Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 40 ) … حضرت سیِّدُنامِنْہَال بن عمر و  رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا ابراہیم خلیل اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو آگ میں   ڈالاگیا توآپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام اس آگ میں   رہے اور میں   یہ نہیں   جانتا کہ 40 دن رہے یا 50 دن،   البتہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامفرماتے ہیں :  ’’ جب میں   آگ میں   تھا  ( تو اس میں   اتنے اچھے دن گزرے کہ )  مجھے زندگی میں   ان سے بڑھ کر اچھے دن رات میسر نہیں   آئے میں   چاہتا تھا کہ میری ساری زندگی اسی آگ میں   گز ر جائے ۔  ‘‘    ( [1] )

تَصَوُّف کے چوتھے معنی کی تحقیق :  

             اگرتَصَوُّف کو معرو ف لفظ ’’  صُوْفٌ ‘‘ جس کامعنی اُون ہے ،  سے مشتق مانا جائے تو پھر صوفیہ کو صوفی کہنے کی وجہ یہ  ہو گی کہ وہ اُون کا لباس پہنتے ہیں   کیونکہ اس کو بنانے میں   انسان کو کوئی مشقت نہیں   ہوتی اورسر کش نفس اُون کا لباس پہننے سے فرمانبردا رہوجاتا ہے اور ذلت و رسوائی کا سامنا ہونے سے اس کاغرور و تکبرٹوٹ جاتاہے اورانسان قناعت کا عادی بن جاتا ہے ۔ مزید فرماتے ہیں : ’’  ہم نے اپنی کتاب ’’ لُبْسُ الصُّوف ‘‘ میں   اس کی مثالیں   احسن انداز سے ذکر کر دی ہیں  ا ور تصوُّف کے متعلق محققین کے کئی مسائل کو ہم نے ایک اور کتاب میں   بیان کیاہے اور عنقریب یہاں   بھی ان میں   سے بعض کو ذکر کریں   گے ۔  ‘‘

سُنّی اورصوفی کی تعریف :  

 ( 41 ) …  حضرت سیِّدُناامام جعفر بن محمد صادق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الرَّازِقفرماتے ہیں  : ’’ جو شخص رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ظاہری اَحوال کے مطابق زندگی گزارے وہ سنی  ( یعنی سنت کا پیرو کار )  ہے اور جوآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے باطنی اَحوال کے مطابق زندگی گزارے وہ صوفی ہے ۔  ‘‘ اورباطنی زندگی سے حضرت سیِّدُناامام جعفر صادق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی مراد رحمتِ عالَم،   شفیعِ اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاکیزہ اَخلاق اور آخرت کو اختیار کرنا ہے ۔ پس جو شخص آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اَخلاق کریمہ سے اپنے آپ کو مزین کرے اور جس چیز کوآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اختیار فرمایا اسے اختیار کرے ،   جس چیز میں   رغبت رکھی اس میں   رغبت رکھے ،   جن چیز وں   سے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اجتناب فرمایا ان سے اجتناب کرتا رہے اور آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جن کاموں   کی ترغیب دلائی انہیں   تھام لے تو بے شک وہ گندگی سے پاک وصاف ہوکر غیر سے نجات پا گیا ۔  او رجو شخص آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے راستہ سے ہٹ کراپنے نفس کی پیروی کرنے اور اپنے پیٹ وشر مگا ہ کی خواہشات کو پورا کرنے میں  مشغول رہا تو ایسا شخص تصوُّف سے عاری ،   نادانی میں   کوشا ں   اورآنے والے خطر ناک احوال سے غافل ہے  ۔

عقلمند کون ہے  ؟

 ( 42 ) … حضرت سیِّدُناابو سُوَیْد بن غَفَلہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں   کہ ایک دن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبا ہرتشریف لائے توحضور نبی ٔدوجہان،   سرورِ کون و مکان ،  محبوبِ رحمٰن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ملاقات ہوئی  ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی :  ’’  یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کس چیز کے ساتھ مبعوث کیا گیا  ؟  ‘‘  ارشاد فرمایا :  عقل کے ساتھ ۔  عرض کی :   ’’ ہم کس طرح عقل اختیار کر سکتے ہیں    ؟  ‘‘ ارشادفرمایا :  ’’ بے شک عقل کی کوئی انتہا نہیں   لیکن جس شخص نےاللہ عَزَّوَجَلَّ کے حلال کو حلال جانا اور اس کے حرام کو حرام سمجھا اسے عقلمند کہا جاتا ہے اگر وہ اس کے بعد مزید راہِ خدا میں   کوشش کرے تو اسے عابد کہا جاتا ہے اس کے بعد مزید کوشش کرے تو اسے جوَّاد کہا جاتا ہے مگر جو شخص عبادت میں   کوشش کرے اور نیکی کی راہ میں   تکالیف پر صبر کرے لیکن عقل کا سہارا نہ لے جو اسےاللہ عَزَّوَجَلَّکے حکم کی اتباع کی طرف رہنمائی کرے اوراس کی منع کر دہ اشیاء سے باز رکھے تو یہی لوگ ہیں   جو بد ترین اعمال والے ہیں   جن کی دنیا میں   کی گئی کو ششیں   بیکار گئیں   حالانکہ اپنے گمان میں   وہ اچھے اعمال کرنے والے تھے ۔  ‘‘   ( [2] )

 عقل کے3حصے :  

 ( 43 ) … حضرت سیِّدُناابوسعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں : میں   نے سرکارِ مدینہ،  قرارِقلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشادفرماتے ہوئے سناکہ ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّنے عقل کو 3 حصوں   میں   تقسیم فرمایا ہے جس شخص میں   وہ تینوں   حصے ہوں   وہ کامل عقل والا ہے اور جس شخص میں   کوئی حصہ نہ ہو  اس میں   کچھ عقل نہیں   ( وہ تین حصے یہ ہیں   )    ( ۱ ) … اللہ عَزَّوَجَلَّکی حُسنِ معرفت  ( ۲ ) … اللہ عَزَّوَجَلَّکی حُسنِ طا عت اور ( ۳ ) … اللہ عَزَّوَجَلَّکے اَحکام پر حُسنِ صبر ۔  ‘‘   ( [3] )

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہاَصْفَہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِیفرماتے ہیں : ’’  ایسے شخص کو تصوُّف کی طرف کیسے منسوب کیاجائے کہ جباللہ عَزَّوَجَلَّکی معرفت ِ حقیقی سے اس کا واسطہ پڑے تو وہ اس میں   دوسری باتیں   ملا دے اور جب اس سے طا عت ِ الٰہی کے لوازمات کا مطالبہ کیا جائے تو وہ ان سے جاہل  ہو او ردوسرے کو  پاگل بنادے اور جب ایسی مشقت میں   مبتلا ہو جس پر صبر کرنا ضروری ہے تو بے صبری کا مظاہرہ کرے ۔  ‘‘

صُوفی اورتَصَوُّف کے مُتَعَلِّق اَقوال

            علمائے تَصَوُّف رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰی نے تصوُّف کے بارے میں   کلام کیا ہے اوراس کی حُدُود،   معانی ،   اقسام ومبانی کے بارے میں   وضاحت کی ہے ۔ چنانچہ، 

تصوُّف کے 10 معانی :  

 



[1]    المرجع السابق ، ص۱۹۱۔

[2]    مسندالحارث ،  کتاب الادب ،  باب ماجاء فی العقل ،  الحدیث : ۸۳۲ ، ج۲ ، ص۸۱۰۔

[3]    مسندالحارث ،  کتاب الادب ،  باب ماجاء فی العقل ،  الحدیث  ۸۱۰ ، ج۲ ، ص۸۰۰۔



Total Pages: 273

Go To