Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

ابراہیم  ( عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام )   کوآگ کے پاس لایا گیا تو آپ ( عَلَیْہِ السَّلَام ) نے آگ کی طرف دیکھ کر ’’ حَسْبُنَااللہ وَنِعْمَ الْوَکِیْل ‘‘ پڑھا ۔  ‘‘  یعنی ہمیں  اللہ عَزَّوَجَلَّ کافی ہے اور وہ کتنا اچھا کارساز ہے ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 35 ) … حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضورنبی ٔپاک،   صاحبِ لَوْلاک،   سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’ جب حضرت ابراہیم  ( عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام ) کو آگ میں   ڈالا گیا تو آپ  ( عَلَیْہِ السَّلَام )  نے ’’ حَسْبِیَ اللہ وَنِعْمَ الْوَکِیْل ‘‘ پڑھا یعنی مجھے اللہ کافی ہے اور وہ کتنا اچھا کار ساز ہے  ۔  ‘‘   ( [2] )

 ( 36 ) … حضر ت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ،  قرارِ قلب و سینہ ،  با عثِ نُزولِ سکینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  جب حضرت ابراہیم ( عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام )  کو آگ میں   ڈالا گیا تو آپ  ( عَلَیْہِ السَّلَام )  نے کہا :  ’’  اَلّٰلھُمَّ اِنَّکَ وَاحِدٌفِی السَّمَآءِ وَاَنَافِی الْاَرْضِ وَاحِدٌ اَعْبُدُکَ ‘‘ یعنی اےاللہ عَزَّوَجَلَّ !  تیری آسمان پرحکومت ہے او رمیں   زمین میں   اکیلا تیری عبادت کرنے والا ہوں   ۔  ‘‘   ( [3] )

 ( 37 ) … حضرت سیِّدُنانَوْف بِکَا لِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِیفرماتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیمعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَامنے عرض کی :   ’’  اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ !  زمین میں   میرے سوا کوئی تیری عبادت کرنے والا نہیں   تواللہ عَزَّوَجَلَّنے 3 ہزار فرشتے اتارے اور حضرت سیِّدُناابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام نے 3 دن تک ان فرشتوں   کی امامت فرمائی ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 38 ) … حضرت سیِّدُنابکر بن عبداللہمُزَنیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِیفرماتے ہیں  : جب حضرت سیِّدُناابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام کو آگ میں   ڈالا جانے لگا تو ساری مخلوق نے اللہعَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں   التجاء کی: ’’  یااللہ  عَزَّوَجَلَّ !  تیراخلیل آگ میں   ڈالاجارہا ہے ہمیں   آگ بجھانے کی اجازت عطا فرما !  ‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّنے ارشادفرمایا :  ’’ وہ میرا خلیل ہے اوراس وقت زمین میں   اس کے سوا میرا کوئی خلیل نہیں    ۔ میں   اس کا رب ہوں   اور میرے سوا اس کا کوئی رب نہیں   ہے ۔  اگر وہ تم سے مدد چاہتے ہیں   تو تم اس کی مدد کر و ورنہ اسے اس کے حال پر چھوڑدو ۔  ‘‘  پھر بارش پر مقرر فر شتہ حاضر ہو ااور عرض کی :  ’’  اے میر ے رب عَزَّوَجَلَّ !  تیرا خلیل آگ میں   ڈالا جارہا ہے مجھے اجازت عطا فرما کہ میں   بارش کے ذریعے آگ کو بجھا دو ں   !  ‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّنے ارشادفرمایا :  ’’  وہ میرا خلیل ہے اور اس وقت زمین میں   اس کے سوا میرا کوئی خلیل نہیں   اور میں   اس کا رب ہوں   اور میرےسوا اس کا کوئی رب نہیں   اگر وہ تجھ سے مدد چاہتے ہیں   تو اس کی مدد کرو ورنہ اسے اس کے حال پر چھوڑدو ۔  چنا نچہ،   جب حضرت سیِّدُناابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَامکو آگ میں   ڈالا جانے لگا تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّسے دُعا کی تواللہ عَزَّوَجَلَّنے آگ کو حکم ارشاد فرمایا :  

یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ(۶۹) ( پ۱۷،  الانبیاء :  ۶۹ )

ترجمۂ  کنز الایمان :  اے آگ ہو جا ٹھنڈی اور سلامتی ابراہیم پر ۔

            تو اس دن مشرق ومغر ب کے تمام لوگوں   پر آگ ٹھنڈی ہوگئی او راس سے بکری کا ایک پایہ بھی نہ پک سکا  ۔  ‘‘ ( [5] )

 ( 39 ) … حضر ت سیِّدُنامقاتل وسعید  رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا فرماتے ہیں :  جب حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام کو آگ میں   ڈالنے کے لئے لایا گیاتو آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے کپڑے اُتارلئے گئے اور رسی سے باند ھ کر مِنْجَنِیْقمیں   ڈالا گیا تو آسمان ،   زمین ،  پہاڑ ،   سو رج ،   چاند،   عرش،   کرسی ،   با دل ،   ہوا اور فرشتے رو دیئے اور سب نے مل کر عرض کی :   یااللہ عَزَّوَجَلَّ !  تیرے بندۂ خاص کو آگ میں   ڈالاجا رہا ہے ہمیں   اس کی مدد کرنے کی اجازت عطا فرما ۔  آگ نے روتے ہوئے عرض کی :  ’’ اے رب عَزَّوَجَلَّ !  تو نے مجھے بنی آدم  کے لئے مسخر کیا اورتیرا بندۂ خاص میرے  ذریعے جلایا جا رہا ہے ۔  ‘‘  اللہ عَزَّوَجَلَّنے ان سب سے ارشاد فرمایا :  ’’  میرے بندے نے میری عبادت کی اور میری ہی وجہ سے اسے تکلیف دی جار ہی ہے اگر وہ مجھ سے دعا کرے تو میں   اس کی دعا قبول کروں   گا اور اگر وہ تم سے مدد طلب کرے تو تم اس کی مدد کرسکتے ہو ۔  ‘‘  چنانچہ،   جب حضرت سیِّدُناابراہیمعَلٰٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو آگ کی طر ف پھینکا گیا تو منجنیق اور آگ کے درمیان حضرت سیِّدُناجبریل عَلَیْہِ السَّلَام  نے آپعَلَیْہِ السَّلَام کی خدمت میں   حاضر ہو کر عر ض کی :  ’’  اے ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام !  آپ پرسلام ہو میں   جبریل ہوں   ،  کیا آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو کوئی حاجت ہے  ؟  ‘‘  حضرت سیِّدُناابرہیم خلیل اللہ عَلٰٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا :   ’’ ہے ،   مگر تم سے نہیں    ۔  مجھے تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طر ف حاجت ہے ۔  ‘‘ پھر جب حضرت سیِّدُناابراہیم خلیل اللہ عَلٰٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو آگ میں   ڈال دیا گیا تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام  آگ تک پہنچیں   اس سے پہلے ہی حضرت سیِّدُنااِسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام پہنچ گئے اور آگ کو رسیوں   پر مسلط کر دیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّنے آگ کو حکم دیا :  

یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ(۶۹) ( پ۱۷،  الانبیاء :  ۶۹ )

ترجمۂ کنز الایمان :  اے آگ ہو جا ٹھنڈی اور سلامتی ابراہیم پر ۔

            حکمِ خداوندی پاتے ہی وہ آگ ٹھنڈی ہوگئی اور ایسی ٹھنڈی ہوئی کہ اگر اس کے ساتھ ’’  وَسَلٰمًا ‘‘  لفظ نہ فرمایاجاتا تو سخت سردی کی وجہ سے آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اعضائے مبارَکہ سُکڑ جاتے  ۔  ‘‘   ( [6] )

 



[1]    معجم شیوخ أبی بکرالإسماعیلی ،  باب العین ،  الحدیث : ۳۲۷ ، ج۱ ، ص۴۹۵۔