Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

کرتے سناپھراچانک ایک آوازسنی تو فرمایا:  ’’ اے اَنَس ! مجھے کیا ہوگیا ہے ؟  آؤ !  ہم اپنے پروردگارعَزَّوَجَلَّ کاذکرکرتے ہیں   ۔  کیا بعید ان میں   سے کوئی جھوٹا اِلزام لگارہاہو ۔  ‘‘  پھر فرمایا :  ’’  اے اَنَس !  کس چیز نے لوگوں   کو آخرت کی طلب سے بے رغبت کر دیا ہے اور کس چیز نے انہیں  اللہ عَزَّوَجَلَّکی اطاعت سے روک رکھا ہے  ؟  ‘‘  میں   نے عرض کی :   ’’  خواہشات اور شیطان نے انہیں  اللہ  عَزَّوَجَلَّ کے ذکرسے غافل کررکھاہے ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  ’’ بخدا ! ایسا نہیں   ہے بلکہ ان کی غفلت کی وجہ یہ ہے کہ دنیاجلدسونپ دی گئی ہے اور آخرت کومؤخررکھاگیاہے ۔  اگر یہ لوگ آخرت کے معاملات کا مشاہدہ کر لیتے تو دنیا کی طرف مائل ہوکر آخرت سے غافل نہ ہوتے  ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 865 ) … حضرت سیِّدُناابو بُرْدَہ بن ابو موسیٰ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : حضرت سیِّدُناابوموسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے فرمایا :   ’’ اے بیٹے ! اگر تم ہمیں   حضورانور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانے میں   دیکھتے توبارش کی وجہ سے ہمارے لباس کی بو کو بھیڑوں   کی بوکی مثل خیال کرتے ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 866 ) …  حضرت سیِّدُناقَتَادَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ’’   ایک مرتبہ حضرت ابو موسیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو خبر ملی کہ کچھ لوگوں  کو جمعہ کی حاضری سے یہ بات روکے ہوئے ہے کہ ان کواس قدرلباس میسر نہیں   ہے جسے پہن کر وہ جمعہ کی نماز میں   حاضرہوسکیں   ۔  چنانچہ،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جبہ  ( اسے چوغہ بھی کہتے ہیں   ۔ یعنی :  بغیرآستینوں   کے ایسالباس جواوپرسے پہناجاتاہے ) پہن کرتشریف لائے اورلوگوں   کو نماز پڑھائی ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 867 ) …  حضرت سیِّدُناابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارمدینہ،  راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’  70 انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَامنے رَوْحَاء سے صَخْرَہ تک برہنہ پا،  جبہ پہنے ہوئے سفرکیا  ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 868 ) … حضرت سیِّدُناابوبُرْدَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناابوموسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’ ایک مرتبہ ہم حضورنبی ٔپاک،   صاحبِ لَوْلاک،   سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ ایک غزوہ کے لئے نکلے،   ہم 6 آدمی تھے جو ایک دوسرے کے پیچھے تھے ۔ بہت زیادہ چلنے کی وجہ سے ہمارے پاؤں   زخمی ہو گئے تھے  ۔  جس کی وجہ سے میرے پاؤں   کے ناخن نکل گئے ۔ چنانچہ،   ہم حفاظت کی غرض سے پاؤں   پرکپڑوں   کے ٹکڑے لپیٹتے تھے  ۔ اسی وجہ سے اس کو غزوۂ ذات الرِقَاع کہا جاتاہے کیونکہ ہم نے اپنے پاؤں   پر کپڑوں   کے ٹکڑے باندھ رکھے تھے ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُناابو بُرْدَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  کہ حضرت سیِّدُناابو موسیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ بات بیان کرنے کے بعدفرمایا :  ’’ میں   تمہیں   یہ بات بیان نہیں   کرنا چاہتا تھا ۔  ‘‘  گو یا وہ اپنے کسی عمل کو ظاہر کرنا پسند نہیں   کرتے تھے اورآخرمیں   فرمایا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّاس کی جزا دینے والا ہے  ۔  ‘‘    ( [5] )

غیبی آواز :  

 ( 869 ) … حضرت سیِّدُناابوبُرْدَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناابوموسیٰرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ایک مرتبہ ہم کسی جنگ میں  شرکت کے لئے سمندری سفرپرتھے،   ہوابہت خوشگوارتھی اور ہمارا بادبان ( یعنی کشتی کی رفتارتیز کرنے اوراس کارخ موڑنے کے لئے لگایاجانے والاکپڑا )  بلندتھا،   ہم نے کسی کویہ نداء دیتے سنا کہ ’’  اے کشتی والو !  ٹھہرو ! میں   تمہیں   ایک خبرسناتاہوں   ۔  ‘‘ حتی کہ اس نے پے درپے 7 مرتبہ یہ آوازلگائی ۔ تومیں   نے کشتی کے اگلے کنارے پر کھڑے ہو کر پکارا :  ’’ تم کون ہو اور کہاں   ہو ؟  کیا تم نہیں   دیکھ رہے کہ ہم کس حالت میں   ہیں   اور رُکنے کی طاقت نہیں  رکھتے ؟  ‘‘ جواباً آوازآئی کہ ’’   کیا میں   ایسے فیصلہ کے بارے میں   نہ بتاؤں  جو اللہعَزَّوَجَلَّ  نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے ؟  ‘‘ میں   نے کہا:  ’’ کیوں   نہیں   ! بتاؤ  ۔  ‘‘ اس نے کہا :  ’’ بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ جو شخص سخت گرمی کے دن اپنے آپ کومیری رضا کے لئے پیاسا رکھے گا تومجھ پرحق ہے کہ اسے قیامت کے دن سیراب کروں    ۔  ‘‘

            حضرت سیِّدُناابوبُرْدَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ اس کے بعدحضرت سیِّدُناابو موسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ایسے شدید گرمی کے دن کی تلاش میں   رہتے تھے کہ جس میں   گرمی کی وجہ سے انسان کی جان نکلتی ہواور آپ رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہ خاص اس دن بھی روزہ رکھتے  ۔  ‘‘   ( [6] )

پیکرشرم وحیا :  

 ( 870 ) … حضرت سیِّدُناابومِجْلَزرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوموسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ میں  اللہ عَزَّوَجَلَّسے حیا کی وجہ سے بہت زیادہ تاریک جگہ میں   غسل کرتا ہوں  اورسیدھاکھڑا ہونے سے پہلے کپڑے پہن لیتا ہوں    ۔  ‘‘    ( [7] )

 ( 871 ) … حضرت سیِّدُناسعید بن ابو بُرْدَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والدسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُناابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشادفرمایا :  ’’  انسان اس دنیا میں   زندہ رہ کر صرف کسی پریشان کُن آفت ومصیبت یا کسی فتنہ کا انتظار کرتا ہے  ۔  ‘‘    ( [8] )

مال کاوبال :  

 



[1]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  باب أخبارعبداﷲ بن عمر ،  الحدیث : ۱۰۹۹ ، ص۲۱۵۔

[2]    سنن ابن ماجہ ،  کتاب اللباس ،  باب لبس الصوف ،  الحدیث : ۳۵۶۲ ، ص۲۶۹۱۔

[3]    الطبقات الکبریٰ لابن سعد ،  الرقم۳۶۷ابوموسیٰ الاَشْعَرِی ، ج۴ ،  ص۸۴ ، بدون ’ ’فصلی بالناس‘‘۔

[4]    مسندابی یعلی الموصلی ،  حدیث ابی موسیٰ الاَشْعَرِی ،  الحدیث : ۷۲۳۴ ، ج۶ ، ص۲۱۹۔

[5]    صحیح مسلم ،  کتاب الجہاد ،  باب غزوۃ ذات الرقاع ،  الحدیث : ۴۶۹۹ ، ص۱۰۰۴۔

[6]    موسوعۃ لابن ابی الدنیا