Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

’’ تجھ پرافسوس ہے ! اللہعَزَّوَجَلَّ سے ڈراوران لوگوں   سے نہ ہونا جواپنا رزق دنیامیں   ہی اپنے پیٹوں   میں   بھر لیتے اوراپنے جسموں   پر پہن لیتے ہیں   ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 1041 ) … حضرت سیِّدُنا مَیْمُوْن بن مِہْرَان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’  حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے گھرمیراجاناہواتومیں   نے دیکھاکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے گھرمیری اس چادرجتنی بھی قیمتی کوئی چیزنہ تھی ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 1042 ) … اُم المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہانے فرمایا :   ’’ میں   نے عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے بڑھ کرکسی شخص کوحضورنبی ٔاکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ کے ساتھ مشابہت رکھنے والانہیں   پایا جو دھاری دار چادروں   میں   دفن کر دیئے گئے ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 1043 ) … حضرت سیِّدُنامالک بن اَنس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں : مجھے بتایا گیاکہ ایک مرتبہ حضرت

 

سیِّدُناعبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاجُحفَہ کے مقام پر اُترے توحضرتِ سیِّدُنااِبن عامر بنکُرَیْزنے اپنے نانبائی سے کہا کہ ’’   ان کی خدمت میں   کھانا پیش کرو ۔  ‘‘ وہ ایک پیالہ لایاتوآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ اسے رکھ دو ۔  ‘‘  پھر وہ دوسرا برتن لایا اور پہلا برتن اُٹھانا چاہا ۔  تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے دریافت فرمایا :  ’’ کیا ہوا ؟  ‘‘  عرض کی :   ’’ میں   یہ برتن اٹھانا چاہتا ہوں   ۔  ‘‘  فرمایا :  ’’  اسے یہیں   رہنے دو اور دوسرے برتن میں   جو کھانا لائے ہواِسے بھی اسی میں   اُنڈیل دو ۔  ‘‘  چنانچہ،   وہ جب بھی دوسرا برتن لاتا اس کاکھاناپہلے میں   ڈال دیتا ۔  راوی کہتے ہیں : کچھ دیر بعد نان بائی نے حضرت سیِّدُنا ابن عامر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَافِرسے جا کر کہا کہ ’’   اس اعرابی  ( یعنی دیہات کے رہنے والے ) کو بہت بھوک لگی ہے ۔  ‘‘ توانہوں   نے اسے بتایا کہ یہ تمہارے سردار حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا ہیں   ۔  ‘‘    ( [4] )  

غلاموں   پرشفقت :   

 ( 1044 ) … حضرت سیِّدُناابوجَعْفَرقَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْبَارِیبیان کرتے ہیں   کہ میرے آقانے مجھے کہاکہ ’’ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے ساتھ جاؤ اور ان کی خدمت کرو ۔  ‘‘ چنانچہ،  میں   ان کے ساتھ ہو لیاآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جب بھی کسی پانی کے چشمے کے پاس پڑاؤ ڈالتے تووہاں   کے رہنے والوں  کوبھی اپنے ساتھ کھانے میں   شریک کر لیتے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے بڑے بچے آتے اور کھانا کھا تے لیکن ایک شخص دو یا تین لقمے ہی کھاتا  ۔  پس جب آپ مقام جُحفَہ پراُترے تواہلِ جُحفَہ اور ایک عریاں   بدن سیاہ فام غلام آپ کی خدمت میں   حاضر ہوئے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اس غلام کو اپنے پاس بلایا تو غلام نے عرض کی: ’’  آپ کے اردگرد لوگ بیٹھے ہیں   اور میں   اپنے بیٹھنے کے لئے جگہ نہیں   پاتا ۔  ‘‘ راوی فرماتے ہیں : ’’ میں   نے دیکھاکہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا ایک جانب سَرک گئے اور غلام کو اپنے سینے سے لگا لیا ۔  ‘‘

 ( 1045 ) … حضرت سیِّدُناقَزَعَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا ابن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کوکھردرالباس پہنے دیکھاتوعرض کی :   ’’ اے ابوعبدالرحمنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ! میں   آپ کے لئے  خُرَاسَان کا بناہوا  ایک نرم لباس لایاہوں   ۔  آپ اسے زیبِ تن فرما لیں   گے تو مجھے خوشی ہو گی کیونکہ آپ نے کھردرا لباس پہن رکھا

 

ہے ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ مجھے دکھاؤ میں   دیکھوں   توکیسا لباس ہے ۔  ‘‘  پھر وہ لباس اپنے ہاتھوں   میں   لیا تو استفسار فرمایا: ’’ کیا یہ ریشمی ہے  ؟  ‘‘  میں   نے عرض کی :  ’’ نہیں   ! بلکہ اُونی ہے ۔  ‘‘  فرمایا :  ’’ مجھے اس بات کا خوف ہے کہ کہیں   یہ لباس پہن کر میں   شیخی وفخر میں   مبتلا نہ ہو جاؤں   اور اللہ عَزَّوَجَلَّ  کو نہیں   بھاتا کوئی اِتراتا فخر کرتا  ۔  ‘‘    ( [5] )  

کیسالباس پہنوں   ؟

 ( 1046 ) … حضرت سیِّدُنا یُونُس بن اَبی یَعْفُورعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفُوْرکے والدنے انہیں   بتایاکہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے ایک شخص نے پوچھا کہ ’’ میں   کیسے کپڑے پہنوں   ؟  ‘‘ ارشادفرمایا :   ’’ ایسے کہ بے وقوف لوگ تمہیں   اس لباس میں  دیکھ کرحقیرنہ جانیں   اورعقلمندلوگ تمہیں   ملامت نہ کریں   ۔  ‘‘ عرض کی :   ’’ ایسا لباس کون ساہے ؟  ‘‘  فرمایا :  ’’ جس کی قیمت 5 سے 20 درہم تک ہو  ( [6] )    ۔  ‘‘    ( [7] )  

 ( 1047 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن حُبَیْشرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ میں   نے حضرت سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کودومَعَا فِرِیَّہ کپڑے  (  یمن کے ایک معافر نامی قبیلے میں   تیار



[1]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزھد ،  باب ما قالوافی البکاء من خشیۃ اﷲ ،  الحدیث : ۱۰۱ ، ج۸ ، ص۳۱۰ ، مفہومًا۔

[2]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  اخبارعبداﷲ بن عمر ،  الحدیث : ۱۰۵۳ ، ص۲۰۷۔

[3]    المرجع السابق ،  الحدیث : ۱۰۸۰ ، ص۲۱۱۔

[4]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  اخبارعبداﷲ بن عمر ،  الحدیث : ۱۰۸۲ ، ص۲۱۱ ، ’’جاف اعرابی‘‘بدلہ ’ ’کوفی اعرابی‘‘۔

[5]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  اخبارعبداﷲ بن عمر ،  الحدیث :