Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

‘‘    ( [1] )

 

جہادسے متعلق دوروایات :  

 ( 1000 ) … حضرت سیِّدُناابوْمُخَارِق زُہَیْرعَبْسِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمرورَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :  کیا میں   تمہیں   افضل ترین شہیدکے بارے میں   نہ بتاؤں  کہ جس کا مقام ومرتبہاللہعَزَّوَجَلَّکے نزدیک بہت بلندہوگا ؟  جب شہداء صف بستہ دشمن کے مقابلے کے لئے نکلتے اوراس کا سامنا کرتے ہیں   تو وہ دائیں   بائیں   متوجہ نہیں   ہوتا مگر تلواراپنے کندھے پر رکھے ہوتاہے اورعرض کرتا ہے :  ’’  اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !  میں   آج گزرے ہوئے دنوں   میں   اپنے اعمال کے مقابلے میں   تجھے اختیارکرتا ہوں   ۔  ‘‘  پھر وہ قتل ہوجاتا ہے پس یہ ان شُہَدا میں   سے ہے جوجنت کے بالاخانوں   میں   جائیں   گے اورجہاں   چاہیں   گے اُٹھیں   بیٹھیں   گے ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 1001 ) … حضرت سیِّدُنایحییٰ بن اَبی عَمروشَیْبَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ اہلِ یمن کا ایک قافلہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمروبن عاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے پاس سے گزرا توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   عرض کی کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اس آدمی کے بارے میں   کیافرماتے ہیں  جس نے اسلام قبول کیا تو اچھے اندازسے،   ہجرت کی تووہ بھی احسن طریقے سے ،  جہادکیا تو وہ بھی اچھے انداز پر ۔  پھر اپنے والدین کی خدمت میں   یمن لوٹ آیااوران کے ساتھ احسان وبھلائی والامعاملہ کرتارہا ؟  ‘‘ حضرت سیِّدُناعبداللہعرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے پوچھا:  ’’ تمہارا اس کے بارے میں   کیاخیال ہے ؟  ‘‘ اس نے کہا :  ’’ ایساشخص میدانِ جہاد سے بھاگنے والا ہے  ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشادفرمایا :  ’’ نہیں   !  بلکہ ایسا شخص جنَّتی ہے ۔ ہاں   !  میں   تمہیں   بتاتا ہوں  کہ کون میدانِ جہادسے بھاگنے والا ہے ۔  سنو !  وہ شخص جس نے اسلام قبول کیا تو اچھے اندازسے،   ہجرت کی تووہ بھی احسن طریقے سے،  جہادکیا تو وہ بھی اچھے اندازپر ۔ پھراس نے کنوئیں   والی زمین کا قصد کیا اور اسے اس کے جزیہ ومحصول کے عوض خریدلیااورآباد کرنے میں   لگ کر جہاد ترک کردیا ۔  یہ ہے وہ شخص جو میدانِ جہادسے بھاگنے والا ہے ۔  ‘‘    ( [3] )

 

حضرت سیِّدُناعَبْدُاللہ بن عُمَر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا

            حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمربن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَابھی مہاجرین صحابہ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن میں   سے ہیں   ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ امارت ومراتب سے بے رغبتی اورنیکی واچھائی میں   رغبت رکھتے ۔  انتہائی عبادت گزاربلکہ تہجد گزار اور سنت ِرسول پرسختی سے عمل کرتے تھے ۔  مساجد اور پتھریلی زمین پر پڑاؤ ڈال لیتے ۔ اکثرمشاہدات میں   ڈوبے رہتے  ۔  اپنے آپ کو دنیا میں   مسافرواَجنبی شمارکرتے ۔ پیش آنے والے ہرمعاملہ کو قریب سمجھتے اورکثرت سے توبہ واِسْتِغْفَارکیاکرتے تھے ۔

            اہلِ تصوُّف فرماتے ہیں : ’’ سرکشی سے دوررہنے اوربلند درجات میں   رغبت رکھنے کا نام تصوُّف ہے ۔  ‘‘  

 ( 1002 ) … حضرت سیِّدُنانافعرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کعبۃ اللہشریف میں   داخل ہوئے تو میں   نے سنا کہ آپ سجدہ کی حالت میں   کہہ رہے ہیں :  ’’ یااللہ عَزَّوَجَلَّ !  تو جانتاہے کہ مجھے اس دنیاپرقریش سے مزاحمت کرنے سے صرف تیرے خوف نے روکا ہے ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 1003 ) …  حضرت سیِّدُنانافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پاس آیااورکہاکہ ’’  آپ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے لختِ جگر اورحضور نبی ٔاکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابی ہیں   ۔  ‘‘  مزیدکچھ مناقب بیان کرنے کے بعد کہا کہ ’’ آپ کو اس معاملے  ( یعنی تلوار لے کر میدان میں   نکلنے )  سے کس چیزنے روک رکھاہے  ؟  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ مجھے اس بات نے روک رکھا ہے کہاللہعَزَّوَجَلَّنے مسلمان کا خون بہانا حرام ٹھہرایا ہے ۔  ‘‘  اس نے کہا :   بے شک اللہعَزَّوَجَلَّ  نے یہ بھی ارشادفرمایا ہے :  

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِؕ- (پ۲،البقرہ:  ۱۹۳)

 ترجمۂ کنزالایمان: اور ان سے لڑو یہاں   تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اورایک اللہ کی پوجا ہو ۔

 

            تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ بے شک ہم نے ایساکیاہے،  کیونکہ ہم نے مشرکین سے قتال کیاہے یہاں   تک کہ صرف اللہ  عَزَّوَجَلَّکی عبادت ہونے لگی اوراب تم لڑناچاہتے ہویہاں   تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے سواکسی اور کی پوجا ہونے لگے ۔  ‘‘    ( [5] )

حَجَّاج بن یُوسُف کوجواب :  

 



[1]    المستدرک ،  کتاب الفتن والملاحم ،  باب مکالمۃ ابن عمروالخ ،  الحدیث : ۸۶۶۲ ، ج۵ ، ص۷۴۲ ، بتغیرٍقلیلٍ۔

[2]    الجہادلابن المبارک ،  الحدیث : ۴۹ ، ص۵۳ ، ’’انی اخترتک‘‘بدلہ ’ ’انی اجزیک‘‘۔

[3]    الأموال لابن زنجویہ ،  کتاب فتوح الأرضین وسننہا واحکامہا ،  باب فی شراء أرض العنوۃالخ ،  الحدیث : ۲۵۷ ،  ج۱ ، ص۲۷۷بتغیرٍ۔

[4]    المستدرک ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  باب ذکراجل فضائل ابن عمر ،  الحدیث : ۶۴۲۹ ، ج۴ ، ص۷۲۷۔

[5]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۱۳۰۴۶ ، ج۱۲ ، ص۲۰۲۔



Total Pages: 273

Go To