Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 845 ) … حضرت سیِّدُناابراہیم بن مُرَّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت سیِّدُنااُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضر ہوا اور عرض کی :  ’’  اے ابو مُنْذِررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  قرآنِ کریم کی ایک آیت نے مجھے بہت غمزدہ کر دیاہے ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے دریافت فرمایا :  ’’ وہ کون سی آیت ہے جس نے تمہیں   غمگین کردیاہے ؟  ‘‘ اس نے کہا :   وہ یہ آیت مبارَکہ ہے :   مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖۙ- ( پ۵،  النساء :  ۱۲۳ )

 ترجمۂ کنزالایمان: جو برائی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا ۔

            حضرت سیِّدُنااُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ بندۂ مومن کوجب کوئی مصیبت پہنچتی ہے اوروہ اس پر صبر کرتا ہے تووہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس حال میں   ملے گاکہ اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 846 ) … حضرت سیِّدُناعُتَیْرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا  اُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  حضرت سیِّدُناآدم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامدرازقدتھے اوران کے سینے پرکھجورکے پرانے درخت کی طرح بہت زیادہ بال تھے ۔  ( جن سے ان کاسترچھپاہواتھا )  جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے لغزش سرزد ہو ئی تووہ سب بال جھڑ گئے جس کی وجہ سے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جنت میں   بھاگنے لگے کہ اچانک ایک درخت میں   آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا سر اُلجھ گیا،  آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اس سے فرمایا :  ’’ مجھے چھوڑدے  ۔  ‘‘ درخت نے عرض کی :   ’’ آپ کو چھوڑنے کامجھے حکم نہیں   ہے  ۔  ‘‘ اتنے میں  اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا :   ’’ اے آدم !  کیا تو مجھ سے بھاگ رہا ہے ؟   ‘‘ عرض کی :  ’’ اے میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! مجھے تجھ سے حیاآرہی ہے ۔  ‘‘    ( [2] )

 مومن کے خصائل وفضائل :  

 ( 847 ) … حضرت سیِّدُناابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا اُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  مومن میں   یہ 4خصلتیں   ہوتی ہیں :  ( ۱ ) مصیبت میں   مبتلا ہوتاہے توصبرکرتاہے ۔   ( ۲ ) نعمت پاتا ہے تو شکراداکرتا ہے ۔  ( ۳ )  بات کرتاہے تو سچ بولتا ہے ۔   ( ۴ )  فیصلہ کرتاہے توانصاف کرتا ہے ۔  چنانچہ،   وہ نور کی 5 چیزوں   میں   اُلٹ پُلٹ ہوتا رہتاہے جس کے بارے میں  اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا :   نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍؕ   ( پ۱۸،  النور :  ۳۵ )   ترجمۂ کنزالایمان: نور پر نور ہے ۔

            لہٰذا مومن کاکلام نور ،   علم نور ،   اس کے نکلنے اور داخل ہونے کا مقام نور اور قیامت کے دن اسے نورہی کی طرف پھرناہے ۔ جبکہ کافران 5 ظلمتوں   میں   بھٹکتا ہے ۔  چنانچہ،  اس کاکلام ظلمت ،   عمل ظلمت ،   اس کے داخل ہونے اور نکلنے کی جگہ ظلمت اور اسے قیامت کے دن تاریکیوں   کی طرف ہی پلٹنا ہے  ۔  ‘‘    ( [3] )

سونے کاپہاڑ :  

 ( 848 ) …  حضرت سیِّدُناعبداللہ بن حارِث بن نَوفَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں   حضرت سیِّدُنااُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے ہمراہ قلعۂ حسّان کے سائے میں   کھڑا تھا ،   اس وقت لوگ فروٹ منڈی میں   خرید و فروخت میں   مشغول تھے ۔  حضرت سیِّدُنا اُبی بن کَعْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ دیکھ رہے ہو لوگ دنیا کی طلب میں   کس طرح مصروف ہیں   ؟  ‘‘ میں   نے عرض کی :  ’’ جی ہاں   ۔  ‘‘  پھرفرمایا :  میں   نے حضورنبی ٔمُکَرَّم،  نُورِمُجَسَّم،  شاہ ِبنی آدمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ’’ عنقریب دریائے فرات سونے کا ایک پہاڑ ظاہر کرے گا لوگ جونہی اس کے بارے میں   سنیں   گے فوراً اس کی طرف دوڑ یں   گے وہاں   کے لوگ کہیں   گے کہ اگر ہم ان کاراستہ کھلا چھوڑ دیں   تویہ سونے کا سارا پہاڑ لے جائیں   گے اور اس میں   سے کچھ بھی نہ چھوڑیں   گے ۔  بس پھراس پر لوگوں   میں   قتل عام شروع ہو جائے گااور ہر100 میں   سے 99 آدمی مارے جائیں   گے  ۔  ‘‘    ( [4] )

بخارکی فضیلت :  

 ( 849 ) … حضرت سیِّدُنا اُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں   نے بارگاہِ رسالت عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں   عرض کی کہ ’’  بخارکااجر و ثواب کیاہے ؟   ‘‘ ارشاد فرمایا :  ’’ جب تک بخارمیں   مبتلا شخص کے پاؤں   لڑکھڑاتے رہتے ہیں   اور وہ پسینے میں   شرابُوررہتا ہے اسے نیکیاں   ملتی رہتی ہیں   ۔  ‘‘ یہ سن کرمیں   نے بارگاہِ الٰہی میں   دعا کی :  ’’ اے پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! میں   تجھ سے ایسے بخارکاسوال کرتا ہوں  جومجھے تیری راہ میں   جہاد کرنے،   تیرے گھرکاحج کرنے اورنماز باجماعت کے لئے مسجدنبوی میں   جانے سے رُکاوٹ نہ بنے  ۔  ‘‘ راوی کہتے ہیں :  ’’ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ دُعاایسی مقبول ہوئی کہ اس کے بعد آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوہروقت بخارہی رہتاتھا  ۔  ‘‘   ( [5] )

ریاکاری کی تباہ کاری:

 ( 850 ) … حضرت سیِّدُنا اُبی بن کَعْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشادفرمایا :  ’’  اس امت کو بلندی ٔرتبہ،   نصرت و مدد اور غلبہ و



[1]    الزھدلہنادبن السری ،  باب الصبرعلی البلاء ،  الحدیث : ۳۹۷ ، ج۱ ، ص۲۳۵۔

[2]    المستدرک ،  کتاب التفسیر ،  البقرۃ ،  باب خلق اﷲ آدمعَلَیْہِ السَّلَامالخ ،  الحدیث : ۳۰۹۲ ، ج۲ ، ص۶۵۰ ، بتغیرٍ۔

[3]    تفسیرالطبری ،  سورۃ النور ،  تحت الآیۃ۳۵ ، الحدیث : ۲۶۱۰۳ ، ج۹ ، ص۳۲۳۔

                المستدرک ،  کتاب التفسیر ،  سورۃ النور ،  باب أحوال أنوارالمؤمنین والخ ،  الحدیث : ۳۵۶۲ ، ج۳ ، ص۱۶۴۔

[4]    صحیح مسلم کتاب الفتن ،  باب لا تقوم الساعۃالخ ،  الحدیث : ۷۲۷۶

Total Pages: 273

Go To