Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

کردہ لباس )  پہنے دیکھا اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا تہبند نصف پنڈلی تک تھا  ( [1] )    ۔  ‘‘  ( [2] )  

 

 ( 1048 ) … حضرت سیِّدُناعمروبن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّارسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :   ’’ حضورنبی ٔاکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد میں   نے کبھی کوئی مکان بنوایانہ ہی کوئی باغ لگوایا  ۔  ‘‘    ( [3]

 ( 1049 ) … حضرت سیِّدُنامحمدبن زیدرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا ایک گھرتھا جسے آپ چھوڑ چکے تھے  ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہجب بھی اس کے قریب سے گزرتے تو آنکھیں   بند فرما لیتے ۔  نہ اس کی طرف کبھی نظراُٹھاکردیکھااورنہ ہی اس میں   کبھی داخل ہوئے ۔  ‘‘    ( [4]

 ( 1050 ) … حضرت سیِّدُناسالم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :  میرے لڑکپن کی بات ہے جب کہ ابھی میری شادی بھی نہیں   ہوئی تھی اور میں   ( اُن دنوں   )  زمانۂ نبوی میں   مسجد میں   سویا کرتا تھا اس وقت جب کوئی شخص خواب دیکھتا تواگلے دن حضورنبی ٔکریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   عرض کرتا تھا ۔  میرے دل میں  بھی تمنا پیدا ہوئی کہ میں   کوئی خواب دیکھوں   جسے حضور سراپا نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بیان کروں   ۔  چنانچہ،   ایک رات میں   نے خواب میں   دیکھا کہ دو فرشتے مجھے پکڑ کر جہنم کی طرف لے جا رہے ہیں   ۔ میں   نے دیکھا کہ وہ پیچ دار کنوئیں   کی طرح تھی اور کنوئیں   کی طرح اس کے دو ستون بھی تھے ۔  جب میں   نے اس میں   چند ایسے لوگوں   کو دیکھا جنہیں   میں   پہچانتا تھا تومیں  ’’ اَعُوْذُبِاللہ مِنَ النَّار،   اَعُوْذُ بِاللہ مِنَ النَّار ‘‘   ( یعنی میں   اللہعَزَّوَجَلَّکی پناہ مانگتا ہوں   جہنم سے ۔  میں  اللہعَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتا ہوں   جہنم سے )  کہہ کر جہنم سےاللہعَزَّوَجَلَّکی پناہ مانگنے لگا ۔ وہاں   موجود ایک اور فرشتے نے مجھ سے کہا :  ’’  ڈرو مت ۔  ‘‘

            جب یہ خواب میں   نے اپنی بہن حفصہ کو بتایا اور انہوں   نے سرکارِمدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سنایا تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :  ’’ عبداللہ اچھاآدمی ہے ۔  کاش ! وہ رات کے کچھ حصے میں   نماز پڑھا کرے ۔  ‘‘  راوی بیان کرتے ہیں   کہ اس کے بعد آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہرات کو بہت کم آرام فرمانے لگے ۔  ‘‘    ( [5]

 

عبادت کے واقعات

جماعت چھوٹنے پررات بھرعبادت :  

 ( 1051 ) … حضرت سیِّدُنا نافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ ’’   حضرت سیِّدُناابن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا جب کبھی  ( کسی عذر کے سبب ) عشاء کی جماعت میں   حاضرنہ ہوپاتے توساری رات عبادت میں   گزاردیتے  ۔  ‘‘  حضرت بشر بن موسیٰ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں  : ’’ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہساری رات عبادت کیاکرتے تھے ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 1052 ) … حضرت سیِّدُنا نافعرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے،  فرماتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا ساری رات نمازمیں   مصروف رہتے ۔  پھر فرماتے :  ’’ اے نافع !  کیا سحر کا وقت ہو چکا ہے ؟  ‘‘ میں   عرض کرتا :  ’’ نہیں   ۔  ‘‘ توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہدوبارہ نماز میں   مصروف ہو جاتے ۔  کچھ دیر بعد پھر پوچھتے:  ’’ اے نافع !  کیا سحر کا وقت ہو چکا ہے  ؟  ‘‘ میں   عرض کرتا :  ’’ جی ہاں   !   سحر ہو چکی ہے ۔  ‘‘ توپھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبیٹھ جاتے اور اِسْتِغْفَار ودُعا میں   مشغول ہو جاتے یہاں   تک کہ فجرکاوقت شروع ہوجاتا ۔  ‘‘    ( [7] )

 ( 1053 ) … حضرت سیِّدُنا محمدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الصَّمَدسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا رات کوجب بھی بیدارہوتے نمازمیں  مشغول ہو جاتے ۔    ( [8] )

سورۂ اِخلاص کاثواب :  

 ( 1054 ) … حضرت سیِّدُنا خالدبن عبداللہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہکے غلام حضرتِ سیِّدُناابوغالِب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَامکۂ مکرمہ زَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًامیں   ہمارے ہاں   قیام پذیر تھے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنمازِ تہجد ادا فرمایا کرتے تھے ۔  ایک رات طلوعِ فجرسے کچھ پہلے مجھے فرمایا :   ’’ اے ابوغالب !  کیاتم اُٹھ کر نماز نہیں   پڑھو گے ؟ کاش !  تم تِہائی قرآن پاک کی تلاوت کر لیتے ۔  ‘‘  میں   نے عرض کی :   ’’ اب تو وقت بہت تھوڑا رَہ گیا ہے ۔  صبح طلوع ہونے کے قریب ہے ۔  اتنے کم وقت میں   میرے لئے تِہائی قرآن

 



[1]    ’’بہارِ شریعت‘‘حصہ 16 صَفْحَہ 60پر ہے ’’کپڑوں   میں   اسبال یعنی اتنا نیچا کرتہ  ، جبہ ، پاجامہ ،  تہبندپہننا کہ ٹخنے چھپ جائیں   ممنوع ہے ، یہ کپڑے آدھی پنڈلی سے لے کر ٹخنے تک ہوں   یعنی ٹخنے نہ چھپنے پائیں   ۔‘‘ ( الفتاوی الہندیہ  ،  کتاب الکراہیۃ  ،   الباب التاسع فی اللبس ،  ج۵ ، ص۳۳۳ )  مگر پاجامہ یا تہبند بہت اونچاپہننا آج کل وہابیوں   کا طریقہ ہے  ، لہٰذااتنا اونچا بھی نہ پہنے کہ دیکھنے والا وہابی سمجھے ۔اس زمانے میں   بعض لوگوں   نے پاجامے بہت نیچے پہننے شروع کردیئے ہیں   کہ ٹخنے تو کیا ایڑیاں   بھی چھپ جاتی ہیں   ، حدیث میں   اس کی بہت سخت ممانعت آئی ہے ، یہاں   تک کہ ارشاد فرمایا :  ’’ٹخنے سے جونیچاہو ، وہ جہنم میں   ہے۔‘‘ ( صحیح البخاری ،  کتاب اللباس ،  الحدیث : ۵۷۸۷ ، ص۴۹۴ )

[2]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۱۳۰۴۹ ، ج۱۲ ، ص۲۰۳۔

[3]    صحیح البخاری ،  کتاب الاستئذان ،  باب ماجاء فی البناء ،  الحدیث : ۶۳۰۳ ، ص۵۳۰۔

[4]    تاریخ دمشق لابن عساکر ،  الرقم۳۴۲۱عبداﷲ بن عمربن الخطاب ، ج۳۱ ، ص۱۲۵۔

[5]