Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

رہا،   اب ایمان ہے یا کفر ( [1] ) ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 949 ) … حضرت سیِّدُناابووَائِلرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ اس دور کے منافقین زمانۂ رسالت کے منافقین سے بد ترہیں   کیونکہ وہ اپنانفاق چھپا تے تھے جبکہ یہ اپنا نفاق ظاہرکرتے ہیں    ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 950 ) … حضرت سیِّدُناشَمِربن عَطِیَّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص سے فرمایا :  ’’ کیا لوگوں   میں   بدترین شخص کو قتل کرناتمہیں   خوش کرتاہے  ؟  ‘‘  اس نے کہا: ’’ جی ہاں   ۔  ‘‘  توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ پھر تو تم اس سے بھی زیادہ بدتر ہو ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 951 ) … حضرت سیِّدُناسَعْد بن حُذَیْفَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں   نے اپنے والدحضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو فرماتے ہوئے سناکہ ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  جس نے ایک بالشت بھی جماعت سے علیحدگی اختیار کی اس نے اسلام کو چھوڑ دیا  ( [5] ) ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 952 ) …  حضرت سیِّدُناابراہیم بن ہَمَّام رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  اے قاریوں   کے گروہ !  سیدھے راستے پرگامزن رہوکیونکہ اگر سیدھے راستے پر چلتے رہے تو بہت آگے نکل جاؤ گے لیکن اگر دائیں   بائیں   ہوگئے تو دور کی گمراہی میں   جا گرو گے ۔  ‘‘    ( [7] )

 ( 953 ) … حضرت سیِّدُناابوسَلامہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَ یْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  تم پر ضرورایسے حکمران بھی ہوں   گے کہ قیامت کے دناللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک ان میں   سے کسی کامقام جَو کے چھلکے کے برابر بھی نہ ہوگا ۔  ‘‘    ( [8] )

آخرت کی تیاری کادرس :  

 ( 954 ) … حضرت سیِّدُناابو عبدالرحمن سُلَمِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں   جمعہ کی نمازکے لئے اپنے والد کے ہمراہ مدائن گیا ۔ جامع مسجد ہم سے تین میل کے فاصلہ پرتھی ۔ ان دنوں   حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ بن یَمَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  مدائن کے گورنر تھے ۔  چنانچہ،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ منبر پرتشریف فرما ہوئے ،   حمدو ثناء کے بعد فرمایا :  ’’ قیامت قریب آچکی اور چاندشق ہو گیا ۔  ہاں   ! ہاں   !  چاند دو ٹکڑے ہو چکا ہے اور دنیا جدائی کااِعلان کرچکی ہے ۔  آج دوڑ کا میدان ہے اور کل دوڑکامقابلہ ہو گا ۔  ‘‘ راوی کہتے ہیں : ’’ میں   نے اپنے والدسے ’’ دوڑکے مقابلے ‘‘  کا مطلب دریافت کیاتوانہوں   نے بتایاکہ اس سے جنت کی طرف سبقت لے جانا مراد ہے  ۔  ‘‘    ( [9] )

جنت سے محرومی :  

 ( 955 ) … حضرت سیِّدُناکُرْدُوس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے مدائن میں   خطبہ دیتے ہوئے فرمایا :   اے لوگو !  اپنے غلاموں   کی آمدنی میں   اچھی طرح غور کیاکرو حلال ہو تواستعمال کرو ورنہ قبول نہ کرو ۔ کیونکہ میں   نے حضورنبی ٔ رحمت،  شفیعِ امت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا  ہے کہ ’’   حرام سے پلنے والاجسم جنت میں   داخل نہیں   ہوگا ۔  ‘‘    ( [10] )

عالِم کی نشانی اورجھوٹے کی پہچان :  

 ( 956 ) … حضرت سیِّدُناسُلَیْمعامِرِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : میں   نے حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوفرماتے ہوئے سناکہ ’’  آدمی کے عالم ہونے کے لئے اتنی بات



[1]    یعنی حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانہ میں   وقتی مصلحتوں   کے ماتحت منافقوں   کو قتل نہ کیا گیا ۔اگرچہ ان سے علامات کفر ظاہر ہوئیں   تاکہ کفار ہماری خانہ جنگی سے فائدہ نہ اٹھائیں   اس زمانہ میں   تین قسم کے لوگ مانے گئے کافر ،  مؤمن اور منافق  ،  حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعدنفاق کوئی چیز نہیں   ،  یاکفر ہے یا اسلام۔ اگر کسی سے علامات کفر دیکھی گئیں   قتل کیا جائے گا  ، کھلا کافر بھی قتل ہو گا ،  چھپا بھی کیونکہ وہ مرتد ہے۔                ( مرآۃ المناجیح ، ج۱ ، ص۸۱ )  

[2]    صحیح البخاری ،  کتاب الفتن ،  باب اذا قال عند قوم شیئًاالخ ،  الحدیث : ۷۱۱۴ ، ص۵۹۳ ، مفہومًا۔

[3]    مسندابی داؤدالطیالسی ،  احادیث حذیفۃ بن الیمان ،  الحدیث : ۴۱۰ ، ص۵۵۔

[4]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الفتن ،  باب من کرہ الخروج فیالخ ،  الحدیث : ۲۸۶ ، ج۸ ، ص۳۷ ۶۔

[5]    یعنی جو ایک ساعت کے لئے اہل سنت و جماعت کے عقیدے سے الگ ہوا یا کسی معمولی عقیدے میں   بھی انکا مخالف ہوا تو آئندہ اس کے اسلام کا خطرہ ہے  ، جیسے بکری وہی محفوظ رہتی ہے جو میخ سے بندھی رہے ۔مالک کی قید سے آزاد ہو جانا بکری کی ہلاکت ہے ، مسلمانوں   کی جماعت نبی ٔکریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رسی ہے جس میں   ہر سنی بندھا ہوا ہے یہ نہ سمجھو کہ فرض کا انکار ہی خطرناک ہے کبھی مستحبات کا انکار بھی ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے  ، حضرت سیِّدُناعبداللہ بن سلام  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) نے صرف اونٹ کے گوشت سے بچنا چاہا تھا کہ رب تعالیٰ نے فرمایا :    یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً۪-وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ     ( پ۲ ، البقرۃ : ۲۰۸ )  ترجمۂ کنز الایمان :   اے ایمان والو! اسلام میں   پورے داخل ہو اور شیطان کے قدموں   پر نہ چلو۔ تفسیر کبیر میں   اس کا شانِ نزول یہ بیان کیاگیاہے کہ ’ ’ اہلِ کتاب میں   سے حضرت سیِّدُناعبد

Total Pages: 273

Go To