Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

سیِّدُناعبداللہ بن زُبَیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے کہا :   ’’ مجھے تو خلافت کی تمنا ہے ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا عُرْوَہ بن زُبَیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے کہا :  ’’ میں   چاہتا ہوں  کہ مجھ سے علم حاصل کیا جائے ۔  ‘‘ پھر حضرت سیِّدُنا مُصْعَب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے کہا :  ’’ میری آرزوہے کہ میں   عراق کا گورنر بنوں   اور اس بات کی خواہش ہے کہ عائشہ بنت طلحہ اورسَکِیْنَہ بنت حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْسے میرا نکاح ہو ۔  ‘‘  پھر حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے کہا :   ’’ میں   تو مغفرت چاہتا ہوں    ۔   ‘‘ راوی فرماتے ہیں : ’’ ان سب کی مرادیں   پوری ہوئیں   اوریقیناحضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا بھی مغفرت یافتہ ہیں   ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 1087 ) … حضرت سیِّدُنانافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن زُبَیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے زمانے میں   جاری ایک ’’   معرکے ‘‘  کے وقت کسی نے حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  کہا :  ’’ کیا آپ اِن کے ساتھ بھی نمازپڑھ لیں   گے اور اُن کے ساتھ بھی جبکہ وہ ایک دوسرے کے قتل کے درپے ہیں    ؟  ‘‘  فرمایا :   ’’ جو ’’  حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ ‘‘  اور ’’  حَیَّ عَلَی الْفَلَاح ‘‘  کہے گامیں   اسے جواب دوں   گا ( یعنی جاکرنمازاداکروں   گا )  اور جو مجھے کسی مسلمان کے قتل اور اس کامال لوٹنے کی دعوت دے گا میں   اس کی بات قبول نہیں   کروں   گا  ۔   ‘‘   ( [2] )

 ( 1088 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن عُبَیْدبن عُمَیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا :  ’’  فتنہ میں   ہماری مثال ان لوگوں   کی طرح ہے جوسیدھی راہ پرچل رہے ہوں   اور اس سے واقف بھی ہوں   ۔  پھر اس دوران ان پربادل وسخت تاریکی چھا گئی تو ان میں   سے بعض دائیں   اور بعض بائیں   طرف ہو گئے اورراستہ بھول گئے جبکہ ہم بادل وتاریکی میں   جہاں   تھے وہیں   ٹھہر گئے یہاں   تک کہاللہعَزَّوَجَلَّنے بادل

 

 دور کردئیے اور تاریکی کوختم فرما دیا ۔ پھر ہم نے اپنا پہلا راستہ دیکھااوراسے پہچان کردوباراسی پرچل دئیے ۔ یہ قریش کے کچھ نوجوان ہیں   جو سلطنت اوردنیاکے حصول کی خاطرایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں   اورجس دنیاکی خاطریہ ایک دوسرے کوقتل کررہے ہیں   مجھے اس میں   سے اپنے لئے ان پرانے جوتوں   کے باقی رہنے کی بھی پرواہ نہیں   ۔  ‘‘    ( [3] )

اِبن عمررَضِیَ اللہ عَنْہُمَا  اور اِتباعِ سنت کاجذبہ :  

 ( 1089 ) … حضرت سیِّدُنا نافعرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’ اگرتم حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کوحضورنبی ٔکریم،  رَء ُوفٌ رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں   پر عمل کرتے دیکھ لیتے تو کہتے کہ یہ تو دیوانے ہیں   ۔  ‘‘    ( [4] )

لوگ دیوانہ سمجھتے :  

 ( 1090 ) … حضرت سیِّدُناعاصِم اَحْوَل  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَوَّل ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں   کہ جب کوئی شخص حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو دیکھتا تو حضورنبی ٔاکرم،  نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں   پرعمل کرنے کی وجہ سے دیوانہ سمجھتا ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 1091 ) … حضرت سیِّدُنانافعرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا مکۂ مکرمہزَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاکے راستے میں   اپنی سواری کے جانور کو سر سے پکڑ کر  ( اِدھر اُدھر ) چلاتے اور فرماتے شایدمیری سواری کے قدم بھی اس جگہ لگ جائیں  جہاں  حضورنبی ٔاکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سواری کے قدم لگے ہیں   ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 1092 ) … حضرت سیِّدُنا زَیدبن اَسلم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَااپنے والدسے روایت کرتے ہیں   کہ جس طرح اُونٹنی اپنے گمشدہ بچے کی تلاش میں   جنگل میں   مارے مارے پھرتی ہے حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَااس

 

 سے بھی زیادہ  اپنے والد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے نقش قدم پر چلتے تھے  ۔  ‘‘    ( [7] )

فقط سلام کرنے بازارجاتے :  

 ( 1093 ) … حضرت سیِّدُناطُفَیْل بن اَبی کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں   کہ میں   حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے پاس جاتا تووہ مجھے ساتھ لے کربازارکی طرف چل پڑتے ۔  جب ہم بازار پہنچ جاتے تو حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاجس ردی فروش ،  دُکانداراورمسکین یاکسی شخص کے پاس سے گزرتے توسب کو سلام کرتے ۔  ‘‘



[1]    تاریخ دمشق لابن عساکر ،  الرقم۴۶۸۷عروۃبن الزُبَیر ، ج۴۰ ، ص۲۶۷۔

[2]    الطبقات الکبریٰ لابن سعد ،  الرقم۴۰۲عبداللہ بن عمربن الخطاب ، ج۴ ، ص۱۲۷۔

[3]    الطبقات الکبریٰ لابن سعد ،  الرقم۴۰۲عبداللہ بن عمر بن الخطاب ، ج۴ ، ص۱۲۹ ، مفہومًا۔

[4]    المستدرک ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  باب اتباع ابن عمرآثارالنبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  الحدیث : ۶۴۳۶ ، ج۴ ، ص۷۲۹۔

[5]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزھد ،

Total Pages: 273

Go To