Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

قبر کی دو حالتیں :

 ( 880 ) … حضرت سیِّدُناضَحَّاک بن عبدالرحمن بن عَرْزَب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے بوقت وفات اپنے بیٹوں   کو بلاکرفرمایا: ’’ جاؤ !  قبر کھودو !  اسے کشادہ اور گہرارکھنا ۔  ‘‘ کچھ دیر بعدانہوں   نے حاضر ہوکرعرض کی :  ’’ ہم نے قبر کھوددی ہے اوراسے خوب کشادہ اور گہرا رکھا ہے ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! قبر2ٹھکانوں   ( یعنی جنت کا باغ یاجہنم کے گڑھے  )  میں   سے ایک ضرور بنے گی یا تو میری قبرمجھ پر کشادہ کر دی جائے گی یہاں   تک کہ ہر طرف سے 40،   40 گز تک وسیع ہوجائے گی ۔  پھر میرے لئے جنت کا ایک دروازہ کھولا جائے گا ۔ میں   اس میں   اپنی بیویاں  ،   محلات اورجوعزت وکرامتاللہعَزَّوَجَلَّنے میرے لئے تیار کی ہے اس کا نظارہ کروں   گا  ۔ پھر میں   اپنے ٹھکانے کی طرف اس طرح جاؤں   گا جس طرح دنیا میں   اپنے گھر کی طرف آتاہوں  اور پھر دوبارہ اٹھائے جانے تک مجھے جنت کی ہوا ئیں   وخوشبوئیں   پہنچتی رہیں   گی ۔  لیکن اگر میراٹھکانہ دوسرا  ( یعنی جہنم کاگڑھا  )  ہواہم اس سےاللہعَزَّوَجَلَّکی پناہ مانگتے ہیں   تو میری قبر مجھ پر تنگ کر دی جائے گی حتٰی کہ نیزے کی نچلی نوک سے بھی زیادہ تنگ ہو جائے گی ۔  پھر میرے لئے جہنم کا دروازہ کھول دیا جائے گا ۔  میں  اس میں   زنجیروں  ،   طوقوں   اور رسیوں   کو دیکھوں   گا ۔  پھر میں   جہنم میں   اپنے ٹھکانہ کی طرف اس طرح جاؤں   گا جس طرح دنیامیں   اپنے گھر کی طرف لوٹتا ہوں   اور پھر دوبارہ اٹھائے جانے تک مجھے اس کی تپش اورگرمی پہنچتی رہے گی  ۔  ‘‘    ( [1] )

روٹی والاعبادت گزار :  

 ( 881 ) … حضرت سیِّدُناابوبُرْدَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی وفات کا وقت قریب آیا تواپنے بیٹوں   سے فرمایا :  ’’ اے میرے بیٹو !  روٹی والے کویاد کرو ! یہ ایک آدمی تھا جو ایک جھونپڑی میں   عبادت کیا کرتا تھا ۔  ‘‘  راوی کہتے ہیں   میرا خیال ہے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا تھاکہ ’’  وہ 70 سال تک عبادت کرتارہا ۔ ہفتے میں   صرف ایک دن جھونپڑی سے باہرآتا تھا ۔ اسی طرح ایک بار جب وہ اپنی جھونپڑی سے نکلاتو شیطان نے اسے ایک عورت کے فتنے میں   مبتلاکردیا،  وہ عابد7 دن یا7 راتیں   اس عورت کے ساتھ رہا ۔ پھرایک دم اس کی آنکھوں   سے غفلت کاپردہ ہٹا اور وہ توبہ کرتا ہوا وہاں   سے نکلا ۔ اب وہ قدم قدم پر سجدے کرتانوافل پڑھتا اور یوں   چلتے چلتے ایک رات اس نے ایک چبوترے پر پناہ لی ۔ وہاں   پہلے ہی 12 مسکین رہتے تھے ۔ چونکہ یہ بہت تھک چکا تھااس لئے اس نے 2آدمیوں   کے درمیان جگہ پاکراپنے آپ کوان کے درمیان گرادیا ۔  وہاں  ایک راہب رہتاتھا جو اِن 12 مسکینوں   کو ہر رات روٹیاں   بھیجتا تھااورہر مسکین کو ایک روٹی ملتی ۔ حسب معمول آج بھی روٹیاں   دینے والا آیا اور اس نے سب کو ایک ایک روٹی دینا شروع کی ،  جب وہ اس توبہ کرنے والے کے پاس سے گزرا تو اسے بھی ان مساکین میں   شامل سمجھ کرایک روٹی دے دی ۔ جس کی وجہ سے ایک مسکین روٹی سے محروم رہ گیا تواس نے روٹیوں   والے سے کہا :  کیابات ہے تم نے میرے حصے کی روٹی مجھے نہیں   دی ؟  تم مجھ سے بے پرواہ کیوں   ہوگئے ہو ؟  روٹی والے نے کہا :   تیرا خیال ہے کہ میں   نے تمہارے حصے کی روٹی تم سے روک لی ہے ؟  اِن سے پوچھو کہیں   میں   نے کسی کو دوروٹیاں   تو نہیں   دے دیں   ؟ سب نے کہا :  نہیں   ۔  تو اس روٹی والے نے کہا :  توسمجھتا ہے کہ میں   نے تمہاری روٹی روک رکھی ہے ؟ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! آج رات میں   تمہیں   کچھ بھی نہیں   دوں   گا ۔ اس عبادت گزار تائب نے جب یہ دیکھاتواسے اس مسکین پرترس آیااوراس نے لی ہوئی روٹی اس کو دے دی اور خودبھوکارہااورصبح تک بھوک کی تاب نہ لاکر وفات پا گیا  ۔  ‘‘

 

            حضرت سیِّدُناابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ اس کے70 سالوں   کا وزن 7 راتوں   سے کیاگیا تو وہ 7 راتیں   غالب آگئیں   پھر ان 7 راتوں    کااس ایک روٹی سے وزن کیا گیاجواس نے مسکین کودے دی تھی تو وہ روٹی ان 7راتوں   پرغالب آگئی  ( اوراس کوبخش دیاگیا )  ۔  ‘‘ اس کے بعدآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  اے میرے بیٹو !  اس روٹی والے کو یاد رکھنا( [2] )

دل کی مثال :  

 ( 882 ) …  حضرت سیِّدُناابوکَبْشَہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  دل کے اُلٹنے پلٹنے کی وجہ سے اسے قلب کہاجاتاہے اور دل کی مثال اس پرَجیسی ہے جو خالی زمین میں   کسی درخت کے  ساتھ معلق  ( یعنی لٹکا )  ہو اور ہوااسے کبھی اُلٹا کر دیتی ہے اور کبھی سیدھا ۔  ‘‘    ( [3] )

دُگنااجروثواب :  

 ( 883 ) … حضرت سیِّدُنااَزْہَربن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُناابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نیحِمص میں  یُوْحَنَّاکے گرجا میں   نمازاداکی پھر گرجا سے باہرتشریف لائے اوراللہ عَزَّوَجَلَّکی حمد و ثناء کے بعد فرمایا :  ’’  اے لوگو !  تمہارے اس زمانے میں   جواللہ عَزَّوَجَلَّکے لئے عمل کرتاہے اس کو ایک اجر ملتا ہے اورتمہارے بعدجلد ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس میں  اللہ عَزَّوَجَلَّکے لئے عمل کرنے والے کو 2 اجر ملیں   گے  ۔  ‘‘    ( [4] )

حضرت سَیِّدُنا شَدّاد بن اَوْسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

 



[1]    صفۃ الصفوۃ ،  الرقم۶۰ابوموسٰی الاَشْعَرِی ، ج۱ ، ص۲۸۶۔

                تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر ،  الرقم۳۴۶۱عبداﷲ بن قیس المعروف ابو موسیٰ الاَشْعَرِی ، ج۳۲ ، ص۹۸۔

[2]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب ذکررحمۃ اﷲ ،  ما ذکر فی سعۃ رحمۃ اﷲ ،  الحدیث : ۱۴ ، ج۸ ، ص۱۰۷۔

[3]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزھد ،  کلام ابی موسٰی ،  الحدیث : ۷ ، ج۸ ، ص۲۰۴۔

[4]    الأوسط لابن المنذر ،  کتاب طہارات الأبدان والثیاب ،  باب ذکرالصلاۃالخ ،  الحدیث : ۷۵۲ ، ج۳ ، ص۲۴۔



Total Pages: 273

Go To