Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

عَنْہُمَا جب بھی سورۂ بقرہ کے آخر سے دو آیتیں :  وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُؕ-فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۲۸۴)اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ(۲۸۵) ( پ۳،   البقرۃ :    ۸۵ ۔ ۲۸۴ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  اور اگر تم ظاہرکرو جوکچھ تمہارے جی میں   ہے یا چھپاؤ اللہتم سے اس کا حساب لے گا تو جسے چاہے گا بخشے گا اور جسے چاہے گا سزا دے گا اوراللہ ہر چیز پر قادر ہے  ۔ رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کے پاس سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانااللہ اور اس کے فرشتوں   اور اس کی کتابوں   اور اس کے رسولوں   کویہ کہتے ہوے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں   فرق نہیں   کرتے اور عرض کی کہ ہم نے سنا اور مانا تیری معافی ہو اے رب ہمارے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے  ۔ تلاوت فرماتے تو رونے لگتے ۔ پھر فرماتے :  ’’  بے شک یہ حساب بہت سخت ہے ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 1062 ) … حضرت سیِّدُنانافعرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ ’’   حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نماز میں   جب کوئی ایسی آیت تلاوت فرماتے جس میں   دوزخ کا ذکر ہوتا تو ٹھہر جاتے ۔  پھر دُعا مانگتے اور اس سےاللہعَزَّوَجَلَّکی پناہ مانگتے  ( [2] ) ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 1063 ) … حضرت سیِّدُنا یُوسُف بن ماہِک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَالِک فرماتے ہیں : ’’  ایک مرتبہ میں   نے حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کوحضرت عُبَیْدبن عُمیر کے پاس دیکھا وہ کچھ بیان کر رہے تھے  ۔  جبکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی آنکھوں   سے آنسو رواں   تھے  ۔  ‘‘    ( [4] )

روتے روتے ہچکیاں   بندھ جاتیں :

 ( 1064 ) … حضرت سیِّدُنا نافعرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہجب یہ آیت مبارَکہ :   

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ ( پ۲۷،   الحدید :    ۱۶ )

 ترجمۂ کنزالایمان: کیاایمان والوں   کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں   اللہ کی یاد کے لئے ۔

             تلاوت کرتے تو رونے لگتے یہاں   تک کہ روتے روتے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی ہچکیاں   بندھ جاتیں   ۔  ‘‘    ( [5] )

اِتباع صحابہ  کادرس :  

 ( 1065 ) … حضرت سیِّدُناحَسَن بَصْرِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :   ’’ جو کسی کی پیروی کرنا چاہتا ہو وہ اسلاف کی پیروی کرے جو حضورنبی ٔاکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ ہیں   ۔  یہی اس امت کے بہترین لوگ ہیں   ۔  ان کے دل نیکی وبھلائی میں  سب لوگوں   سے بڑھ کرہیں   ۔  ان کا علم سب سے وسیع اور ان میں   بناوٹ ونمائش نہ تھی ۔ یہ وہ نفوس قدسیہ ہیں   کہ جنہیں  اللہعَزَّوَجَلَّ نے اپنے محبوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت اور دین کی تبلیغ کے لئے منتخب فرمایا ۔ لہٰذاتم ان کے اخلاق وعادات اوران کے طور طریقوں   پر چلو کیونکہ وہ حضرت سیِّدُنا محمد مصطفی ،   احمدمجتبیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ ہیں   ۔  ربّ کعبہ کی قسم ! یہی لوگ ہدایت کے سیدھے راستے پرگامزن تھے ۔  اے بندے  !  محض اپنے بدن کی حدتک دنیا سے تعلق قائم کر اور اپنے دل ودماغ کو اس سے دور رکھ کیونکہ تیری نجات کا دارو مدار تیرے عمل پر ہے ۔  لہٰذا تو ابھی سے موت کی تیاری کر تاکہ تیرا انجام اور خاتمہ اچھا ہو  ۔  ‘‘

 ( 1066 ) … حضرت سیِّدُناسُدِّی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں  کہ میں   نے حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمرو،   حضرت سیِّدُنا ابوسعید،   حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ اور دیگرصحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کازمانہ پایاہے ۔ ان حضرات کی رائے یہ تھی کہ ’’ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے سوا ان میں   سے کوئی بھی اس حالت پرقائم نہیں   رہے جس حالت پرحضورنبی ٔ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جدا ہوئے تھے  ۔  ‘‘    ( [6] )

حاسداورمتکبر عالم نہیں   ہوسکتا :  

 ( 1067 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ ’’  وہ شخص عالم نہیں   ہو سکتا جو

 

 



[1]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  اخبارعبداﷲ بن عمر ،  الحدیث : ۱۰۷۰ ، ص۲۰۹۔

[2]    دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1250 صَفحات پر مشتمل کتاب  ،  ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ 634پر ہے :  ’’آیت ِرحمت پرسوال کرنااورآیت ِعذاب پرپناہ مانگنا ، منفردنفل پڑھنے والے کے لئے جائزہے۔‘‘

[3]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  اخبارعبداﷲ بن عمر ،  الحدیث : ۱۰۷۴ ، ص۲۱۰۔

[4]    اخبارمکۃ للفاکہی ،  ذکرالقصص بمکۃالخ ،  الحدیث :

Total Pages: 273

Go To