Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

اےاللہ  عَزَّوَجَلَّ !  میں   تجھ سے تمام کاموں   میں   ثابت قدمی،   ہدایت میں   پختگی،   شکرِنعمت ،   حسنِ عبادت ،   متقی دل اورصا ف ستھری وسچی زبان کا سوال کرتا ہوں    ۔  ‘‘    ( [1] )

عقلمندوبے وقوف کی پہچان :  

 ( 896 ) …  حضرت سیِّدُناشَدَّا د بن اَوْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی ٔرحمت،  شفیعِ امت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :  ’’ عقلمند وہ ہے جواپنے نفس کومغلوب کر دے اور موت کے بعدکے لئے عمل کرے اور عاجز وہ ہے جواپنے نفس کو خواہشات کے پیچھے لگادے او اللہ عَزَّوَجَلَّپر آرزو رکھے ( [2] ) ۔  ‘‘    ( [3] )

امام زُہری کی روایت:

 ( 898 ) … حضرت سیِّدُناسُفْیَان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  میں   نے حضرتِ سیِّدُناامام زُہری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی کوایک دن لوگوں   سے یہ فرماتے ہوئے سناکہ ’’   بیٹھو !  میں   تمہیں   حدیث سناتا ہوں   ۔  ‘‘ اس سے پہلے میں   نے انہیں   کبھی لوگوں   سے یہ کہتے نہیں   سناتھا ۔ بہرحال آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا :  مجھے حضرت سیِّدُنا محمود بن رَبِیع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَدِ یْعنے خبر دی ہے کہ جب حضرت سیِّدُناشَدَّا د بن اَوْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال کاوقت قریب آیا توفرمایا :  ’’ بے شک مجھے تم پر سب سے زیادہ ریاکاری اور خفیہ شہوت کاخوف ہے ۔  ‘‘    ( [4] )

حد یث یا دآنے پراشک باری :  

 ( 899 ) …  حضرت سیِّدُناعُبَادَہ بن نُسَیّ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  ایک مرتبہ حضرت سیِّدُناشَدَّا د بن اَوْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ میرے پاس سے گزرے تو میرا ہاتھ تھام کر مجھے اپنے ساتھ گھر لے گئے اور گھر بیٹھ کر رونے لگے یہاں   تک کہ انہیں   روتادیکھ کر میری آنکھیں   بھی اشکبارہوگئیں   ۔ جب انہیں   کچھ افاقہ ہواتو مجھ سے فرمایا :  ’’ تمہیں   کس چیز نے رُلایا ؟  ‘‘ میں   نے عرض کی :  ’’ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوگریہ وزاری کرتے دیکھاتومیں   بھی رونے لگا ۔  ‘‘  پھرانہوں   نے اپنے رونے کاسبب بیان کرتے ہوئے فرمایا :   مجھے ایک حدیث یاد آگئی تھی جو میں   نے حضورنبی ٔمُکَرَّم،   نُورِمُجَسَّم،  شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنی تھی وہ یہ کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’ بے شک مجھے اپنی اُمت پر سب سے زیادہ شرک اور خفیہ شہوت کا خوف ہے ۔  ‘‘ راوی کہتے ہیں  : میں   نے کہا :   ’’ ان دو میں   ایک کی طرف تو کوئی راستہ نہیں    ۔  ‘‘  انہوں   نے فرمایا :  ’’ میں   نے بھی رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے یہی عرض کیاتھا توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :  ’’  مجھے ان دونوں   کاخوف ہے ۔  ‘‘  پھر ارشاد فرمایا :  ’’  بے شک لوگ سورج ،  چانداوربتوں   کی پوجا نہیں   کریں   گے لیکن وہ غیراللہ کے لئے عمل کریں   گے  ۔  ‘‘    ( [5] )

شرکِ خفی اورخفیہ شہوت :  

 ( 900 ) … حضرت سیِّدُناعُبَادَہ بن نُسَیّرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں :  میں   حضرت سیِّدُناشَدَّا د بن اَوْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضرہواتوانہیں   روتاپاکر سببِ گریہ دریافت کیاتوانہوں   نے فرمایا :  مجھے اس حدیث نے رُلادیا جو میں   نے حُضُوررَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنی تھی کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :  ’’  مجھے اپنی اُمّت پر شرک اور خفیہ شہوت کا خوف ہے ۔  خفیہ شہوت یہ ہے کہ آدمی صبح روزہ کی حالت میں   کرے گالیکن جب نفس کومرغوب چیزاس کے سامنے آئے گی تووہ اس میں   پڑجائے گا اور روزہ چھوڑ دے گا ( [6] )اور شرک (  خفی )   یہ ہے کہ لوگ نہ پتھروں   کوپوجیں   گے نہ بتوں   کولیکن دِکھلاوے کے لئے عمل کریں   گے ۔  ‘‘    ( [7] )

شرکِ خفی پر علمی مکالمہ:

 ( 901 ) …  حضرت سیِّدُناشَہْربن حَوْشَبرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں   نے حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن غَنْمرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کو فرماتے ہوئے سناکہ جب میں   اورحضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جَابِیَہ کی جامع مسجدمیں  داخل ہوئے توہماری ملاقات حضرت سیِّدُناعُبَادَہ بن صَامِترَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے ہوئی،   ہم وہاں   بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت سیِّدُناشَدَّا د بن



[1]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  حدیث شدادبن اوس ،  الحدیث : ۱۷۱۱۳ ، ج۶ ، ص۷۶ ، بتغیرٍ۔

[2]    اس فرمانِ عالی میں  ’’عاجز‘‘سے مرادبے وقوف ہے ’ ’ کَیِّس‘‘ کامقابل۔نفس امارہ سے دبا ہوا یعنی وہ بے وقوف ہے جوکام کرے دوزخ کے اورامیدکرے جنت کی کہاکرے کہاللہ غفور رحیم ہے باجرہ بوئے اور امیدکرے گیہوں   کاٹنے کی کہاکرے کہاللہ غفوررحیم ہے کاٹتے وقت اسے گندم بنا دے گااس کانام امیدنہیں   رب تعالیٰ فرماتا ہے : ’’ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِۙ(۶) ( پ۳۰ ، الانفطار : ۶ ) ترجمۂ کنزالایمان :  تجھے کس چیزنے فریب دیااپنے کرم والے رب سے۔‘‘اور فرماتاہے : ’’ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-اُولٰٓىٕكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِؕ- ( پ۲ ، البقرۃ : ۲۱۸ ) ترجمۂ کنزالایمان : وہ جو ایمان لائے اور وہ جنہوں   نے اللہ کے لئے اپنے گھر بار چھوڑے اوراللہکی راہ میں   لڑے وہ رحمت الٰہی کے امیدوار ہیں  ۔‘‘ جَوبوکر گندم کاٹنے کی آس لگاناشیطانی دھوکہ اورنفسانی وسوسہ ہے۔خواجہ حسن بصری  (  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی )  فرماتے ہیں   کہ ’ ’بعض لوگوں   کوجھوٹی اُمیدنے سیدھے راہ نیک اعمال سے ہٹا دیاہے جیسے جھوٹی بات گناہ ہے ایسے ہی جھوٹی آس بھی گناہ ہے۔‘‘   ( مرآۃ المناجیح ،  ، ج۷ ، ص۱۰۳ )

[3]    جامع الترمذی ،  ابواب صفۃ القیامۃ ،  باب حدیث الکیس منالخ ،  الحدیث : ۲۴۵۹ ، ص۱۸۹۹۔

[4]    الزھدلابن المبارک ،  باب فضل ذکراﷲ ،  الحدیث : ۱۱۱۴ ، ص۳۹۳۔

[5]    سنن ابن ماجہ ،  ابواب الزھد ،  باب الریاء والسمعۃ ،  الحدیث : ۴۲۰۵ ، ص۲۷۳۲ ، بتغیرٍ۔

[6]    

Total Pages: 273

Go To