Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 872 ) …  حضرت سیِّدُناابو وَائِل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُناابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’  درہم و دینارنے تم سے پہلے لوگوں   کو ہلاک کر دیا اور یہ تمہیں   بھی ہلاکت میں   ڈال دیں   گے  ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 873 ) … حضرت سیِّدُناغُنَیْم بن قَیْسرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوموسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ دل کواس کے بار بار الٹنے پلٹنے کی وجہ سے قلب کا نام دیاگیاہے اوردل کی مثال اس پَر کی طرح ہے جوکسی کھلے میدان میں   پڑا ہو  ( اور ہوااسے اِدھر اُدھر پھینک رہی ہو )  ۔  ‘‘    ( [2] )

رونے کاعذاب :  

 ( 874 ) … حضرت سیِّدُناقَسَامَہ بن زُہَیْررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ بصرہ میں   حضرت سیِّدُناابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ہمیں   خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ اے لوگو !  رویاکرواور اگر رونانہ آئے تو رونے جیسی صورت بنا لیا کرو کیونکہ ( نافرمانیوں   کے سبب جہنم میں   جانے والے )  جہنمی اتناروئیں   گے کہ روتے روتے ان کے آنسو ختم ہوجائیں   گے ۔  بالآخروہ خون کے آنسو روناشروع کردیں   گے اوراس قدرآنسوبہائیں   گے کہ اگران کے آنسوؤں   میں   کشتیاں  چھوڑی جائیں   تو چلنے لگیں    ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 875 ) … حضرت سیِّدُنا ابو بُرْدَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُناابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ بے شک جہنمی جہنم میں   اس قدر روئیں   گے کہ اگر ان کے آنسوؤں   میں   کشتیاں   چلائی جائیں   توچلنے لگیں   اور آنسو ختم ہو جانے کے بعد خون کے آنسو روئیں   گے اور ان کی ایسی حالت ہوگی کہ اسے یادکرکے رونا چاہئے  ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 876 ) … حضرت  سیِّدُناعُتْبَہ بن غَزْوَان رِقَاشِی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  حضرت سیِّدُناابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے فرمایا :   ’’ تمہاری آنکھ کیوں  سُوجی ہوئی ہے  ؟  ‘‘ میں   نے عرض کی :  ’’ ایک مرتبہ لشکرکے کسی آدمی کی لونڈی پرمیری نگاہ پڑی تومیں   نے ایک نظراسے دیکھ لیا ۔ جب مجھے خیال آیاتومیں   نے اس آنکھ پر ایک طمانچہ دے ماراجس کی وجہ سے میری یہ آنکھ سوج گئی اوراس کی یہ حالت ہوگئی جسے آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں   ۔  ‘‘  

حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’  اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّسے استغفار کرو !  تم نے اپنی آنکھ پر ظلم کیاہے کیونکہ پہلی بارنظر پڑجانامعاف ہے جبکہ دوبارہ دیکھناجائز نہیں   ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 877 ) …  حضرت سیِّدُناابو ظَبْیَانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  بے شک قیامت کے دن سورج لوگوں   کے سروں   پررہ کر آگ برسارہا ہوگااور ان کے اعمال ان کے لئے سائے کاذریعہ بنیں   گے یادھوپ ہی میں   جلنے دیں   گے ۔  ‘‘    ( [6] )

خدائے ستّارکی شانِ ستّاری :  

 ( 878 ) …  حضرت سیِّدُناابو بُرْدَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  قیامت کے دن ایک بندے کو لایا جائے گااللہعَزَّوَجَلَّاس کے اور لوگوں   کے درمیان پردہ حائل فرمادے گا پھروہ بندہ بھلائی دیکھ کر کہے گا :  ’’ نیکیاں   قبول کر لی گئیں    ۔  ‘‘ اور برائیاں   دیکھے گاتوکہے گا :   ’’ برائیاں  معاف کر دی گئیں   ۔  ‘‘ لہٰذا بندہ بھلائی و برائی سے بے نیاز ہو کر سجدہ میں   گرجائے گا ۔ اسے دیکھ کرساری مخلوق پکاراُٹھے گی :   ’’ خوشخبری ہے اس کے لئے جس نے کبھی کوئی برائی نہیں   کی ۔  ‘‘    ( [7] )

نیک وبدکاانجام :  

 ( 879 ) …  حضرت سیِّدُناشَقِیْق رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  جب مومن کی روح قبض کی جاتی ہے تووہ مشک سے بھی زیادہ خوشبو دار ہوتی ہے ۔ روح قبض کرنے والے فرشتے اسے لے کر آسمانوں   کی طرف چڑھتے ہیں   توآسمان سے پہلے انہیں   کچھ اور فرشتے ملتے ہیں   ۔ وہ پوچھتے ہیں : ’’ یہ تمہارے ساتھ کون ہے ؟  ‘‘ وہ کہتے ہیں : ’’ یہ فلاں   ہے ۔  ‘‘ اور اس کے اچھے اعمال کا تذکرہ کرتے ہیں   ۔ فرشتے کہتے ہیں : ’’ اللہعَزَّوَجَلَّکی تم پراورجو تمہارے ساتھ ہے اس پرسلامتی ہو ۔  ‘‘ اس کے لئے آسمانوں   کے دروازے کھل جاتے ہیں   اور اس کا چہرہ چمک اٹھتا ہے ۔  پھر وہ اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں   اس طرح حاضر ہوتا ہے کہ اس کا چہرہ سورج کی طرح روشن ہوتا ہے ۔  پھر ایک دوسرے بندے کی روح نکالی جاتی ہے ۔  وہ مردار سے بھی زیادہ بدبو دار ہوتی ہے ۔  روح قبض کرنے والے فرشتے اسے آسمان کی طرف لے جاتے ہیں   آسمان تک پہنچنے سے پہلے انہیں   کچھ اور فرشتے ملتے ہیں   ۔  وہ پوچھتے ہیں : ’’ یہ تمہارے ساتھ کون ہے ؟   ‘‘ وہ جواب دیتے ہیں : ’’ یہ فلاں   ہے ۔  ‘‘  اور اس کے برے اعمال کا ذکر کرتے ہیں   ۔  فرشتے کہتے ہیں : ’’  اسے واپس لے جاؤ اوراللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس پر کچھ ظلم نہیں   کیا ۔  ‘‘  اس کے بعد حضرت سیِّدُناابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ آیت مبارَکہ تلاوت فرمائی :  

وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِؕ-  ( پ۸،  الاعراف :  ۴۰ )

ترجمہ کنزالایمان :   اورنہ وہ جنت میں   داخل ہوں   جب تک سوئی کے ناکے اونٹ نہ داخل ہو ۔  ‘‘    ( [8] )

 



[1]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزھد ،  کلام ابی موسٰی ،  الحدیث : ۱ ، ج۸ ، ص۲۰۳۔

[2]    مسندابن الجعد ،  شعبۃ عن سعیدبن إیاس الجریری ،  الحدیث : ۱۴۵۰ ، ص۲۱۹۔

[3]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  أخبارعبداﷲ بن عمر ،  الحدیث : ۱۱۰۳ ، ص۵ ۱ ۲۔

[4]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب ذکرالنار ،  ماذکرفیماأعدلأہل الناروشدّتہ ،  الحدیث : ۱۵ ، ج۸ ، ص۹۴۔

[5]    کتاب الثقات لابن حبان ،  کتاب التابعین ،  باب العین ،  الرقم۳۱۱۳عتبۃ بن غزوان ، ج۲ ، ص۴۰۷۔

[6]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزھد ،  کلام ابی موسٰی ،  الحدیث : ۳ ، ج۸ ، ص۲۰۳۔