Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

اَوْس اور حضرت سیِّدُناعَوْف بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا بھی تشریف لے آئے اور ہمارے درمیان بیٹھ گئے ۔  پھرحضرت سیِّدُناشَدَّاد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ اے لوگو !  مجھے تم پر سب سے زیادہ اس چیزکاخوف ہے جو میں   نے رسولِ بے مثالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنی یعنی شرک اورخفیہ شہوت ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُنا عُبَادَہ اورحضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے کہا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! آپ کی مغفرت فرمائے ! کیا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں   یہ حدیث نہیں   بیان فرمائی کہ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ جزیرۂ عرب میں   اس کی پوجا کی جائے اور رہی خفیہ شہوت کی بات تو ہم اسے پہچان چکے ہیں   اور وہ دنیااور عورتوں   کی خواہشات ہیں   ۔  لیکن اے شَدَّاد !  یہ کون سا شرک ہے جس کاآپ ہم پر خوف فرمارہے ہیں   ؟   ‘‘  حضرت سیِّدُنا شَدَّاد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ اس شخص کے بارے میں   آپ کا کیا خیال ہے جوکسی کے لئے نماز پڑھے،   روزہ رکھے اور صدقہ کرے ؟  ‘‘  کیا آپ سمجھتے ہیں   کہ اس نے شرک کیا ؟  ‘‘ انہوں   نے فرمایا:  ’’ ہاں   ! اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! جو کسی کو دِکھانے کے لئے صدقہ کرے ،   نماز پڑھے یا روزہ رکھے تواس نے شرک کیا  ( [1] ) ۔  ‘‘  پھرحضرت سیِّدُناعوف بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ کیااللہ عَزَّوَجَلَّاس کے اس عمل کونہیں   دیکھتا جسے وہ اخلاص کے ساتھ محضاللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضاوخوشنودی کے لئے بجا لاتا ہے تو وہ اس کے اخلاص والے عمل کوقبول فرمالے اورریاکاری والے عمل کو رد فرما دے  ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُنا شَدَّاد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   میں   نے رسولِ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوارشاد فرماتے ہوئے سناکہاللہ عَزَّوَجَلَّ  ارشادفرماتا ہے: ’’ جسے میرا شریک ٹھہرایاجائے میں   اس کے لئے بہترین تقسیم فرماتاہوں   ۔  پس جوکسی کومیرا شریک ٹھہراتا ہے تو اس کا جسم،   اس کا عمل اوراس کا قلیل وکثیر اسی کے لئے ہے جس کو اس نے شریک ٹھہرایا ،   میں   اس سے بے نیاز ہوں   ( [2] ) ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 902 ) … حضرت سیِّدُنامحمود بن رَبِیع عَلَیْہِرَحْمَۃُ اللہ الْبَدِیْعفرماتے ہیں   ایک دن حضرت سیِّدُناشَدَّا د بن اَوْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ میرے ساتھ بازارتشریف لے گئے ۔  بازار سے واپس آئے تو لیٹ گئے ۔  پھر کپڑوں   سے خودکوچھپاکر زاروزار روتے اور باربارکہتے کہ ’’   میں   اجنبی ہوں   اسلام سے دور نہیں   رہوں   گا ۔  ‘‘  جب ان کی یہ کیفیت دور ہوئی تو میں   نے عرض کی کہ ’’   میں   نے پہلے کبھی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ایسے کرتے نہیں   دیکھا ؟  ‘‘ انہوں   نے فرمایا :  ’’  مجھے تم پر شرک اور خفیہ شہوت کاخوف ہے ۔  ‘‘  میں   نے کہا :  ’’  کیا ہمارے مسلمان ہونے کے باوجودبھی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ہم پر شرک کا خوف ہے ؟  ‘‘  فرمایا: ’’ اے محمود ! تیری ماں   تجھ پر روئے ! کیا شرک بس اتنا ہی ہے کہاللہعَزَّوَجَلَّکے ساتھ کوئی دوسرا معبود مانا جائے ۔  ‘‘    ( [4] )

دوامن اور دوخوف :  

 ( 903 ) …  حضرت سیِّدُناشَدَّا د بن اَوْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہاللہعَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب،   دانائے غُیوب،   مُنَزَّہٌعَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ بے شک توبہ سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں   اور نیکیاں   گناہوں   کومٹا دیتی ہیں   اور جب بندہ خوش حالی میں   اپنے رب عَزَّوَجَلَّکو یادکرتا ہے تواللہعَزَّوَجَلَّآزمائش ومصیبت سے اسے نجات عطافرماتاہے ۔  اس لئے کہاللہعَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتا ہے :   میں   اپنے بندے کے لئے کبھی دو امن جمع نہیں   کرتا اور نہ ہی اس پردو خوف جمع کرتا ہوں   ۔  اگر وہ دنیا میں   مجھ سے بے خوف رہا توجس دن میں   بندوں   کو جمع کروں   گاوہ مجھ سے خوفزدہ ہو گا لیکن اگر وہ دنیا میں   مجھ سے ڈرتا رہا تو جس دن میں   بندوں   کو جمع کروں   گا اس دن اسے جنت میں   داخل کرکے امن بخشوں   گااوراس کا امن ہمیشہ بر قرار رہے گاکبھی ختم نہیں   ہوگا ۔  ‘‘    ( [5] )  

حضرت سَیِّدُناحُذَیْفَہ بن یَمَانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناابوعبداللہحُذَیْفَہ بن یَمَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بھی مہاجرین صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنمیں   سے ہیں   ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمصیبتوں  ،  آفتوں  ،   فتنوں  ،  عیبوں   اور دلوں   کے حالات سے باخبر رہتے ۔  برائی کے بارے میں   دریافت کرتے پھر اس سے اجتناب کرتے ۔  خیرو بھلائی میں   غور و فکر کرتے پھر اسے بجالاتے ۔  فقرو فاقہ میں   سکون پاتے ،   توبہ وندامت کی طرف مائل رہتے اور اہلِ زمانہ کی عزت و اِصلاح میں   پیش پیش رہتے تھے ۔

            علمائے تَصَوُّف فرماتے ہیں : ’’ اللہعَزَّوَجَلَّکی کاریگری کو دیکھنے ،   رکاوٹوں   کے باوجود حال سے موافقت رکھنے کا نام تصوُّف ہے ۔  ‘‘      

فتنوں   کا سیلاب

 



[1]    شرک دوقسم کاہے شرک جلی ، شرک خفی ، شرک جلی توکھلم کھلاشرک وبت پرستی کرناہے شرک خفی ریاکاری ہے یایوں   کہوکہ شرک اعتقادی تو کھلاہواشرک ہے اورشرک عملی ریاکاری ہے صوفیاء فرماتے ہیں   : ’’ کُلُّ مَاصَدَّکَ عَنِ اللہ فَھُوَ صَنَمُک‘‘جوتمہیں  اللہ عَزَّوَجَلَّسے روکے وہ ہی تمہارابت ہے۔ نفس امارہ بھی بت ہے اسی حدیث سے معلوم ہواکہ روزے میں   بھی ریاکاری ہوسکتی ہے ہاں   روزے میں   ریاء خالص نہیں   ہوسکتی ۔اسی لئے ارشادہے ’ ’اَلصَّوْمُ لِیْ وَ اَنَا اَجْزِیْ بِہٖ‘‘ بعض لوگ روزہ رکھ کرلوگوں   کے سامنے بہت کلیاں   کرتے سرپرپانی ڈالتے رہتے ہیں   کہتے پھرتے ہیں   ہائے روزہ بہت لگاہے بڑی پیاس لگی ہے وغیرہ وغیرہ یہ بھی روزے کی ریاء ہے اور اس حدیث میں   داخل ہے۔ خیال رہے! کہ ریاء کی دوقسمیں   ہیں   ایک ریاء اصل عمل میں   دوسری ریاء وصف عمل میں   ،  اصل عمل میں   ریاء یہ ہے کہ کوئی دیکھے تویہ نمازپڑھ لے نہ دیکھے تو نماز پڑھے ہی نہیں  ۔ وصف عمل میں   ریاء یہ ہے کہ لوگوں   کے سامنے نماز خوب اچھی طرح پڑھے تنہائی میں   معمولی طرح۔پہلی ریاء بہت بری ہے دوسری ریاء پہلی سے کم۔  ( مرآۃ المناجیح ، ج۷ ، ص۱۴۱ )

[2]    یعنی دنیاوالے اپنے حصہ داروں   شریکوں   سے راضی وخوش ہوتے ہیں   کیونکہ وہ اکیلے اپناکام نہیں   کرسکتے مگرمیں   شریکوں   سے پاک بے نیاز  ہوں   مجھے کسی شریک کی ضرورت نہیں  ۔شرکاء سے مراددنیاکے شریک ہیں   جوآپس میں   ایک دوسرے کے حصہ دارہوتے ہیں   لہٰذاحدیث بالکل واضح ہے۔بعض شارحین نے فرمایاکہ یہاں   روئے  سخن مشرکین سے ہے اورمعنی یہ ہیں   کہ تم لوگوں   نے جن چیزوں   کومیراشریک ٹھہرایاہے میں   ان سے بے نیازبھی ہوں   بے زاربھی ،  بے نیازکو شریک کی کیا ضرورت ہے۔  ( مرآۃ المناجیح ، ج۷ ، ص۱۲۸ )

[3]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  حدیث شدادبن اوس ،  الحدیث : ۱۷۱۴۰ ، ج۶ ، ص۸۱۔

[4]    تاریخ مدینۃ د مشق لابن عساکر ،  الرقم۲۷۰۸شدادبن اوس بن ثابت الانصاری ، ج۲۲ ، ص۴۱۴ ، بتغیرٍ۔

[5]    الزھدلابن المبارک ،  باب ماجاء فی الخشوع والخوف ،  الحدیث : ۱۵۷ ، ص۵۰ ، مختصرًا۔

                جامع الاحادیث للسیوطی ،  الہمزۃ مع النون ،  الحدیث : ۵۰۰۷ ، ج۱ ، ص۲۲۴۔



Total Pages: 273

Go To