Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 1004 ) …  حضرت سیِّدُنامُطْعِم بن مِقْدَام صَنْعَانیقُدِّسَ سِرُّ ہُ النُّوْرَانِی سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حَجَّاج بن یُوسُف نے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو خط لکھا کہ ’’ مجھے خبرملی ہے کہ تم خلیفہ بننا چاہتے ہو حالانکہ کلام سے عاجز،   بخیل اور غیور شخص خلافت کا اہل نہیں   ہو سکتا ۔  ‘‘ توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے جواب میں   لکھاکہ ’’ تم نے جو خلافت کا تذکرہ کیا ہے کہ ’’   میں   اس کی خواہش رکھتا ہوں   ‘‘ توسن لو !  مجھے اس کی بالکل تمنا نہیں   اورنہ ہی میرے دل میں   کبھی اس کا خیال گزرا اور رہی بات کلام سے عاجز ہونے،   بخیل وغیرت مند ہونے کی تو سن !  بے شک جو شخص قرآنِ حکیم کا حافظ ہو وہ کلام سے عاجز نہیں   ہو سکتا اور جو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرتا ہے وہ بخیل نہیں   ہو سکتا اور رہا معاملہ غیرت کا تومیں   نے جس معاملے میں   غیرت کی اس کی زیادہ حقدار میری اولاد ہے کہ وہ میرے علاوہ کسی دوسرے کو اس میں   شریک ٹھہرائے ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 1005 ) … حضرت سیِّدُناحَسَن بَصْرِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں  کہ جب لوگوں   کے درمیان فتنے کا معاملہ شدت اختیار کر گیاتو لوگ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی خدمت میں   حاضرہوئے اور عرض کی :   ’’ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسَیِّدُالنَّاس،   اِبْنِ سَیِّدالنَّاس ہیں   اور لوگ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے خوش ہیں   ۔  باہر تشریف لائیے تا کہ ہم آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے دستِ اقدس پربیعت کریں   ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ نہیں  ،  اللہ  عَزَّوَجَلَّکی قسم !  میں   نہیں   چاہتا کہ میری وجہ سے کسی ذِی رُوح کا پچھنے لگنے کی جگہ کے برابر بھی خون بہایا جائے ۔  ‘‘  پھر لوگوں   نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو ڈرایا اور قتل کی دھمکی دی لیکن آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہپھر بھی انکار پر مصر رہے ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُناحَسَن بَصْرِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں  :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم  !  لوگ ان کے پائے

 

ثبات ( ثابت قدمی )  میں   ذرا برابر بھی لغزش پیدا نہ کر سکے یہاں   تک کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا وصال ہو گیا ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 1006 ) … حضرت سیِّدُنا نافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اَشْعَرِی اور حضرت سیِّدُنا عمروبن عاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا جن دنوں   انہیں   خلیفہ نامزدکرنے کے لئے حَکَم بنایاگیاتھا تشریف لائے تو حضرت سیِّدُنا ابوموسیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ میں   خلافت کاصحیح حقدار حضرت عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے سوا کسی کو نہیں   سمجھتا ۔  ‘‘  پھر حضرتِ سیِّدُنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے کہا کہ ’’   ہم بیعت توآپ کے ہاتھ پرکرنا چاہتے ہیں   لیکن کیا آپ کثیر مال لے کر اس آدمی کے لئے خلافت چھوڑ دیں   گے جو آپ سے زیادہ اس کا حریص ہے ؟   ‘‘  یہ بات سن کرآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جلال میں   آ کر مجلس سے کھڑے ہو گئے تو حضرت سیِّدُناعبداللہبن زُبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے لباس کو ایک کنارے سے پکڑ کر کہا :   ’’  اے ابوعبدالرحمٰن !  عمرو بن عاص کے کہنے کا مقصد تو یہ ہے کہ آپ مالِ کثیر لے کراس بات پر راضی ہو جائیں   کہ ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کریں   ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ اے عمرو !  تم پر افسوس ہے  ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے کہا :  ’’  میں   تو آپ کی آزمائش کر رہا تھا ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :   ’’ نہیں  ،   اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !  میں   اس  ( یعنی خلیفہ بننے  )  پر کچھ نہیں   لوں   گا اور نہ کسی اور کو لینے دوں   گا اور نہ ہی تمام مسلمانوں   کی رضامندی کے بغیر اسے قبول کروں   گا ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 1007 ) … حضرت سیِّدُناقا سِم بن عبدالرحمن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے مروی ہے کہ پہلے فتنے میں   لوگوں   نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے درخواست کی کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبھی باہرنکلیں   اورلوگوں   سے قتال کریں   ۔ انہوں   نے فرمایا :   ’’ میں   قتال کر چکا ہوں   جب حجرِ اسود اور بابِ کعبہ کے درمیان بت رکھے ہوئے تھے یہاں   تک کہاللہ عَزَّوَجَلَّنے سرزمینِ عرب کو بتوں   کی گندگی سے پاک فرما دیا اور مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ لَااِلٰہَ اِلَّااللہکہنے والوں   سے قتال کروں   ۔   ‘‘  لوگوں   نے کہا: ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !  آپ کی رائے یہ نہیں  ،   بلکہ آپ تو چاہتے ہیں   کہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنایک دوسرے کوشہید کرتے رہیں   یہاں   تک کہ آپ کے سوا کوئی زندہ

 

 نہ رہے پھر کہا جائے کہ عبداللہ بن عمر کے امیرالمومنین ہونے پر ان کی بیعت کر لو ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! میرے دل میں   بالکل یہ بات نہیں   ہے بلکہ جب تم حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ،   حَیَّ عَلَی الْفَلَاح کی صدا لگاؤ گے،   میں   نمازِ باجماعت میں   تمہارے ساتھ حاضر ہوں   گا اور جب تم میں   اِنتشار ہو جائے گا میں   تمہیں   اِکٹھا نہیں   کروں   گا اور جب تم میں   اِتفاق ہو گا،   میں   تمہارے درمیان اِنتشار نہیں   پھیلاؤں   گا ۔  ‘‘    ( [4] )

سیِّدُناابن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی نظرمیں :

 ( 1008 ) … حضرت سیِّدُناابن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ بے شک نو جوانانِ قریش میں   سب سے زیادہ اپنے نفس کودنیاکی رعنائیوں   سے قابو میں   رکھنے والے حضرت ابن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاہیں   ۔  ‘‘    ( [5] )

سیِّدُنا جا بر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی نظر میں :

 ( 1009 ) … حضرت سیِّدُناجابِررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :  میں   نے حضرت ابن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے علاوہ کسی ایسے شخص کو نہیں   دیکھا کہ جسے دنیاکی رنگینیوں   نے اپنی طرف



[1]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۱۳۰۴۸ ، ج۱۲ ، ص۲۰۲۔

[2]    فضائل الصحابۃ للامام احمدبن حنبل ،  فضائل عبداﷲ بن عمر ،  الحدیث : ۱۷۰۲ ، ج۲ ، ص۸۹۵ ، مفہومًا۔

[3]    تاریخ دمشق لابن عساکر ،  الرقم۳۴۲۱عبداﷲ بن عمربن الخطاب ، ج۳۱ ، ص۱۸۴ ، بتغیرٍقلیلٍ۔

[4]    تاریخ دمشق لابن عساکر ،  الرقم۳۴۲۱عبداﷲ بن عمربن الخطاب ، ج۳۱ ، ص۱۹۰۔

[5]    الطبقات الکبریٰ لابن سعد ،  الرقم۴۰۲عبداﷲ بن عمربن الخطاب ، ج