Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 914 ) … حضرت سیِّدُنازَید بن وَہْب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ بے شک فتنے وقفے وقفے سے آئیں   گے اور یکایک بھی ۔  پس جو ان وقفوں   کے درمیان مرسکتاہو ضرور مرجائے ۔  وقفہ سے مراد تلوار کو نیام میں   ڈال لیناہے ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 915 ) … حضرت سیِّدُناہَمَّام رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  لوگوں   پرایک ایسا زمانہ آئے گاکہ جس میں   صرف وہ شخص نجات پائے گا جو ڈوبنے والے کی دعاجیسی دعا کرے گا ۔  ‘‘    ( [2] )

  ( 916 ) … حضرت سیِّدُناحَبَّہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابومسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   عرض کی :   ’’ فتنے کازمانہ آچکا ہے لہٰذاآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے جواحادیث اس بارے میں   سنی ہیں   مجھے سنائیں   ۔  ‘‘ حضر ت سیِّدُنا حُذَیْفَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  کیا یقین یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّکی کتاب تمہارے پاس نہیں   آئی ۔  ‘‘

فتنہ عقل کوبگاڑدیتاہے :  

 ( 917 ) … حضرت سیِّدُناابووَائِلرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ فتنہ شراب سے زیادہ لوگوں   کی عقلوں   کو بگاڑدیتا ہے ۔  ‘‘    ( [3] )

فتنے کاوبال کس پر  ؟

 ( 918 ) … حضرت سیِّدُنازَید بن وَہْب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  میں   نے حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو فرماتے سنا کہ ’’  فتنے کا وبال تین آدمیوں   کے سر ہے ۔ ایک عقلمندوذہین جس کے سامنے جو چیز بھی سر اُٹھاتی ہے وہ تلوار کے ساتھ اس کا قلع قمع کر دیتا ہے ۔  دوسرا خطیب جواپنے خطاب سے لوگوں   کو فتنے کی طرف بلاتاہے اور تیسرا سردار ہے ۔  پہلے دوکوتوفتنہ منہ کے بل گرا دے گا جبکہ سردار کو برا نگیختہ کرتا رہے گایہاں   تک کہ جو کچھ اس کے پاس ہوگا سب تباہ وبرباد ہو جائے گا ۔  ‘‘    ( [4] )

زندوں   میں   مردہ کون ؟

 ( 919 ) … حضرت سیِّدُناابو طُفَیْل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں   نے حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوفرماتے سنا کہ ’’   اے لوگو ! کیا تم مجھ سے نہیں   پوچھوگے  ؟ لوگ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے خیرکے بارے میں   پوچھتے تھے اور میں   شر کے بارے میں  سوال کرتاتھا ۔ کیا تم مجھ سے زندوں  میں   مردہ کے بارے میں   سوال نہیں   کروگے  ؟  ‘‘ پھرفرمایا :  ’’ بے شکاللہ عَزَّوَجَلَّنے حضرت سیِّدُنا محمدمصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مبعوث فرمایاتوانہوں   نے لوگوں   کو گمراہی سے ہدایت اور کفر سے ایمان کی طرف بُلایا ۔  پس جس نے دعوت قبول کرنی تھی اس نے کی ۔ جو شخص پہلے مردہ تھا وہ قبول حق کی وجہ سے زندہ ہوگیا اور جو پہلے زندہ تھا وہ مردہ ہو گیا ۔ اب سلسلۂ نبوت ختم ہوگیا ۔ چنانچہ نبوت کے طور طریقہ پر خلافت قائم ہوئی پھر ظلم و زیادتی والی بادشاہت قائم ہوئی ۔  پس بعض لوگ اپنے دل،   ہاتھ اور زبان سے اس بادشاہت کا اِنکار کریں   گے اوریہ وہ ہوں   گے جو حق کو مکمل کرنے والے ہوں   گے اور بعض لوگ ایسے ہوں   گے جو دل اور زبان سے تواس کا انکار کریں   گے لیکن ہاتھوں   کو اس کے انکار سے روکے رکھیں   گے ۔  لا محالہ ایسے لوگ حق کے ایک شعبے کو ترک کردیں   گے اور بعض لوگ دل سے تو بادشاہت کا انکار کریں   گے لیکن ہاتھ اور زبان کو اس کے انکار سے روکے رکھیں   گے لامحالہ ایسے لوگ حق کے دو شعبوں   کو ترک کریں   گے اور لوگوں   میں   سے بعض وہ ہیں   کہ جو ایسی بادشاہت کا دل اور زبان سے انکارنہیں   کرتے ۔ پس ایسے لوگ زندوں   میں   مردہ ہیں   ۔  ‘‘   ( [5] )

  ( 920 ) … حضرت سیِّدُنافُلْفُلَہ جُعْفِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! اگر میں   چاہوں   تو تمہیں  اللہ ورسولعَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہزارباتیں   ایسی بتاؤں   کہ تم ان کی وجہ سے مجھ سے محبت کرنے ،   میری اتباع کرنے اور میری تصدیق کرنے لگو اور اگرچاہوں   تو ہزارباتیں   ایسی بتاؤں   کہ جن کی وجہ سے تم مجھ سے بغض ونفرت کرنے،  مجھ سے دور بھاگنے اورمجھے جھٹلانے لگو  ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 921 ) …  حضرت سیِّدُنااَبوبَخْتَرِی   عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ میں  چاہوں   توتمہیں   ایک ہزارایسی باتیں   سنا سکتا ہوں   جنہیں   سن کر تم میری تصدیق کرو،   میری اتباع کرو اور میری مدد کرنے لگو اور اگرچاہوں   توایک ہزارایسی باتیں   بھی سنا سکتا ہوں   جنہیں   سن کر تم مجھے جھٹلاؤ،   مجھ سے دور بھاگو  اورمجھے گالیاں   دینے لگوحالانکہ وہ باتیں  اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف سے سچی ہیں   ۔  ‘‘    ( [7] )

 ( 922 ) … حضرت سیِّدُناجُنْدَب بن عبداللہبن سُفْیَانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  میں   ایک قوم کے رہنما کو جانتا ہوں   کہ وہ خود توجنت میں   جائے گا لیکن اس کے پیروکار جہنم میں   داخل کئے جائیں   گے ۔  ‘‘  راوی کہتے ہیں : ’’  ہم نے عرض کی :  ’’  کیا یہ وہ تو نہیں   ہے جس کے بارے میں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ہمیں   بتایا ہے  ؟  ‘‘ فرمایا :  ’’  تمہیں   کیا معلوم کہ اس سے پہلے کتنے گزر گئے ہیں   ۔  ‘‘

 



[1]    المستد رک ،  کتاب الفتن والملاحم ،  باب ذکرفتنۃ الدجال ،  الحدیث : ۸۳۸۲ ، ج۵ ، ص۶۱۸ ، بتغیرٍ۔

[2]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الفتن ،  الحدیث : ۳۷ / ۳۸ ، ج۸ ، ص۵۹۸۔

[3]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الفتن ،  باب من کرہ الخروج فی الفتنۃ وتعوذعنہا ،  الحدیث : ۲۳۷ ، ج۸ ، ص۶۲۸۔

[4]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الفتن ،  باب من کرہ الخروجالخ ،  الحدیث : ۲۷ ، ج۸ ، ص۵۹۶ ، مفہومًا۔

[5]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  حدیث حذیفۃ بن الیمان ،  الحدیث : ۲۳۴۹۲ ، ج۹ ، ص۱۱۴۔