Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

سایۂ رحمت کی طرف سبقت کرنے والے :  

             ( ۱۱ ) اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَاماللہ عَزَّوَجَلَّ کی رسی کو تھامنے والے ،   اس کے فضل کے متلاشی اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے والے ہیں   ۔ چنانچہ،   

 ( 27 )  … اُم المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ نور کے پیکر،   تمام نبیوں   کے سَرْوَر،   دو جہاں   کے تاجْوَر،   سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’  کیاتم جانتے ہو کہاللہ عَزَّوَجَلَّ کے سایۂ رحمت کی طرف سبقت لے جانے والے کون لوگ ہیں   ؟  ‘‘  صحابہ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی :  ’’ اللہ اور اس کا رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہتر جانتے ہیں   ۔  ‘‘  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ وہ لوگ جنہیں   حق بات کہی جائے تو قبول کرتے،  جب ان سے سوال کیاجائے تو خرچ کرتے اور لوگوں   کے لئے وہی فیصلہ کرتے ہیں   جو اپنے لئے پسند کرتے ہیں   ۔  ‘‘   ( [1] )

اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام کی خلوت وجلوت:

             ( ۱۲ ) اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَامجلوت  ( یعنی محافل  )  میں   خوش وخرم اور خلوت میں   افسردہ رہتے ہیں  ،   اشتیاقِ ملاقات ان کی روح کی خوشی بڑھاتااور ہجر وفراق کا ڈرانہیں   افسردہ کردیتا ہے ۔ چنانچہ،   

 ( 28 ) … حضرت سیِّدُناعِیَاض بن غَنْمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ انہوں   نے حضورنبی ٔپاک،   صاحبِ لَوْلاک،   سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :  ’’  مجھے بلند درجات میں   ملا ئکہ مقربین نے بتایاکہ میری اُمت کے بہترین لوگ وہ ہیں   جو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی وسعتِ رحمت پر اعلانیہ خوشی کا اظہار کرتے اور رب عَزَّوَجَلَّکے عذاب کی شدت کے خوف سے پوشیدہ طو ر پر رو تے ہیں   ۔  وہ اس کے پاکیزہ گھرو ں   میں   صبح وشام اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرتے اپنی زبانوں   کے ساتھ امید و ڈر کی حالت میں   اسے پکارتے ہیں   ۔ اپنے ہاتھوں   کو بلند وپست کرکے اس سے سوال کرتے ہیں   ۔ اپنے دلوں   کے ساتھ اول وآخر اسی کے مشتا ق رہتے ہیں   ۔  ان کا بو جھ لوگوں   کے نزدیک تو ہلکا لیکن ان کے اپنے نزدیک بھاری ہے ۔  وہ زمین پر ننگے پاؤں   چیونٹی کی طر ح عاجزی و انکساری سے پرسکون انداز سے چلتے ہیں   ۔ وسیلہ کے ذریعے قربِ الٰہی پاتے،  بو سیدہ کپڑے پہنتے ،   حق کی اتباع کرتے ،  قرآن مجید کی تلاوت کرتے اور قربانیاں   پیش کرتے ہیں    ۔ ان پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طر ف سے گواہ و نگہبان فر شتے مقرر ہوتے اور ان پراللہ عَزَّوَجَلَّکی نعمتیں   ظاہر ہوتی ہیں   وہ لوگ نورِ فراست سے بندوں   کو جان لیتے اور دنیا میں   غور و فکر کرتے ہیں   ۔  ان کے جسم زمین پرتو آنکھیں   آسمان میں   ،   پاؤں   زمین پر تو دل آسمان میں  ،   نفس زمین پرتو دل عرش کے پاس ہوتے ہیں   ۔  ان کی رو حیں   دنیامیں   ہوتی ہیں   جبکہ عقلیں   فکرآخرت میں   مصروف رہتی ہیں   ۔  چنا نچہ ،   

             ان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی وہ امید وخواہش کرتے ہیں   ۔  ان کی قبر یں   دنیا میں   لیکن ان کا مقام اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس ہے ۔ پھرآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ آیت ِکریمہ تلاوت فرمائی :  

ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ(۱۴) ( پ۱۳،  ابراہیم :  ۱۴ )

ترجمۂ کنز الایمان:  یہ اس کے لئے ہے جو میرے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اور میں   نے جو عذاب کا حکم سنایا ہے اس سے خوف کرے ۔   ( [2] )

حقوق الٰہی کی ادائیگی میں   جلدی:

             ( ۱۳ ) اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَامنہ توحقوق کی ادائیگی میں   تاخیرکرتے ہیں   اورنہ ہی طاعات بجا لانے میں   کوتاہی کرتے ہیں   ۔  چنانچہ ،   

 ( 29 ) … حضرت سیِّدُناجابررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،  قرارِ قلب و سینہ،  باعث نُزُول سکینہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ بندے پراللہ عَزَّوَجَلَّکے تین حُقُوق ہیں   ۔  پہلاحق یہ ہے کہ جب بندہ اللہعَزَّوَجَلَّکا کوئی حق اپنے اوپر آتا دیکھے تو اس کی ادائیگی کل پرنہ چھوڑے کیونکہ اسے خبر نہیں   کہ وہ کل تک زندہ رہے گا یا نہیں   ۔  دوسرا حق یہ ہے کہ بندہ اِعلانیہ کئے جانے والے نیک عمل کوان لوگوں   کے سامنے کرے جواسے پوشیدہ طور پر ( یعنی لوگوں   سے چھپ کر )  کرتے ہیں   اورتیسرا حق یہ ہے کہ اپنے عمل کے ساتھ ساتھ اپنی نیک اُمیدوں   کے حُصُول کی کوشش جاری رکھے ۔  ‘‘

            اس کے بعدحضورنبی ٔ کریم،   رَءُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے دست مبارَک سے تین کا اشارہ کرتے ہو ئے فرمایا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکا ولی ایسا ہوتا ہے ۔   ‘‘   ( [3] )

 ( 30 ) … حضرت سیِّدُنابراء بن عا زب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہاللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب،   دانائے غُیوب،   مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے کچھ خاص بندے ایسے ہیں   جنہیں  اللہ عَزَّوَجَلَّ جنت کے بلند مقام پر فائز فرمائے گا اور وہ لوگوں   میں   سب سے زیادہ عقل مند ہیں   ۔  صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! وہ لوگ سب سے زیادہ عقل مند کیسے ہیں    ؟  ‘‘  فرمایا :  ’’ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں   سبقت لے جانے کی کوشش کرتے اور ان اعمال کو بجا لانے میں   جلدی کرتے ہیں   جو رحمن عَزَّوَجَلَّ کی رضا کا باعث ہیں   وہ دنیائے فانی ،   اس کی سرداری اور ( دُنیاوی )  نعمتوں   سے بے رغبتی کرتے ہیں  ۔ دُنیا ان کے نزدیک ذلیل وحقیر ہے  ۔ پس وہ



[1]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  مسندالسیدۃ عائشۃ ،  الحدیث : ۲۴۴۳۳ ، ج۹ ، ص۳۳۶۔

[2]    المستدرک ،  کتاب الھجرۃ ،  باب وصف اہل الصفۃ ،  الحدیث  ۴۳۵۰ ،  ج۳ ،  ص۵۵۴۔

[3]    المعجم الاوسط  ،  الحدیث : ۶۱۳۷ ، ج۴ ، ص۳۲۹۔



Total Pages: 273

Go To