Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

تَعَالٰی عَنْہسفریا ماہِ رمضان کے علاوہ پوراپورا مہینہ مسلسل گوشت نہ کھاتے تھے ۔  نیزبعض اوقات پورا مہینہ گوشت کی ایک بوٹی تک نہ چکھ پاتے تھے ۔   ( [1] )

 ( 1015 ) … حضرت سیِّدُنانافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’  بعض اَوْقات حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا ایک ہی مجلس میں   30 ہزار درہم راہِ خدا میں   خرچ فرما دیا کرتے ۔  پھران پر ایسا مہینہ بھی آتا کہ

 

 گوشت کی ایک بوٹی تک نہ چکھ پاتے تھے  ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 1016 ) … حضرت سیِّدُنامَیْمُون بن مِہْرَانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے مروی ہے کہ ’’   ایک مرتبہ ایک مجلس میں   حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پاس کہیں   سے 22 ہزار دینار ( سونے کے سکّے )  آئے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے وہ تمام دینار مجلس برخاست کرنے سے پہلے ہی لوگوں   میں   تقسیم فرما دیئے  ۔  ‘‘    ( [3] )

ایک ہزار غلام آزاد فرمائے :  

 ( 1017 ) … حضرت سیِّدُنا نافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’  حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے اپنی زندگی میں   ایک ہزار یا اس سے زائد غلام آزاد فرمائے ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 1018 ) … حضرت سیِّدُناعاصِم بن محمدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَحَد اپنے والدسے روایت کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو ان کے غلام حضرت سیِّدُنا نافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے بدلے میں   10ہزار یا ایک ہزار دِینار کی پیش کش کی گئی تومیں   نے عرض کی :  ’’ اے ابو عبدالرحمن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  آپ کس چیز کا انتظار فرما رہے ہیں   ۔  اسے بیچ کیوں   نہیں   دیتے ؟  ‘‘  فرمایا :   ’’ کیا وہ ان دیناروں   سے بہتر نہیں   ۔  میں   اسے اللہعَزَّوَجَلَّکی رِضا کے لئے آزاد کرتا ہوں   ۔  ‘‘    ( [5] )

 100 اُونٹنیوں   کاوقف :  

 ( 1019 ) … حضرت سیِّدُنانافعرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناابن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے اپنی کچھ زمین 200 اُونٹنیوں   کے بدلے فروخت کی پھر ان میں   سے 100 اونٹنیاں   راہِ خدا کے مسافروں   پر وقف فرما دیں   اور ان پریہ شرط رکھی کہ وہ ان کو وادیٔ قُریٰ عبور کرنے سے پہلے فروخت نہیں   کریں   گے ۔  ‘‘    ( [6] )

 

ایک سال میں   ایک لاکھ درہم صدقہ :  

 ( 1020 ) … حضرت سیِّدُنانافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا امیرِمُعَاوِیَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی طرف ایک لاکھ درہم بھیجے ۔  ابھی سال بھی نہیں   گزرا تھا کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس ان میں   سے ایک درہم بھی نہ بچا  ( یعنی تمام کے تمام راہِ خدامیں   صدقہ کردئیے )  ۔  ‘‘    ( [7] )

ایک رات میں   10 ہزاردرہم کی خیرات :  

 ( 1021 ) … حضرت سیِّدُنااَیُّوب بن وَائِل رَاسِبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَلِیبیان کرتے ہیں :  ایک مرتبہ میں   مدینۂ منوّرہ زَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاحاضر ہوا تو مجھے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے ایک پڑوسی نے بتایاکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس حضرت سیِّدُنا امیرِ مُعَاوِیَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی طرف سے 4ہزار درہم آئے ہیں   اور ایک دوسرے آدمی کی طرف سے بھی اتنے ہی درہم آئے ہیں   اور ایک شخص نے 2 ہزاردرہم اور ایک عمدہ چادرآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں   بھیجی ہے ۔  پھر حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا بازار میں   تشریف لائے اور کھوٹے دِرہم کے بدلے میں   اپنی سواری کے لئے چارا خریدا ۔  میں   نے انہیں   پہچان لیاپھر میں   نے ان کی اَہلیہ کے پاس آکر کہا کہ ’’  میں   آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں   اور میں   یہ پسند کرتا ہوں   کہ آپ مجھ سے سچ بیان کریں   ۔  ‘‘  میں   نے پوچھا:  ’’ کیا ابوعبدالرحمٰن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس حضرت سیِّدُنا امیرِمُعَاوِیَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف سے 4 ہزار درہم،  ایک دوسرے آدمی کی طرف سے 4 ہزار درہم اور ایک شخص کے پاس سے 2 ہزار درہم اور ایک چادر نہیں   آئی تھی ؟  ‘‘  جواب ملا :  ’’  کیوں   نہیں   !  یقینا یہ سب کچھ آیا تھا ۔  ‘‘  میں   نے کہا کہ ’’  میں   نے تو انہیں   کھوٹے درہم کے عوض چارا خریدتے دیکھا ہے ۔  ‘‘  تو ان کی اہلیہ نے بتایا کہ ’’ انہوں   نے تووہ سب مال رات ہی کو لوگوں   میں   تقسیم کر دیاتھااور چادر اپنے کندھے پر ڈال کر چل دئیے اوراسے واپس لوٹاکرگھرآگئے ۔  ‘‘  

            تومیں   نے لوگوں   سے کہا :  ’’ اے تاجروں   کے گروہ ! تم دنیاکاکیاکروگے جبکہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پاس گزشتہ رات 10ہزار درہم آئے تھے اور



[1]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۱۳۰۴۵ ، ج۱۲ ، ص۲۰۲۔

                الزھدللامام احمدبن حنبل ،  اخبار عبداﷲ بن عمر ،  الحدیث : ۱۰۶۸ ، ص۲۰۹۔

[2]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۱۳۰۴۵ ، ج۱۲ ، ص۲۰۲۔

[3]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  اخبارعبداﷲ بن عمر ،  الحدیث : ۱۰۶۲ ، ص۲۰۹۔

[4]    صفۃ الصفوۃ ،  الرقم۶۲عبداﷲ بن عمربن الخطاب ، ج۱ ، ص۲۹۲۔

[5]