Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

حضرت سیِّدُناطُفَیْلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکہتے ہیں    ( ایک دن جب وہ بازارجانے لگے تو ):  ’’ میں   نے پوچھا :   ’’ آپ بازارجاکرکیاکریں   گے ؟ وہاں   نہ تو خریداری کے لئے رُکتے ہیں   ۔ نہ سامان کے متعلق کچھ پوچھتے ہیں   ۔  نہ بھاؤ کرتے ہیں   اورنہ بازارکی کسی مجلس میں   بیٹھتے ہیں   ۔ میری تو گزارش یہ ہے کہ یہیں   ہمارے پاس تشریف رکھیں   ۔  ہم باتیں   کریں   گے ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’ اے بڑے پیٹ والے !   ( حضرت سیِّدُنا طفیل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا پیٹ بڑا تھا )  ہم صرف سلام کی غرض سے جاتے ہیں    ۔ ہم جس سے ملتے ہیں   اُسے سلام کہتے ہیں   ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 1094 ) … حضرت سیِّدُنا عُبیداللہبن عبداللہ بن عُتْبَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر اورحضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا  ( اس طرح چھپاکرعمل کرتے کہ ) جب تک اپنی کسی نیکی کو بیان نہ کر دیتے یااسے علی الاعلان نہ کرتے اس وقت تک کسی کو خبر نہ ہوتی تھی ۔  ‘‘    ( [2] )

عمر،  عقل اورجسم میں   کمی :  

 ( 1095 ) … حضرت سیِّدُنامجاہدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَاحِدبیان کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا ابن سعدان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰننے مجھ سے کہا :  ’’ اے ابوالغَازِی ! حضرت سیِّدُنا نوح عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماپنی قوم میں   کتناعرصہ ٹھہرے  ؟  ‘‘  میں   نے کہا :  ’’  ساڑھے نو سو سال ۔  ‘‘  انہوں   نے فرمایا :  ’’ بے شک اس وقت سے لوگوں  کی عمریں  ،  اجسام اور عقلیں   گھٹتی جارہی ہیں   ( یعنی اب عمر ،  عقل اور قدمیں   کمی آگئی ہے )  ۔  ‘‘    ( [3] )

 

صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کاایمان :  

 ( 1096 ) … حضرت سیِّدُناقَتَادَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے کسی نے پوچھا :  ’’ کیاحضور نبی ٔکریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنہنساکرتے تھے ؟  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ جی ہاں   ! حالانکہ اِیمان ان کے دلوں   میں   پہاڑوں   سے بھی زیادہ قوی اور مضبوط تھا ( [4] ) ۔  ‘‘    ( [5] )

وضواورنمازمیں   کمی کرنے والے :  

 ( 1097 ) … حضرت سیِّدُناآدم بن علی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَلِی سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا :   ’’ بے شک بروزِ قیامت کچھ لوگوں   کو بلایا جائے گا جوکمی کرنے والے ہوں   گے ۔  ‘‘  کسی نے عرض کی :   ’’ کمی کرنے والوں   سے مرادکون لوگ ہیں   ؟  ‘‘  فرمایا :  ’’ وضواورنمازکامل طورپرنہ بجا لانے والے ۔  ‘‘    ( [6] )          

 ( 1098 ) … حضرت سیِّدُنا نافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے ایک شخص کے ہاں  بطورِمہمان قیام فرمایا ۔ جب تین دن گزر گئے توفرمایا :   ’’ اے نافع !  اب ہم پرہمارے مال سے خرچ کرو ۔  ‘‘    ( [7] ) ( [8] )

 

دھوکے میں   نہ رہنا :  

 ( 1099 ) … حضرت سیِّدُناقَتَادَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے پوچھا :  ’’ جس طرح لَااِلٰـہَ اِلَّااللہ  ( یعنی اِسلام  )  کے بغیرکوئی عمل نفع نہیں   دیتا تو کیامسلمان کو کوئی عمل نقصان بھی نہیں   پہنچاسکتا ؟  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  ( نیکیوں   والی ) زندگی بسرکراور دھوکے میں   نہ رہنا  ( کہ مسلمان کوکوئی برائی نقصان نہیں   پہنچاسکتی )  ۔  ‘‘    ( [9] )

  ( 1100 ) … حضرت سیِّدُنامَعْبَدجُہَنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی فرماتے ہیں : میں   نے حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے عرض کی :  ’’ ایک آدمی جو ہر بھلائی اپناتا ہے مگر



[1]    المؤطاللامام مالک ،  کتاب السلام ،  باب جامع السلام ،  الحدیث : ۱۸۴۴ ، ج۲ ، ص۴۴۴۔

[2]    الطبقات الکبریٰ لابن سعد ،  الرقم۵۶عمربن الخطاب ، ج۳ ، ص۲۲۱۔

[3]    مسندابن الجعد ،  الحکم مجاہد ،  الحدیث : ۲۴۷ ، ص۵۵۔

[4]    حکیم الامت مفتی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں   :  ’’جواب کا مقصد یہ ہے ہنسناحرام نہیں   ،  حلال ہے۔ وہ حضرات وہ ہنسی نہ ہنستے تھے جودل کومُردہ کردے یعنی ہروقت ہنستارہنابلکہ وہ ہنسی ہنستے تھے جو دل کوشگفتہ رکھے اورسامنے والے کوبھی شگفتہ بنا دے ان حضرات کے دل اِیمان سے بھرے ہوئے تھے ساتھ ہی وہ حضرات شگفتہ دل بھی تھے ان کے پاس بیٹھنے والے بھی خوش ہوجاتے تھے۔‘‘ ( مرآۃ المناجیح ، ج۶ ، ص۴۰۴ )

[5]    جامع معمربن راشدمع المصنف لعبدالرزاق ،  باب الامام راع ،  الحدیث : ۲۰۸۳۷ ، ج۱۰ ، ص۲۸۶۔

[6]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الطہارت ،

Total Pages: 273

Go To