Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

نے فرمایا :  ’’ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جُدا ہونے کے بعد کبھی کوئی بے مقصدبات میری زبان سے نہیں   نکلی اوراللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !  آئندہ بھی کوئی فضول بات میری زبان سے نہیں   نکلے گی ۔  ‘‘    ( [1] )

 ایک جامع دُعا :  

 ( 890 ) …  حضرت سیِّدُناسلیمان بن موسیٰ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت سیِّدُنا شَدَّا د بن اَوْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ دسترخوان لاؤ اس سے تھوڑا جی بہلا لیں   ۔   ‘‘ راوی کہتے ہیں :  لوگوں   نے اس بات پر ان کا مؤاخذہ کیا اورکسی نے کہا :  ’’  ابو یعلٰی  ( یعنی حضرت شَدَّا د بن اَوْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  ) کودیکھو !  یہ کیسی بات کرتے ہیں   ۔  ‘‘ توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’ اے میرے بھتیجو ! جب سے میں   نے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست ِاقدس پر بیعت کی ہے اس کے سواکبھی کوئی بے مقصدوفضول بات اپنی زبان سے نہیں   نکالی ۔  آئیں   میں   آپ کو ایک حدیث سناتاہوں    ۔ فضول باتوں   کوچھوڑواوراس سے بہتربات  ( یعنی رسول اَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سکھائی ہوئی دُعا )  لے لو :   اللہمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ التَّثَبُّتَ فِی الْاَمْرِ وَنَسْاَلُکَ عَزِیْمَۃَ الرُّشْدِ وَنَسْاَلُکَ شُکْرَنِعْمَتِکَ وَحُسْنَ عِبَادَتِکَ وَنَسْاَلُکَ قَلْبًاسَلِیمًاوَلِسَانًاصَادِقًاوَنَسْاَلُکَ خَیْرَمَاتَعْلَمُ وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّمَا تَعْلَمیعنی :   اےاللہعَزَّوَجَلَّ !  ہم تجھ سے ہرکام میں   ثابت قدمی ،   ہدایت میں  پختگی،   شکرنعمت ،  حُسنِ عبادت ،  قلب ِسلیم اور سچی زبان کا سوال کرتے ہیں   اور ہراس خیرو بھلائی کاسوال کرتے ہیں   جسے تو جانتاہے اورہراس برائی وشر سے تیری پناہ مانگتے ہیں   جسے توجانتا ہے  ۔   ( پھرفرمایا :   )  پس اس دُعا کو یاد کرلواورفضول بات پر دھیان نہ دو ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 891 ) … حضرت سیِّدُناحسّان بن عَطِیَّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا شَدَّا د بن اَوْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا اور فرمایا :  ’’  دَسْتَر خوان لاؤ تاکہ ہم اس سے دل بہلا لیں   ۔  ‘‘ ایک شخص نے عرض کی :  ’’ اے ابو یعلٰیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  آپ نے یہ کیسی بات کر دی ؟  ‘‘  لوگوں   کو یہ بات ناگوارگزری توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   میں  جب سے اسلام لایا ہوں   کبھی کوئی فضول بات نہیں   کی صرف یہ کَلِمَہ زَبان سے نکل گیا تم اسے چھوڑدو اور اس بات کو یاد کر لو جو میں   تم سے کہنے لگا ہوں  اوروہ یہ کہ میں   نے حضورنبی ٔرحمت،  شَفِیْعِ اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو اِرشاد فرماتے ہوئے سناکہ ’’ لوگ سونا و چاندی جَمع کرنے لگیں   تو تم ان کَلِمَات کو پڑھ کر ذَخِیْرَہ کرلو :   اللہمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الثَّبَاتَ فِی الْاَمْرِ وَالْعَزِیْمَۃَ عَلَی الرُّشْدِیعنی :   اےاللہ عَزَّوَجَلَّ !  میں   تجھ سے ہرکام میں   ثابت قدمی اور ہدایت میں   پختگی کا سوال کرتا ہوں   ۔  ‘‘  اس کے بعد سابقہ روایت میں   ذِکرکردہ دُعابیان کی ۔  البتہ !  اس میں   اتنازائد ہے :   ’’ وَاَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبیعنی :   اے پَرْوَرْدْگارعَزَّوَجَلَّ !  میں   اپنے ان گناہوں   کی بخشش کاسوال کرتا ہوں  جنہیں  توجانتاہے ۔ بے شک تو غیبوں   کوخوب جاننے والا ہے ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 892 ) … حضرت سیِّدُناابوعُبیداللہمُسْلِم بن مِشْکَمرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  ایک مرتبہ ہم حضرت سیِّدُناشَدَّا د بن اَوْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے ہمراہ نکلے ’’ مَرْجُ صُفَّر ‘‘  کے مقام پرہم نے پڑاؤڈالاتوآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ دسترخوان لاؤ تا کہ ہم اس سے دل بہلا لیں    ۔  ‘‘ کسی نے عرض کی:  ’’ اے ابو یعلٰیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  آپ نے یہ کیسی بات کر دی ؟  ‘‘  گویالوگ آپ  کی وہ بات یاد کرنے لگے توفرمایا :  تم اسے چھوڑدواور اس بات کو یاد کر لو جو میں   تم سے کہنے لگا ہوں   اوروہ یہ کہ میں   نے حضورنبی ٔرحمت،  شَفِیْعِ اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کو ارشاد فرماتے ہوئے سناکہ ’’ لوگ سوناچاندی جمع کرنے لگیں   تو تم ان کلِمات کو پڑھ کر ذخیرہ کرلو :  اللہمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الثَّبَاتَ فِی الْاَمْرِیعنی :  اےاللہعَزَّوَجَلَّ !  میں   تجھ سے ہرکام میں   ثابت قدمی کا سوال کرتا ہوں   ۔  ‘‘  اس کے بعد سابقہ روایت کی مثل حدیث بیان کی ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 893 ) … حضرت سیِّدُناشَدَّا د بن اَوْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  حضور نبی ٔ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشادفرمایا :   ’’ اے شدّاد !  جب تم لوگوں   کو سوناچاندی جمع کرتے پاؤتو تم ان کلمات کاذخیرہ کر لینا  ( یعنی ان کا ورد کرنا ): اللہمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الثَّبَاتَ فِی الْاَمْرِ وَالْعَزِیْمَۃَ عَلَی الرُّشْدِ وَاَسْاَلُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَیعنی :   اےاللہ عَزَّوَجَلَّ !  میں   تجھ سے ہرکام میں   ثابت قدمی اوررُشد و ہدایت میں   پختگی کا سوال کرتا ہوں   اور تجھ سے تیری رحمت کے اسباب اور تیری مغفرت کے عزائم کا سوال کرتا ہوں   ۔  ‘‘ اس کے بعدسابقہ روایت کی مثل بیان کیا ۔    ( [5] ) ( 894 ) … حضرت سیِّدُناشَدَّا د بن اَوْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔ دوجہاں  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبارگاہِ رب العزت میں   اس طرح دُعاکیا کرتے :  ’’ اللہمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الثَّبَاتَ فِی الْاَمْرِیعنی :  اےاللہ عَزَّوَجَلَّ !  میں   تجھ سے ہرکام میں   ثابت قدمی کا سوال کرتا ہوں    ۔  ‘‘ اس کے بعد سابقہ روایت کی مثل بیان کیا ۔    ( [6] )

 ( 895 ) … حضرت سیِّدُنا محمد بن عبداللہشُعَیْثِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت  سیِّدُنا شَدَّا د رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مجاہدین کے ہمراہ نکلے ،  کچھ لوگوں   نے انہیں   دسترخوان پر آنے کی دعوت دی توانہوں   نے فرمایا :  اللہ عَزَّوَجَلَّکے مَحبوب،   دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دستِ اقدس پر بیعت کرنے سے پہلے کی میری عادت ہے کہ کھاناکھانے سے پہلے یہ معلوم کرتا ہوں   کہ کھانا کہاں   سے آیا ہے ۔  لیکن اب میرے پاس ایک تحفہ ہے اوروہ یہ کہ میں   نے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ ’’  جب تم لوگوں   کو سونا چاندی جمع کرتے دیکھو تو یہ کلمات کہو :   ’’ اللہمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الثَّبَاتَ فِی الْاَمْرِوَعَزِیْمَۃَ الرُّشْدِ وَاَسْاَلُکَ شُکْرَ نِعْمَتِکَ وَحُسْنَ عِبَادَتِکَ وَاَسْاَلُکَ قَلْبًا تَقِیًّا وَّ لِسَانًا صَادِقًا نَقِیًّایعنی :  



[1]    صفۃ الصفوۃ ،  الرقم۱۰۳شدادبن اوس ، ج۱ ، ص۳۶۰۔

[2]    جامع الترمذی ،  کتاب الدعوات ،  باب منہ دعاء  اللہم إنی أسألکالخ ،  الحدیث : ۳۴۰۷ ، ص۲۰۰۲ ،  بتغیرٍ۔

[3]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  حدیث شدادبن اوس ،  الحدیث : ۱۷۱۱۳ ، ج۶ ، ص۷۶۔

[4]    الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ،  کتاب الرقائق ،  باب الادعیۃ ،  الحدیث

Total Pages: 273

Go To