Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

برائی کاگڑھا :  

 ( 986 ) … حضرت سیِّدُناخالِدبن یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَجِیْدسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمرو بن عاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :  ’’  تو رات شریف میں   لکھا ہے کہ ’’  جس نے کسی قسم کی ناجائزتجارت کی اس نے نافرمانی کی اورجو اپنے کسی رفیق کے لئے برائی کا گڑھا کھودے گا خود اس میں   جاگرے گا ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 987 ) … حضرت سیِّدُناشَرَاحِیلعَلَیْہرَحْمَۃُ اللہ الْوَکِیْل فرماتے ہیں : میں   نے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو فرماتے سنا کہ ’’  بے شک شیطان نچلی زمین میں   بندھا ہوا ہے جب وہ حرکت کرتا ہے تو زمین پر موجود ہر شر دو یا زیادہ حصوں   میں   بٹ جاتا ہے ۔  ‘‘    ( [2] )

 

 

 ( 988 ) … حضرت سیِّدُنااِبْنِ اَبِی مُلَیْکَہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمرو بن عاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :  ’’  اگر تم وہ جان لو جومیں   جانتاہوں   تو کم ہنسو اور زیادہ روؤ اور اگرتم علم کاحق جان لوتواس قدرچیخوکہ تمہاری آوازختم ہوجائے اوراتناطویل سجدہ کروکہ تمہاری کمرٹوٹ جائے ۔  ‘‘    ( [3] )

آگ کی آواز :  

 ( 989 ) …  حضرت سیِّدُناجَعْفَر بن ابی عِمرانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں  : ہمیں   یہ خبر ملی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمرو بن عاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ایک مرتبہ آگ کی آواز سنی توفوراًبولے:  ’’ اور میں   ؟  ‘‘ کسی نے عرض کی :   ’’ اے ابن عمرورَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  یہ کیا ہے ؟   ‘‘ فرمایا :  ’’  اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں   میری جان ہے ! یہ دنیاکی آگ اس بات سے پناہ مانگ رہی ہے کہ اسے دوبارہ دوزخ کی آگ میں   داخل کیا جائے ۔  ‘‘    ( [4] )

صبرکی تلقین :  

 ( 990 ) … حضرت سیِّدُناابو عبدالرحمن حُبُلِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیسے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمرورَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے عرض کی :   ’’ کیا ہم فقرا مہاجرین میں   سے نہیں   ہیں   ؟  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے استفسار فرمایا :  ’’ کیا تمہاری بیوی ہے جس کے پاس تم جاتے ہو ؟  ‘‘  عرض کی :   ’’ جی ہاں   ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’ کیا تمہارے پاس رہنے کامکان ہے ؟  ‘‘ عرض کی :   ’’ جی ہاں   ۔  ‘‘  توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ پھرتم فقرا مہاجرین میں   سے نہیں   ہو،  اب اگرتم چاہوتوہم تمہیں   عطا کردیں   اوراگر چاہوتو تمہارامعاملہ بادشاہ کے سامنے پیش کردیں   ؟  ‘‘  اس نے عرض کی :  ’’  ہم صبرکریں   گے اورکسی چیزکا سوال نہیں   کریں   گے ۔  ‘‘    ( [5] )

 صبرکااُخروی اِنعام :  

 ( 991 ) …  حضرت سیِّدُنا ابوکَثِیرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَدِیْرسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فقرا سے فرمایا :  میدان محشرمیں   ایک نداء لگائی جائے گی کہ ’’   اس امت کے فقرا و مساکین کہاں   ہیں   ؟   ‘‘  یہ

 

نداء سن کرتم لوگوں   میں   نمایاں   ہوجاؤگے تو فرشتے پوچھیں   گے کہ ’’   تمہارے پاس کیا ہے ؟  ‘‘ توتم  ( فرشتوں   کے بجائے )  بارگاہِ خداوندی میں   عرض کروگے :  ’’ اے ہمارے پَرْوَرْدْگار عَزَّوَجَلَّ !  تونے ہمیں   آزمائشوں   میں   مبتلا کیا توہم نے صبر کیااورتو بہتر جانتا ہے اور تونے مال وبادشاہی دوسروں   کوعطا فرمائی ۔  ‘‘ پس فرمایاجائے گا :   ’’  تم نے سچ کہا ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’ اس کے بعد فقرا ومساکین ایک زمانہ پہلے جنت میں   داخل ہوجائیں   گے جبکہ مالداروں   پرحساب وکتاب کی شِدَّت باقی رہے گی ۔  ‘‘    ( [6] )

روحوں   کورزق دیاجاتاہے :  

 ( 992 ) … حضرت سیِّدُناخالدبن مَعْدانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمرورَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایاکہ ’’  جنت لپٹی ہوئی ہے ۔ سورج کے کناروں   سے بندھی ہوئی ہے ۔  ہرسال ایک مرتبہ پھیلتی ہے اورمومنین کی ارواح چڑیوں   کی مانند سبزپرندوں   کے پیٹوں   میں   ہوتی ہیں   ۔  ایک دوسرے کوپہچانتی ہیں   اور انہیں   جنت کے پھلوں   سے رزق دیا جاتا ہے ۔  ‘‘    ( [7] )

گریہ وزاری :  

 ( 993 ) …  حضرت سیِّدُنا یعلٰی بن عَطاء رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی والدہ نے انہیں  بتایاکہ ’’   حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمرورَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا بہت زیادہ گریہ وزاری فرماتے تھے اورمیں   ان کے



[1]    کتاب روضۃ العقلاء ونزہۃ الفضلاء ،  ذکرالزجرعن التجسس وسوء الظن ، ص۱۲۸۔

[2]    تفسیر القرطبی ،  سورۃ البقرۃ ،  تحت الآیۃ۱۶۸ ، الجزء الثانی ، ج۱ ، ص۱۶۰۔

[3]    الزھدلوکیع ،  باب قلۃ الضحک ،  الحدیث : ۱۸ ، ج۱ ، ص۲۴۔

[4]    موسوعۃلابن ابی الدنیا ،  کتاب صفۃ النار ،  الحدیث : ۱۵۰ ، ج۶ ، ص۴۳۱۔

[5]    صحیح مسلم ،  کتاب الزھد ،  باب الدنیا سجن للمؤمن وجنۃ للکافر ،  الحدیث : ۷۴۶۲ / ۷۴۶۳ ، ص۱۱۹۴ ، بتغیرٍ۔

[6]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزھد ،  الحدیث : ۳ ، ج۸ ، ص۱۸۸۔

[7]