Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

لئے سرمہ تیارکرتی تھی ۔  ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں   کہ ’’   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ دروازہ بندکرکے اس قدرروتے تھے کہ آنکھوں   سے سفیدمیل آنے لگتااور میری امی جان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہَا ان کے لئے سرمہ بنایا کرتی تھیں   ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 994 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہ بن باباہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں : میں   عرفہ کے دن حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی خدمت میں   حاضرہواتودیکھا کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حرم میں   خیمہ نصب فرمارکھاہے ۔  میں   نے اس کی وجہ دریافت کی توفرمایا :   ’’ اس لئے تاکہ میری نمازحرم میں   اداہو اورجب اپنے گھر

 

والوں   کے پاس جاؤں   تو حل ( [2] )میں   رہوں    ۔  ‘‘    ( [3] )

فجرکے وقت خصوصی رحمت کانزول :  

 ( 995 ) … حضرت سیِّدُنا عمروبن نافِعرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمرورَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نمازِفجرکے بعدایک شخص کے پاس سے گزرے وہ سورہا تھا آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے پاؤں   سے حَرکت دی تووہ بیدار ہوگیاپھر اسے فرمایا :  ’’ کیاتجھے معلوم نہیں   کہ اس وقت اللہ عَزَّوَجَلَّاپنے بندوں   کی طرف خاص توجہ فرماتا ہے اوران میں   سے بعض کواپنی رحمت سے جنت میں   داخل فرماتاہے ۔  ‘‘    ( [4] )

زائد پانی مت بیچو :  

 ( 997 ) … حضرت سیِّدُناعمروبن شُعَیْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے داداسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمرورَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے ایک خادم نے بچاہواپانی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے چچا کو20 ہزارمیں   بیچ دیاتوآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ بچے ہوئے پانی کو مت بیچوکہ اسے بیچنامنع ہے ( [5] ) ۔  ‘‘    ( [6] )

اللہعَزَّوَجَلَّکے نام پردینے کی فضیلت :  

 ( 998 ) … حضرت سیِّدُنا یعقوب بن عاصِم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :   ’’ جس سے اللہعَزَّوَجَلَّکے نام پرکچھ مانگا گیا اور اس نے دے دیاتواس کے نا مۂ اعمال میں   70نیکیاں   لکھی جاتی ہیں   ۔  ‘‘    ( [7] )

 

سیِّدُناعبداللہبن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی سخاوت :  

 ( 999 ) … حضرت سیِّدُناسلیمان بن رَبِیْعَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں   نے حضرت سیِّدُنا امیر مُعَاوِیَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے دورِحکومت میں   حج کیا اور بصری قراء کی ایک جماعت میں   شاملمُنْتَصِربن حارِث ضَبِّی میرے ساتھ تھا  ۔  وہ سب لوگ کہنے لگے کہ ’’   اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم  ! ہم اس وقت تک واپس نہیں   لوٹیں   گے جب تک رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کسی صحابی سے ملاقات کرکے ان سے احادیث نہ سن لیں   ۔  ‘‘ چنانچہ،   ہم لوگوں   سے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے بارے میں   پوچھتے رہے یہاں   تک کہ کسی نے ہمیں   بتایاکہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمروبن عاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا مکۂ مکرمہ زَادَہَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاکی نچلی جانب ٹھہرے ہوئے ہیں   ۔  ہم ان سے ملاقات کے لئے ان کی طرف چل دئیے  ۔ اچانک ہم نے ایک عظیم لشکردیکھا جوکُوچ کررہا تھااس میں  300اونٹ تھے جن میں   سے 100 سواری کے لئے اور200باربرداری ( یعنی سازوسامان اٹھانے )  کے لئے تھے  ۔ ہم نے لوگوں   سے پوچھا :  ’’ یہ بھاری لشکرکس کاہے ؟  ‘‘  اُنہوں   نے بتایا :  ’’ یہ لشکرحضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا ہے  ۔  ‘‘ ہم نے پوچھا :  ’’ کیا یہ سب کا سب اِنہی کا ہے ؟  ‘‘ پھرہم آپس میں   باتیں   کرنے لگے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ لوگوں  میں   سب سے زیادہ عاجزی وانکساری کرنے والے ہیں   ۔  اتنے میں  لوگوں   نے بتایاکہ ’’  ان میں  100 اُونٹ ان کے دوستوں   کے لئے ہیں  اور200اُونٹ مہمانوں   کے لئے ہیں   جو مختلف شہروں   سے ان کے پاس حاضر ہوتے ہیں   ۔  ‘‘ یہ سن کرہمیں   بڑا تعجب ہواتو لوگوں   نے کہا :  ’’ یہ تعجب کی بات نہیں   ہے کیونکہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمرورَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا ایک مالدارآدمی ہیں   اورہرآنے والے مہمان کو زادِراہ دینا ضروری سمجھتے ہیں   ۔  ‘‘ ہم نے کہا :  ’’ ہمیں   ان تک پہنچا دو ۔  ‘‘  تو انہوں   نے ہمیں   بتایاکہ ’’  وہ مسجد حرام میں   تشریف فرماہیں   ۔  ‘‘  ہم ان کی تلاش میں   مسجد حرام گئے توانہیں   کعبہ مشرفہ زَادَہَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاکے پیچھے بیٹھے پایا ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پَسْتہ قدتھے اوراس وقت آشوب چشم کے مرض میں   مبتلاتھے ،  دوچادریں   اوڑھ رکھی تھیں  ،   سرپرعمامہ سجایا ہوا تھاجبکہ بدنِ مبارَک پرقمیص نہ تھی اورجوتے اپنی بائیں   جانب رکھے ہوئے تھے ۔  



[1]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزھد ،  ما قالوافی البکاءالخ ،  الحدیث : ۱۸ ، ج۸ ، ص۲۹۹ ، مفہومًا۔

[2]    مکہ معظمہ کے چاروں   طرف میلوں   تک اس کی حدود ہے اور یہ زمین حرمت وتقدس کی وجہ سے ’’حرم ‘‘کہلاتی ہے ہرجانب اس کی حدود پر نشان لگے ہیں  ۔حدودِحرم سے باہر میقات تک کی زمین کو ’ ’ حل ‘‘کہتے ہیں  ۔

 ( رفیق الحرمین ، ص۴۱ ، ۴۲ )

[3]    مجمع الزوائد ،  کتاب الصلاۃ ،  باب عددالوتر ،  الحدیث : ۳۴۵۳ ، ج۲ ، ص۵۰۳۔

[4]    مجمع الزوائد ،  باب فی النوم بعدالصبح ،  الحدیث : ۱۷۹۱ ، ج۲ ، ص۶۹۔