Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 941 ) … حضرت سیِّدُناطارِق بن شِہَاب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَہَّابسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے کسی نے پوچھا :  ’’  کیابنی اسرائیل نے ایک ہی دِن میں   اپنے دین کو چھوڑدیاتھا ؟  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ نہیں   ! بلکہ جب انہیں   کسی کام کے بجالانے کاحکم دیا جاتا تو وہ اسے ترک کر دیتے اور جب کسی کام سے روکاجاتا تو اسے کر گزرتے تھے یہاں   تک کہ آہستہ آہستہ اپنے دین سے اس طرح نکل گئے جس طرح آدمی اپنی قمیص سے نکل جاتا ہے  ۔  ‘‘    ( [1] )

 ’’  اَمْرٌبِالْمَعْرُوْف وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر ‘‘  ترک کرنے کاوبال

 ( 942 ) …  حضرت سیِّدُناعبداللہبن سِیْدَانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّکی لعنت ہواس پرجو ہمارے طریقے پرنہ ہو ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !  تم ضرور نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے رہو ورنہ تم ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو گے اور تمہارے بُرے تمہارے نیکوں   پر غالب آجائیں   گے اوروہ نیک لوگوں   کو قتل کر دیں   گے ۔ یہاں   تک کہ کوئی ایک بھی باقی نہ بچے گا جو نیکی کا حکم کرے اور برائی سے منع کرے ۔  پھر تماللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا مانگو گے لیکن وہ تم پر ناراض ہونے کی وجہ سے تمہاری دعا قبول نہیں   فرمائے گا  ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 943 ) … حضرت سیِّدُناابورُقَاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْجَوَادفرماتے ہیں :  ایک مرتبہ میں   اپنے آقاکے ہمراہ حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس گیااس وقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرما رہے تھے کہ ’’ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارَک زمانے میں   کوئی شخص ایسی بات کہہ دیتا تھاجس سے وہ منافق ہو جاتا تھا اور اب میں   تم سے ایک ہی مجلس میں   4،   4 مرتبہ وہ بات سنتا ہوں   ۔  تم ضرور نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے رہو اور دوسروں   کو نیکی کی ترغیب دلاتے رہو ورنہاللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں   عذاب میں   مبتلا فرمادے گا اور بدترین لوگ تم پر حکمرانی کرنے لگیں   گے ۔  پھر تمہارے نیک لوگ دعا کریں   گے لیکن ان کی دعاقبول نہ کی جائے گی ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 944 ) … حضرت سیِّدُناابو ظَبْیَانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ جب بھی کوئی قوم ایک دوسرے پرلعن طعن کرنے میں   مبتلا ہوتی ہے توان پر بات  ( یعنی عذاب وسزا )  ثابت ہو جاتی ہے ۔   ‘‘    ( [4] )

 ( 945 ) … حضرت سیِّدُنانَزَّال بن سَبْرَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ ہم حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے ہمراہ ایک گھر میں   جمع تھے کہ حضرت سیِّدُناعثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان سے پوچھا :  ’’ اے ابوعبداللہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  مجھے آپ کے بارے میں   کیسی خبرپہنچی ہے ؟  ‘‘  انہوں   نے کہا :  ’’ میں   نے کیاکہاہے ؟  ‘‘  حضرت سیِّدُناعثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایاکہ ’’  تم سب سے زیادہ سچے اور نیک ہو ۔  ‘‘ راوی فرماتے ہیں : جب  حضرت سیِّدُناعثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لے گئے تومیں   نے حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا:  ’’ اے ابوعبداللہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  جو بات آپ کی طرف منسوب ہے کیاواقعی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے وہ بات نہیں   کہی  ؟  ‘‘  فرمایا :  ’’ ہاں   ! کیوں   نہیں   ! لیکن میں   دین کے بعض معاملات میں   توریہ ( [5] )کرتا ہوں   اس ڈر سے کہ کہیں  سارا دین نہ جاتا رہے ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 946 ) … حضرت سیِّدُناابوعمروزَاذَانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  تم پرایک زمانہ ایساآئے گا کہ اس وقت تم میں   بہتر ین شخص وہ ہوگاجو ’’  اَمْرٌبِالْمَعْرُوْف وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر ‘‘ نہیں   کرے گا ۔  ‘‘    ( [7] )

 ( 947 ) … حضرت سیِّدُناحَبِیب بن اَبی ثَابِترَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  ’’ مومن سے مخلص رہواور کافر سے  ( باجازت شرعی ) راہ ورسم رکھو  ( [8] )اور اپنے دین کو عیب دار نہ کرو  ۔  ‘‘

 ( 948 ) … حضرت سیِّدُناابوشَعْثَاء مُحَارِبِی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں   نے حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’   نفاق جاتا



[1]    السنۃ لابی بکر بن الخلال ،  باب مناکحۃ المرجئۃ ،  الحدیث : ۱۳۳۲ ، ج۳ ، ص۳۹۵۔

[2]    موسوعۃ لابن ابی الدنیا ،  کتاب الامربالمعروفالخ ،  الحدیث : ۱۶ ، ج۲ ، ص۱۹۸ ، بدون ’ ’واﷲ ،   بینکم‘‘۔

[3]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  الحدیث : ۲۳۳۷۲ ، ج۹ ، ص۸۷۔

[4]    جامع معمربن راشدمع المصنف لعبدالرزاق ،  کتاب الجامع ،  باب اللعن ،  الحدیث : ۱۹۷۰۴ ، ج۱۰ ، ص۳۰۔

[5]

Total Pages: 273

Go To