Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ہم جہالت اور شر میں   تھے ،  اللہ عَزَّوَجَلَّنے ہمیں   اس خیر کی دولت سے سرفراز فرمایا تو کیا اس خیرکے بعد کو ئی شر ہے ؟  ‘‘  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’  ہاں   ۔  ‘‘ میں   نے عرض کی :  ’’ تو  کیااس شر کے بعد پھر خیرہوگی ؟  ‘‘ ارشاد فرمایا :  ’’  ہاں   ! پھر خیر ہوگی لیکن اس میں  کدورت ہوگی ۔  ‘‘ میں   نے عرض کی :  ’’ کدورت سے کیامراد ہے ؟  ‘‘ ارشاد فرمایا :  ’’ لوگ میری سنت کے خلاف چلیں   گے اورمیرے طریقے کے علاوہ طریقہ اختیار کریں   گے ۔ ان میں   بعض باتیں   اچھی ہوں   گی بعض بری ۔  ‘‘  میں   نے عرض کی :  ’’ کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی برائی آئے گی ؟  ‘‘  ارشادفرمایا :  ’’  ہاں    ! جہنم کے دروازے پرکچھ لوگ ہوں   گے جوجہنم کی طرف بلائیں   گے جو ان کی بات مانے گااسے جہنم میں   ڈال دیں   گے ۔  ‘‘ میں   نے پوچھا :  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  اگر میں   اس زمانے کو پاؤں   تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھے کیا حکم فرماتے ہیں   ؟  ‘‘  فرمایا :   ’’ مسلمانوں   کی جماعت اور ان کے امام کو پکڑے رہنا ۔  ‘‘ عرض کی :  ’’ اگر مسلمانوں   کی کوئی جماعت ہونہ کوئی امام توپھر کیا حکم ہے ؟  ‘‘  فرمایا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !  ان سے الگ رہنا ۔  اگرچہ موت آنے تک تمہیں   درخت کی جڑیں   چباناپڑیں   ۔  ‘‘    ( [1] )

فتنوں   میں   مبتلا ہونے کی پہچان :  

 ( 908 ) …  حضرت سیِّدُناابوعَمَّارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّارسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  بے شک دِلوں   پرفتنے چھاجائیں   گے ۔ جوانہیں   اچھاسمجھے گااس کے دل پر سیاہ دھبّا لگادیاجائے گا اورجو ان سے نفرت کرے گا اس کے دل پر سفیدنکتہ لگادیاجائے گا ۔ پس تم میں   سے جویہ چاہتاہے کہ اسے معلوم ہوجائے کہ وہ فتنوں   میں   مبتلا ہے یانہیں   ؟ تو وہ غور کرے کہ اگرجسے وہ پہلے حلال سمجھتاتھااب حرام جاننے لگاہے یا جسے حرام جانتا تھا اب حلال سمجھنے لگا ہے تو بلاشبہ وہ فتنوں   میں   مبتلا ہے  ۔  ‘‘    ( [2] )

گناہوں   کی نحوست :  

 ( 909 ) … حضرت سیِّدُناطارِق بن شِہَاب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَھَّاب سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’  جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سِیاہ نکتہ لگادیاجاتا ہے ۔  جب دوبارہ گناہ کرتا ہے تو ایک اور نکتہ لگادیاجاتا ہے ۔ یہاں   تک کہ ( مُسَلْسَل گناہوں   کااِرتکاب کرنے کی وجہ سے  ) اس کا دل خاکی ر نگ کی بکری کی طرح ہو جاتا ہے ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 910 ) … حضرت سیِّدُناابوعَمَّارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغفَّار سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’ اس ذات کی قسم جس کے سِوا کوئی مَعْبُود نہیں   !  بے شک ایک آدمی صُبح کو اُٹھے گا تو اپنی آنکھوں   سے دیکھ رہا ہوگالیکن شام کے وقت اسے  آنکھوں   کے گَوْشَوں   سے کچھ نظر نہیں   آئے گا ۔  ‘‘    ( [4] )

فتنوں   کے آنے کے مختلف انداز :  

 ( 911 ) … حضرت سیِّدُنازَید بن وَہْب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ فتنے تم پرجَھانْوَیں   ( یعنی پتھروں   کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے )  برساتے آئیں   گے ۔  پھر گرم پتھربرسائیں   گے ۔  اس کے بعد سِیاہ تاریک اندھیرے کی طرح تم پرچھاجائیں   گے  ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 912 ) …  حضرت سیِّدُناابوطفیل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’  تم پرتین فتنے آئیں   گے اس کے بعدچوتھا فتنہ دَجّال کی طرف ہانک کرلے جائے گا ۔ ایک وہ فتنہ جس میں   تم پرگرم پتھر برسائے جائیں   گے ۔  دوسرا وہ فتنہ جس میں   چھوٹے چھوٹے پتھر برسائے جائیں   گے ۔  تیسرا وہ فتنہ جو سیاہ اندھیراہے جو سمندر کی طرح جوش مارے گا اور چوتھا فتنہ دجّال کی طرف ہانک کرلے جائے گا ۔  ‘‘    ( [6] )

فتنوں   سے بچو !

 ( 913 ) …  حضرت سیِّدُناعَمَّارَہ بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ اے لوگو !  فتنوں   سے بچو ! کوئی ان کے قریب نہ جائے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! جو فتنوں   میں   پڑے گا وہ اسے اس طرح تَہس نَہس کردیں   گے جس طرح سیلاب کھیتی وسبزہ کوتَہس نَہس کردیتاہے ۔ بلاشبہ فتنے مشتبہ ہو کر آئیں   گے ۔ یہاں   تک کہ جاہل کہیں   گے یہ تو شبہ میں   ڈال رہاہے اوران کی حقیقت اس وقت کھلے گی جب وہ پیٹھ پھیر کر جائیں   گے ۔  چنانچہ،   جب تم ان فتنوں   کو دیکھو تو اپنے گھروں   میں   بیٹھے رہو ۔  اپنی تلواروں   کو توڑ ڈالو اور اپنی کمانوں   کے ٹکڑے ٹکڑے کر دو ۔  ‘‘    ( [7] )

 



[1]    صحیح مسلم ،  کتاب الإمارۃ ،  باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمینالخ ،  الحدیث : ۴۷۸۴ ، ص۱۰۰۹۔

[2]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الفتن ،  باب من کرہ الخروجالخ ،  الحدیث : ۲۳۵ ، ج۸ ، ص۶۲۸۔

                صحیح ،  مسلم ،  کتاب الایمان ،  باب رفع الامانۃالخ ،  الحدیث : ۳۶۹ ، ص۷۰۲۔

[3]    شعب الایمان للبھیقی  ،  باب فی معالجہ کل ذنب بالتوبۃ  ،  الحدیث :۷۲۰۵  ،  ج۵  ،  ص۴۴۱ بغیر ۔

[4]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الفتن ،  باب من کرہالخ ،  الحدیث : ۳۹ ، ج۸ ، ص۵۹۸ ، مفہومًا۔

[5]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الفتن ،  الحدیث : ۲۴ ، ج۸ ، ص۵۹۶۔

                المستدرک ،  کتاب الفتن والملاحم ،  باب ذکرخروج المہدی ،  الحدیث : ۸۴۸۳ ، ج۵ ، ص۶۵۸۔

[6]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الفتن ،  باب من کرہ الخروج فی الفتنۃوتعوذعنہا ،  الحدیث : ۲۴