Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

ہوں   اور آرام بھی کرتا ہوں   اور میں   عورتوں   کے پاس بھی جاتاہوں   ۔ تو جس نے میری سنت سے روگردانی کی وہ مجھ سے نہیں   ( یعنی میرے طریقہ پرنہیں   )   ۔  ‘‘  پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ ہر مہینے ایک مرتبہ قرآن مجید پڑھا کرو  ۔  ‘‘  میں   نے عرض کی :  ’’ میں   اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں   ۔  ‘‘  ارشادفرمایا :   ’’ تو ہر 10 دن میں   ایک بار پڑھ لیا کرو ۔  ‘‘ میں   نے عرض کی :   ’’ میں   اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتاہوں   ۔  ‘‘ فرمایا :  ’’ توہر 3 دن میں   ایک بارپڑھ لیاکرو ۔  ‘‘  پھرارشاد فرمایا :  ’’  ہر مہینے 3 روزے رکھا کرو ۔  ‘‘  میں   نے عرض کی :   ’’ میں   اس سے زیادہ کی اِستطاعت رکھتاہوں   ۔  ‘‘ توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم روزوں   کی تعداد بڑھاتے رہے یہاں   تک کہ آخر میں   ارشادفرمایا:  ’’ ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن نہ رکھوکہ یہ سب سے افضل روزے ہیں   اور یہ میرے بھائی حضرت داؤدعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَ السَّلَام کے روزے ہیں    ۔  ‘‘

            حضرت سیِّدُناحَصِیْنرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی روایت میں   اتنازائدہے کہ پھرحضور نبی ٔپاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :  ’’ بے شک ہر عبادت گزار کے لئے ایک تیزی اورشِدَّت ہوتی ہے اورہرتیزی کے بعدسستی وکمزوری ہوتی ہے جوسنَّت یابدعت کے مُوَافِق ہوتی ہے ۔ پس جس کی کمزوری سنَّت کے مُوَافِق ہوئی اس نے ہدایت پائی اور جس کی بدعت کے مُوَافِق ہوئی وہ ہلاک ہوگیا ۔  ‘‘

            حضرت سیِّدُنامجاہِدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَاحِد فرماتے ہیں : حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہجب ضعیف اورعمررسیدہ ہوگئے توبھی کئی کئی دِنوں   تک لگاتار روزے رکھتے ۔  پھرناغہ کرتے تاکہ اپنے اندر قوَّت جمع کرلیں   اور اسی طرح کبھی اپنے وظائف کو بڑھادیتے تو کبھی ان میں   کمی کر دیتے ۔  البتہ !  مُقَرَّرَہ تعداد کو 7 یا 3 دنوں   میں   ضرورپوراکر لیتے اور فرمایا کرتے کہ ’’   حضورنبی ٔ رحمت،  شفیعِ امت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دی ہوئی رُخصت کو قبول کرلینامجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ اس مُقَرَّرَہ تعداد میں   کمی بیشی کروں   ۔  لیکن جس حالت پرمیں   آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جدا ہواہوں  اس کاخلاف کرنامجھے پسند نہیں   ۔  ‘‘    ( [1] )

خواب میں   علم کی بشارت :  

 ( 974 ) … حضرت سیِّدُناوَا ہِب بنعبداللہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا: میں   نے ایک مرتبہ خواب میں   دیکھا کہ میری ایک اُنگلی میں   گھی اور دوسری میں   شہد ہے اور میں   ان دونوں   انگلیوں   کو چاٹ رہا ہوں   ۔ صبح میں   نے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس کا ذِکر کیاتوآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا :  ’’  تم 2 کتابوں   تورات اورقرآنِ مجید کاعلم حاصل کروگے ۔   ‘‘  چنانچہ،  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے دونوں   کتابوں   کاعلم حاصل کیا ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 975 ) … حضرت سیِّدُناابو عبدالرحمن حُبُلِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : میں   نے حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمروبن عاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو فرماتے سناکہ ’’ اس زمانے میں   کسی نیکی کوبجالانامجھے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانے میں   اس سے دُگنا عمل کرنے سے زیادہ محبوب ہے ۔  کیونکہ آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارَک زمانے میں   ہمیں   آخرت کی فکررہتی تھی،   دنیاکاکچھ غم نہ تھا جبکہ آج دنیا نے ہمیں   اپنی طرف مائل کر لیا ہے ۔  ‘‘    ( [3] )

افضل عمل :  

 ( 976 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضورنبی ٔکریم،   رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی: ’’ اسلام کاکون سا عمل سب سے افضل ہے ؟  ‘‘  ارشاد فرمایا :   ’’ تمہارا لوگوں   کوکھاناکھلانااورہرجاننے اورنہ جاننے والے کو سلام کرنا ۔  ‘‘    ( [4] )

جنت میں   لے جانے والے اعمال :  

 ( 977 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمرو بن عاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار،   ہم بے کسوں   کے مددگار،   شفیعِ روزِ شُمارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت کرو،   سلام عام کرو اور کھانا کھلاؤ جنت میں   داخل ہو جاؤ گے ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 978 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’  میں   نے حضورنبی ٔپاک،  صاحبِ لولاک،   سیاحِ افلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ایک ایسی مجلس اختیار کی کہ اس جیسی مجلس نہ اس سے پہلے اختیار کی نہ اس کے بعد،   اس مجلس کے بارے میں   مجھے اپنے آپ پر اتنا رشک آتاہے کہ اس کے علاوہ کسی اورمجلس میں   شریک ہونے پراتنارشک نہیں   آتا ۔  ‘‘    ( [6] )

ادائے رسول :  

 ( 979 ) … حضرت سیِّدُناعمروبن شُعَیْب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والدفرماتے ہیں : میں   نے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے ساتھ بیت اللہ شریف کا طواف کیا ۔ جب



[1]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  مسندعبداﷲ بن عمروبن العاص ،  الحدیث : ۶۴۸۷ ، ج۲ ، ص۵۴۹۔

[2]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  مسندعبداﷲ بن عمروبن العاص ،  الحدیث : ۷۰۸۸ ، ج۲ ، ص۶۸۷۔

[3]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۴۳ ، ج۱۳۔۱۴ ، ص۱۶۔

[4]    صحیح البخاری ،  کتاب الإیمان ،  باب إطعام الطعام من الإسلام ،  الحدیث : ۱۲ ، ص۳۔

[5]    سنن الدارمی ،  کتاب الأطعمۃ ،  باب فی إطعام الطعام ،  الحدیث : ۲۰۸۱ ، ج۲ ، ص۱۴۸۔