Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

            حضرت سیِّدُناابویَعْلٰی شَدَّادبن اَوْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بھی مہاجرین صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  میں   سے ہیں   ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فضول باتوں   سے اجتناب کرتے ۔ بامعنی وبامراد ایسا سہل کلام کرتے جو باآسانی سمجھ لیاجاتا ۔  ورع وتقویٰ ،  گریہ وزاری اور عاجزی وانکساری جیسی عمدہ صفات سے متصف تھے  ۔

جہنم کاخوف :  

 ( 884 ) …  حضرت سیِّدُنااَسد بن وَدَا عَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا شَدَّا د بن اَوْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جب سونے کے لئے بستر پر تشریف لے جاتے تونیندنہ آنے کی وجہ سے کروٹیں   بدلتے رہتے اور با رگاہِ خداوندی میں   عرض کرتے :  ’’  اےاللہ عَزَّوَجَلَّ !  جہنم کے خوف نے میری نیندیں   اُڑا دی ہیں   ۔  ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بستر سے اُٹھتے اور صبح تک عبادت میں   مصروف رہتے ۔  ‘‘    ( [1] )

آخرت کے بیٹے بنو :  

 ( 885 ) … حضرت سیِّدُنازِیادبن ماھَکرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا شَدَّا د بن اَوْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ تم لوگوں   نے بھلائی اور برائی کے صرف اسباب ہی دیکھے ہیں   ۔ ساری خوبیاں   اپنے کناروں   سمیت جنت میں   ہیں   اورساری برائیاں   کناروں   سمیت جہنم میں   ہیں   ۔ دنیا،  موجودہ سامان ہے  ( [2] )جس سے نیک وبدسب کھاتے ہیں   اورآخرت ایک سچاوعدہ ہے جس میں   قدرت والابادشاہ فیصلہ فرمائے گا ۔  ان دونوں  میں   سے ہرایک کے بچے ہیں   ( [3] ) ۔ لہٰذاتم آخرت کے بیٹے بنونہ کہ دنیاکے ۔  ‘‘

صاحبِ علم وحلم :  

            حضرت سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  بعض لوگوں   کو علم عطا کیا جاتا ہے لیکن انہیں   حلم نہیں   دیا جاتاجبکہ حضرت ابویعلٰی شَدَّا د بن اَوْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو علم بھی عطاکیاگیاہے اور حلم سے بھی نوازاگیاہے ۔  ‘‘    ( [4] )

  ( 886 ) …  حضرت سیِّدُناشَدَّادبن اَوْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں   نے حضورنبی ٔاکرم،  نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوارشادفرماتے ہوئے سناکہ ’’  اے لوگو !  دنیا،  موجودہ سامان ہے جس سے نیک و بدسب کھاتے ہیں   اور آخرت ایک سچا وعدہ ہے جس میں   قدرت والا بادشاہ فیصلہ فرمائے گا ۔ اس دن سچ کوسچ اورجھوٹ کوجھوٹ کر دکھائے گا ۔ لہٰذاتم آخرت کی اولاد بنونہ کہ دنیا کی کیونکہ ہربچہ اپنی ماں   کے پیچھے ہوتا ہے  ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 887 ) …  حضرت سیِّدُناشَدَّا د بن اَوْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضورنبی ٔ پاک،  صاحبِ لولاک،  سیاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سابقہ روایت کی مثل روایت بیان کی ۔  البتہ  ! اس میں   اتنا زائد ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :  ’’ خبردار !  تماللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرتے رہو،  عمل کیاکرواورجان لوکہ تم اپنے اعمال پر پیش کئے جاؤ گے اورتمہیں   ضروراللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں   حاضرہوناہے ۔  توجوذرّہ بھربھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ذرّہ ( [6] )بھربرائی کرے اسے دیکھے گا ۔  ‘‘    ( [7] )

 فقیہ الامت :  

 ( 888 ) … حضرت سیِّدُناابو یَزِیْدغَوْثِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی ایک شخص سے روایت کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’ ہر اُمت کا ایک فقیہ ہوتا ہے اور اس اُمت کے فقیہ حضرت شَدَّا د بن اَوْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہہیں    ۔  ‘‘    ( [8] )

 کبھی فضول بات نہیں   کی :  

 ( 889 ) …  حضرت سیِّدُناثَابِت بُنَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیسے روایت ہے کہ ایک دن حضرت سیِّدُناشَدَّا د بن اَوْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے ایک رفیق سے فرمایا :   ’’ دسترخوان لاؤاس سے تھوڑا جی بہلالیں   ۔  ‘‘ رفیق نے عرض کی :  ’’ میں   جب سے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی صحبت میں   ہوں  کبھی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے اس طرح کی بات نہیں   سنی ؟  ‘‘ توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ



[1]    صفۃ الصفوۃ ،  الرقم۱۰۳شدادبن اوس ، ج۱ ، ص۳۶۰۔

[2]    حکیم الامت مولانا مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّانفرماتے ہیں    : ’’قرآن مجیدمیں   دنیاکومتاع فرمایاگیاہے ، حدیث شریف میں   عرض ، لیکن دونوں   کے معنی ہیں   سامان ، چونکہ دنیاکوچھوڑکرانسان چلاجاتاہے ، دوسرے آکراسے برتتے ہیں   اس لئے اسے متاع یا عرض کہتے ہیں   ، زمین نے سب کوکھالیا ، زمین کوکسی نے نہ کھایا ، حاضربمعنی نقد ، یعنی ادھارکامقابل دنیاوی کام کرو ، توزندگی میں   اس کانفع نقصان مل جاتا ہے ، مگرآخرت کے کام کی جزاوسزابعدقیامت  ،  یہ بڑاہی اُدھارہے جوبرزخ وقیامت گزارکروصول ہوتاہے۔‘‘      ( مرآۃ المناجیح ، ج۷ ، ص۴۷ )

[3]    یہاں   بچوں   سے مراد تابع ، محکوم ، زیرفرمان لوگ ہیں   ۔ ( مرآۃ المناجیح ، ج۷ ، ص۴۵ )

[4]    صفۃ الصفوۃ ،  الرقم۱۰۳شدادبن اوس ، ج۱ ، ص۳۶۰۔

                المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۷۱۵۸ ، ج۷ ، ص۲۸۸ ، بتغیر۔

[5]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۷۱۵۸ ، ج۷ ، ص۲۸۸۔

[6]    ذرّہ سے مرادیاتوریت کاذرّہ ہے ، یاچھوٹی چیونٹی ، اس ’ ’فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷)وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸) ‘‘  ( پ۳۰ ،  الزلزال : ۴ ، ۵ ) ترجمۂ کنزالایمان : تو جو ایک ذرّہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گااور جو ایک ذرّہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا۔‘‘آیت کریمہ کی تحقیق یہ ہے کہ ’’من‘‘سے مرادیاتوصرف مسلمان ہیں   ، اورخیرسے مرادوہ نیکی ہے جوضبط نہ ہوچکی ہو ،  اورشرسے مراد وہ گناہ ہے جو معاف نہ ہو چکاہو۔ اور دیکھنے سے مراد ہے اس کی سزا وجزا بھگتنا ، یعنی اے مسلمان تجھ کو ذرّہ بھرنیکی کی جزا اورذرہ بھرگناہ کی سزاملے گی ۔ بشرطیکہ نیکی ضبط نہ ہوئی ہو ، گناہ معاف نہ ہوا ہو ،  یا ’’من‘‘سے مرادہرانسان ہے مومن ہویاکافر اور دیکھنے سے مراد ہے اپنے اعمال کوآنکھ سے دیکھ لینا ،  سزا جزا ہو یا نہ ہویعنی ہر انسان اپنے ہرعمل کواپنی آنکھوں   سے دیکھے گاکہ مومن کواس کے گناہ دِکھاکر معاف کئے جائیں   گے کافر کواس کی نیکیاں   دِکھا کرضبط کی جائیں   ۔لہٰذا یہ آیت نہ معافی کی آیات واحادیث کے خلاف ہے ،  نہ ضبطی اعمال کی آیات کے خلاف۔    ( مرآۃ المناجیح ، ج۷ ، ص۴۷ )