Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

خشیت الٰہی سے رونے کی فضیلت :  

 ( 837 ) … حضرت سیِّدُناابوالعالِیہ رَفِیع بن مِہْرَان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا اُبی بن کَعْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ صراطِ مستقیم اور سنَّتِ مصطفی پر قائم رہنے کواپنے اوپرلازم کرلوکیونکہ جوبھی بندہ  صراطِ مستقیم اور سنت رسول پرگامزن رہتاہے اورذکراللہکرتے وقت اس کی آنکھیں  خوف خدا سے آنسو بہاتی ہیں   اسے آگ نہیں   چُھوسکتی اور جوبندہ صراط ِمستقیم اور سنت ِمصطفی پر قائم رہتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کاذکرکرتا ہے اورخوف سے اس کا بدن کانپنے لگتاہے توایسے شخص کی مثال اس درخت جیسی ہے جس کے پتے خشک ہوچکے ہوں  اور تیزہوا کے جھونکوں   سے جھڑجاتے ہوں  توجس طرح اس درخت کے پتے جھڑتے ہیں   اسی طرح اس شخص کے گناہ جھڑجاتے ہیں   ۔  راہ خدااورسنت مصطفی میں   میانہ روی اختیارکرناان کے خلاف محنت وکوشش کرنے سے بہتر ہے ۔ لہٰذا تم اپنے اعمال کاجائزہ لوخواہ وہ میانہ روی سے ہوں   یا محنت وکوشش سے،   بہرحال وہ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام کے طریقے اور ان کی سنت کے مطابق ہونے چاہئیں   ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 838 ) … حضرت سیِّدُناابوالعالیہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا اُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے نصیحت کی درخواست کی توانہوں   نے فرمایا :  ’’ قرآن کریم کو اپنا امام وپیشوابنالو اور اس کے قاضی وحاکم ہونے ( یعنی اس کے فیصلوں   اوراحکام ) پرراضی رہوکیونکہ یہی وہ چیزہے جسے تمہارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تم میں   اپناجانشین مقررفرمایا ہے ۔ یہ ایسا شفیع ہے جس کی شفاعت مقبول ہے اور ایسا شاہدہے جس پر کوئی الزام نہیں   ۔ اس میں   تمہارا اورتم سے پہلے کی امتوں   کابیان ہے ۔ یہ کتاب تمہارے درمیان حاکِم ہے ۔  اس میں   تمہارے اور تم سے بعد والوں   کے احوال بھی بیان کئے گئے ہیں   ۔  ‘‘   ( [2] )

 ( 839 ) … حضرت سیِّدُناابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنااُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس آیت کے بارے میں :  قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ  ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ وہ قادرہے کہ تم پر عذاب بھیجے تمہارے اُوپر سے ۔  فرمایا :  ’’ اس میں   عذاب سے 4 چیزیں   مراد ہیں   جو سب کی سب عذابِ الٰہی ہیں   اوران سب کاواقع ہونایقینی طور پر ثابت ہے ۔  چنانچہ،   حضورنبی ٔکریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصالِ ظاہری کے25سال بعد 2 چیزیں   تو واقع ہو چکی ہیں   ان میں  ایک یہ کہ لوگ مختلف گروہوں   میں   بٹ گئے جبکہ دوسری چیزلوگوں   کے درمیان جھگڑوں   کاعام ہونا ہے اور 2 چیزوں  کاوقوع ابھی باقی ہے اور یقینا وہ ضرورواقع ہوں   گی زمین میں   دھنسنا اور آسمان سے پتھر برسنا ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 840 ) …  حضرت سیِّدُنا عبید بنعُمَیْر رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنااُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ جو بندہ رضائے الٰہی کے لئے کسی چیز کو ترک کردیتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے بدلے اس سے بہتر چیزاسے عطا فرماتا ہے جس کا اسے گمان تک نہیں   ہوتااور جوکسی کوحقیراورمعمولی جان کربے احتیاطی سے اس میں   ہاتھ ڈالتاہے اورغلط طریقے سے اسے حاصل کرتاہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے ایسی سختی وتنگی میں   مبتلافرماتاہے جس کا اسے خیال تک نہیں   ہوتا ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 841 ) … حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا اُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ حضورنبی ٔمکرم،  نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانے میں   ہم متحدتھے لیکن بعد میں   ہمارے درمیان اتحادنہ رہا ۔  ‘‘   ( [5] )

 ( 842 ) … حضرت سیِّدُناعُتَیْ بن ضَمْرَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنااُبی بن کَعْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ حضورنبی ٔ اکرم ،  نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانے میں   ہم متحدتھے لیکن اب اتحاد واتفاق نہیں   رہا ۔  ‘‘

دُنیاکی مثال :  

 ( 843 ) … حضرت سیِّدُنا حسن بصری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنااُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشادفرمایا :  ’’ سنو ! دنیا کی مثال ابنِ آدم کے کھانے کی طرح ہے جس کا ذائقہ نمک اور مَسَالے سے بنتاہے ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 844 ) … حضرت سیِّدُنااُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار،   ہم بے کسوں   کے مددگار،   شفیعِ روزِ شُمارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’ بے شک دنیاکی مثال ابن آدم کے کھانے سے بیان کی گئی ہے توتم دیکھو کہ وہ نمک مصالحے والا کھانا آدمی کے پیٹ سے کیابن کے نکلتاہے اوریہ معلوم ہے کہ کھانا کیا بن جاتا ہے ۔  ‘‘    ( [7] )

سَیِّدُ نا اُبَیْ بن کَعْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے ارشادات

مصیبت پرصبرکرنے کی فضیلت :  

 



[1]    المصنف لابن  ابی شیبۃ ،  کتاب الزھد ،  باب ما قالوافی البکاء من خشیۃ اﷲ ،  الحدیث : ۵ ، ج۸ ، ص۲۹۷۔

                الزھدلابن المبارک ،  مارواہ نعیم بن حمادفی نسختہ زائدا ،  باب فی لزوم السنۃ ،  الحدیث : ۸۷ ، ص۲۱۔

[2]    سیراعلام النبلاء ،  الرقم۸۷ اُبَیْ بن کَعب بن قَیْس ، ج۳ ، ص۲۴۵۔

[3]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  حدیث ابی العالیۃ الریاحی ،  الحدیث : ۲۱۲۸۵ ، ج۸ ، ص۴۶۔

[4]    الزہدلہنادبن السری ،  باب الورع ،  الحدیث : ۹۳۷ ، ج۲ ، ص۴۶۶۔

[5]    سنن ابن ماجہ ،  ابواب الجنائز ،  باب ذکر وفاتہ ودفنہ صلی اللہ علیہ وسلم ،  الحدیث : ۱۶۳۳ ، ص۲۵۷۴۔

[6]    مسندابی داودالطیالسی ،  احادیث اُبَیْ بن کَعْب



Total Pages: 273

Go To