کیا ہے  ؟  فرمایا :  ’’  یہ ایک ایسا نام ہے جس کی آڑ لے کر انسان عام لوگوں   سے اوجھل ہو جاتا ہے سوائے اہلِ معرفت کے اور یہ بہت تھوڑے لوگ ہیں   ۔  ‘‘

 ( 48 ) … حضرت سیِّدُناابوبکربن مُثَاقِفرَحْمَۃاللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں   نے حضرت سیِّدُناجنید بن محمدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الصَّمَدسے تصوُّف کے بارے میں   پوچھا تو انہوں   نے فرمایا :   ’’ ہربری عادت کو ترک کردینااور ہر اچھی عادت کو اپنا لینا تصوُّف ہے ۔  ‘‘   ( [2] ) 

عارف اورصوفی کی علامات وصفات:

 ( 49 ) … حضرت سیِّدُناابوحسن فَرْغَانیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی بیان کرتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا ابو بکر شبلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَلِی سے عارف کی علامت دریافت کی تو فرمایا :   ’’  عا رف کا سینہ کھلا ہوتا ہے ،   دل زخمی او رجسم بے حال ہوتا ہے ۔  ‘‘ پھرمیں   نے پوچھا :   ’’ یہ تو عارف کی علامت ہے،   لیکن عا رف کو ن ہے  ؟  ‘‘  توآپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا :   ’’ عارف وہ ہے جو اللہعَزَّوَجَلَّ اوراس کی مراد کو پہچا ن کراس کے اَحکامات پر عمل کرے،   جس چیز سے اس نے منع فرمایا اس سے رک جائے اور اس کے بندو ں   کو اس کی طرف بلائے ۔  ‘‘ ابوحسن فَرْغَانیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِیفرماتے ہیں  :  ’’ میں   نے پھر پوچھا :   ’’  صوفی کو ن ہے  ؟  ‘‘  فرمایا :   ’’ جس نے اپنے دل کی صفائی کی ہو اور اس کا دل صاف ہوگیا ہو اور حضورنبی ٔ مُکَرَّم،  نُـوْرِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نقش قدم پر چلا،   دنیا کو اپنے پیچھے پھینکا اور خواہشات کو جفا کا مزہ چکھایا ۔  ‘‘

             میں   نے عرض کی :  ’’ یہ صوفی ہے تو پھرتصوُّف کیاہے  ؟  ‘‘ فرمایا :  ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف متوجہ ہو کر  دنیاسے کنارہ کشی اختیار کرنااورتکلف سے بچنا  ۔  ‘‘ میں   نے پوچھا :  ’’ اس سے بہتر تصوُّف کیا ہے  ؟  ‘‘ فرمایا :  ’’ دل کے صاف کرنے کا معاملہ عَلَّامُ الغُیُّوْب عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کرنا ۔  ‘‘ میں   نےعرض کی: ’’  اس سے بہتر تصوُّف کیا ہے  ؟   ‘‘  فرمایا :  ’’  اللہعَزَّوَجَلَّکے حکم کی تعظیم کرنا اور اس کے بندوں   پر مہر بانی کرنا ۔  ‘‘ میں   نے پوچھا :   ’’ اس سے بہتر صوفی کی کیا صفات ہیں   ؟   ‘‘  فرمایا :   ’’ جو گندگی سے پاک ہوکراور بخل سے نجات پاکر فکرِ الٰہی سے بھر گیاہو اور اس کے نزدیک سونے اور مٹی کی حیثیت برابر ہو ۔  ‘‘   ( [3] )

 ( 50 ) … حضرت سیِّدُنانصربن ابی نصر رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : میں   نے حضرت سیِّدُناعلی بن محمد مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت سیِّدُناسری سَقَطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَلِی سے پوچھا گیا :   ’’  تصوُّف کیا ہے  ؟  ‘‘  آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا :  ’’  تصوُّف ایسے اَخلاقِ کریمہ ( یعنی اچھی عادات و صفات )  کا نام ہے جواللہ عَزَّوَجَلَّ معزز لوگوں   کو عطا فرماتا ہے



[1]    تاریخ بغداد  ،  الرقم۵۲۲۸عبد اللہ بن محمد بن میمون  ، ج۱۰ ، ص۱۰۶۔

[2]    الرسالۃ القشیریۃ  ،  باب التصوف  ، ص۳۱۲۔

[3]    سیر اعلام النبلاء  ،  الرقم۳۰۳۷۔الشبلی دُلَف بن جَحْدر ، ج۱۲ ، ص۵۰۔

   الزھد الکبیرللبیہقی ،  فصل فی قصرالامل والمبادرۃالخ ،   الحدیث۷۵۶  /  ۷۵۷ ،  ص۲۸۹  ، مختصرًا۔



Total Pages: 273

Go To