Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

مائل نہ کیا ہویا وہ خودمائل نہ ہوا ہو ۔  ‘‘    ( [1] )

صدقات وخیرات کے واقعات

 ( 1010 ) … حضرت سیِّدُنا نافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کواپنے مال میں   جوچیزسب سے زیادہ پیاری ہوتی اسےاللہ عَزَّوَجَلَّکے لئے صدقہ کردیتے ۔  حضرت سیِّدُنا نافعرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے غلاموں   کواس بات کاعلم ہواتووہ اکثربن سنور کر مسجد میں  پڑے رہتے ۔ جب حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا اپنے کسی غلام کو اِس اچھی حالت میں   ملاحظہ فرماتے تو اسے آزاد کردیتے ۔  رُفقا نے عرض کی :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  اس طرح یہ آپ کو دھوکا دیتے ہیں   ۔  ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے :  ’’  جوہمیں  اللہ عَزَّوَجَلَّکے لئے دھوکا دے گا ہم بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے اس سے دھوکا کھاتے رہیں   گے ۔  ‘‘

 

             حضرت سیِّدُنا نافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   کہ میں   نے ایک مرتبہ شام کے وقت حضرت سیِّدُناعبد اللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکوایک عمدہ اُونٹ پرسوارآتے دیکھا جسے آپ نے کثیرمال کے عوض خریدا تھا  ۔ جب اُونٹ کی چال آپ کے دل کوبھائی تواونٹ کو بٹھایاپھرنیچے اتر کر فرمایا :   ’’ اے نافع !  اس کی لگام اور کجاوہ وغیرہ اُتار لو اور اسے بنا سوار کر قربانی کے اُونٹوں   میں   داخل کر دو ۔   ‘‘    ( [2] )

من پسنداُونٹنی خیرات کردی :  

 ( 1011 ) … حضرت سیِّدُنانافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :  ایک مرتبہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَااپنی اُونٹنی پرسوارکسی سفرپرتھے کہ وہ اونٹنی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے دل کوبھاگئی ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اونٹنی کو بیٹھایا جب وہ بیٹھ گئی توفرمایا :   ’’ اے نافع ! اس سے کجاوہ اتار لو ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا نافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ میں   ان کا اِرادہ سمجھ گیا ۔ لہٰذا میں   نے کجاوہ اُتار لیا ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  ایک نظر دیکھو !  کیاہمارے جانوروں   میں   کوئی اس سے اچھی سواری بھی ہے ( کہ اُسے صدقہ کیا جائے )  ؟  ‘‘  میں   نے عرض کی :  ’’  میں   آپ کو قسم دے کر کہتا ہوں   کہ اسے بیچ دیں   اور اس سے حاصل ہونے والی رقم سے اور خرید لیں   ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’ اسے آزاد کر دو اور اس کے گلے میں   قلادہ  ( یعنی ہار )  لٹکا کر اسے قربانی کے جانوروں   میں   شامل کرو ۔  ‘‘  ( حضرت سیِّدُنا نافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  )  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکوجب بھی اپنے مال واسباب میں   سے کوئی چیزاچھی لگتی تو اسے صدقہ کر کے آخرت کے لئے ذخیرہ کر لیتے ۔    ( [3] )

پسندیدہ لونڈی آزادکردی :  

 ( 1012 ) … حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن ابی عثمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے اپنی رُمَیْثَہنامی لونڈی آزاد کر دی  ( اس کا واقعہ یوں   ہے کہ  ) آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ آیت ِکریمہ تلاوت فرمائی :  

 

لَنْ  تَنَالُوا  الْبِرَّ  حَتّٰى  تُنْفِقُوْا  مِمَّا  تُحِبُّوْنَ  ﱟ  ( پ۴،   ال عمران :  ۹۲ )

 ترجمۂ کنزالایمان: تم ہرگزبھلائی کونہ پہنچو گے جب تک راہ خدا میں   اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو ۔

            پھر فرمایا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !  اے رُمَیْثَہ !   مَیں   دنیا میں   تجھے سب سے زیادہ چاہتا ہوں  ،   جاؤ !  میں   تمہیں   اللہ عَزَّوَجَلَّکی رضا کے لئے آزاد کرتا ہوں   ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 1013 ) … حضرت سیِّدُنا مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَاحِدسے مروی ہے کہ جب یہ آیت مبارَکہ نازل ہوئی :  

لَنْ  تَنَالُوا  الْبِرَّ  حَتّٰى  تُنْفِقُوْا  مِمَّا  تُحِبُّوْنَ  ﱟ  ( پ۴،   ال عمران :    ۹۲ )

 ترجمۂ کنزالایمان: تم ہرگزبھلائی کونہ پہنچو گے جب تک راہ خدا میں   اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو ۔

             توحضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے اپنی کنیز کو بلایا اور اسے آزاد کر دیا ۔  ‘‘    ( [5] )

30 ہزاردرہم کاصدقہ :  

 ( 1014 ) … حضرت سیِّدُنا نافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ  بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کواپنے مال میں   سے جوچیزبھی پسندآتی اسے راہِ خدامیں   صدقہ کردیتے  ۔ حتی کہ بعض اوقات تو30،  30 ہزار درہم ایک ہی مجلس میں   صدقہ کر دیتے ۔  چنانچہ،  حضرتِ سیِّدُنا ابن عامرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَافِر نے دو مرتبہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو30ہزار درہم بھجوائے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ اے نافع !  مجھے اس بات کاخوف ہے کہ کہیں   ابن عامر کے دراہم مجھے آزمائش میں   نہ ڈال دیں   ۔ لہٰذاجاؤ ! تم آزاد ہو ۔  ‘‘  اورآپ رَضِیَ اللہ



[1]    فضائل الصحابۃ للامام احمدبن حنبل ،  فضائل عبداﷲ بن عمر ،  الحدیث : ۱۶۹۹ ، ج۲ ، ص۸۹۴۔

[2]    الطبقات الکبریٰ لابن سعد ،  الرقم۴۰۲عبداﷲ بن عمر ،  ج۴ ، ص۱۲۵۔

[3]    تاریخ دمشق لابن عساکر ،  الرقم۳۴۲۱عبداﷲ بن عمربن الخطاب ، ج۳۱ ، ص۱۳۳۔

[4]    تاریخ دمشق لابن عساکر ،  الرقم۳۴۲۱عبداﷲ بن عمربن الخطاب ، ج۳۱ ، ص۱۳۷۔