Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

تمہیں   قرآن سکھاؤں   ۔  ‘‘ میں   نے عرض کی :  ’’ کیا میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ نے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے میرانام یادفرمایاہے  ؟  ‘‘ ارشادفرمایا :  ’’ ہاں    ۔  ‘‘  پھریہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ-هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ(۵۸) ( پ۱۱،  یونس :  ۵۸ )

 ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اوراسی پر چاہیے کہ خوشی کریں   وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے ۔    ( [1] )

 ( 831 ) …  عبد الرحمن بن اَبْزٰیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہحضرت سیِّدُنا اُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ حضورنبی ٔرحمت ،  شفیع امتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے فرمایا :   ’’ مجھے حکمِ الٰہی ہواہے کہ میں   تمہیں   قرآن حکیم کی کوئی سُورت سناؤں   ۔  ‘‘  میں   نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  کیا آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے میرا نام لیاگیاہے ؟  ‘‘ ارشاد فرمایا :  ’’  ہاں   ۔  ‘‘ راوی کہتے ہیں :  ’’  میں   نے ان سے کہاکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو اس سے بہت خوشی ہوئی ہوگی ۔  ‘‘ توانہوں   نے فرمایا :  کیوں   نہیں   ۔  جبکہاللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان ہے :    

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ-هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ(۵۸) ( پ۱۱،  یونس :  ۵۸ )

 ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اوراسی پر چاہیے کہ خوشی کریں   وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے ۔    ( [2] )

 ( 832 ) … حضرت سیِّدُنااُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ نور کے پیکر،   تمام نبیوں   کے سَرْوَر،   دوجہاں   کے تاجْوَر،   سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشادفرمایا :   ’’ مجھے تم کو قران سنانے کا حکم دیاگیاہے ۔  ‘‘ میں   نے عرض کی :  ’’ میں  اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ایمان لایاہوں  ،  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دستِ اقدس پر اسلام قبول کیاہے اور آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ہی علم حاصل کیاہے ۔  ‘‘ حضورنبی ٔ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دوبارہ یہی اِرشاد فرمایاتومیں   نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  کیااللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں   میرا ذکر کیا گیاہے ؟  ‘‘ اِرشاد فرمایا :  ’’  ہاں   !  تیرا نام و نسب عالم بالامیں   ذکر کیا گیا ہے ۔  ‘‘  یہ سن کر میں   نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! پھر توآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمضرور تلاوت فرمائیں   ۔  ‘‘   ( [3] )

 ( 833 ) … حضرت سیِّدُناسلیمان بن عامرمَرْوَزِی عَلَیْہرَحْمَۃُ اللہ الْوَلِی حضرت سیِّدُنارَبِیع بن اَنس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ انہوں   نے حضرت سیِّدُناابوالْعَالِیَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے اورانہوں   نے حضرت سیِّدُنا اُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے قرآن پاک پڑھا اور حضرت سیِّدُنااُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ حضورنبی ٔاکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشاد فرمایا :  ’’  مجھے کہاگیا ہے کہ میں   تمہارے سامنے قرآنِ پاک کی تلاوت کروں   ۔  ‘‘ میں   نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا وہاں   میرا ذکر کیا گیا ہے ؟   ‘‘  ارشادفرمایاـ :  ’’ ہاں   ۔  ‘‘ یہ سن کر حضرت سیِّدُنا اُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ رو پڑے ۔ راوی کہتے ہیں : ’’  میں   نہیں   جانتاکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ خوشی کے مارے روئے یا ہیبت وجلال کی وجہ سے  ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 834 ) … حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن اَبی لیلیٰ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنااُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :  میں   بارگاہِ رسالت میں   حاضر ہواتو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنا دستِ اَقدس میرے سینے پر مارکر فرمایا :  ’’ میں   تمہیں   شک اور تکذیب سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ میں   دیتا ہوں   ۔  ‘‘ فرماتے ہیں :  ’’ یہ سن کر میں   پسینے سے شر ابو رہوگیااورمیں   نے محسوس کیاگویاکہ میں  خوف وگھبراہٹ کی حالت میں   اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف دیکھ رہا ہوں   ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 835 ) … حضرت سیِّدُناقَیس بن عُباد رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  مَیں   حضور نبی ٔاکرم،  نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی زیارت کی غرض سے مدینہ منورہ زَادَہَااللہ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًاحاضر ہوامجھے حضرت سیِّدُنا اُبی بن کَعْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے ملنے کا شوق بہت زیادہ تھا ۔  چنانچہ،   میں   مسجد  کی پہلی صف میں   جاکھڑا ہوا ۔  حضرت سیِّدُنا اُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لائے ،   نماز پڑھائی اورپھرحدیث بیان فرمانے لگے ۔ میں   نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی بات پر توجہ دیتے لوگوں   کی گردنیں   آپ کی طرف اتنی درازہوتی دیکھیں   کہ کسی چیزکی طرف اتنی درازہوتی نہیں   دیکھیں   ۔ میں   نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو فرماتے سناکہ ’’ ربِّ کَعْبَہ کی قسم ! حکماء واُمرا ہلاک ہوگئے ۔  ‘‘ یہ بات تین بار کہی پھر فرمایا :  ’’  وہ خود بھی ہلاک ہوئے اور دوسروں   کو بھی ہلاک کیا بہرحال مجھے اِن پرنہیں   بلکہ اُن پرافسوس ہے جنہوں   نے مسلمانوں   کوہلاک کیا ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 836 ) … حضرت سیِّدُناقَیس بن عُباد رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  میں   مدینہ منورہ زَادَہَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا میں   مسجد کی پہلی صف میں   تھاکہ ایک شخص نے مجھے پیچھے سے پکڑکرکھینچا اورخودمیری جگہ کھڑا ہوگیا ۔ سلام پھیرکرجب وہ میری طرف متوجہ ہواتو وہ حضرت سیِّدُنااُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ تھے ۔ انہوں   نے مجھ سے فرمایا :  ’’ اے نوجوان !  اللہ عَزَّوَجَلَّتجھے رنج نہ دے !  ہمیں   مدنی سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دربار سے یہ تاکیدہے ۔  ‘‘  پھر قبلہ رُو ہوکر فرمایا :  ’’  ربِّ کَعْبَہ کی قسم !  اُمرا وسلاطین ہلاک ہوگئے ۔  ‘‘ یہ بات تین بارکہی پھرفرمایا :  ’’ مجھے ان پر نہیں   بلکہ اِن لوگوں   پرافسوس ہے جنہوں   نے لوگوں   کو گمراہ کیا ۔  ‘‘    ( [7] )

 



[1]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  الحدیث : ۲۱۱۹۴ ، ج۸ ، ص۲۳۔

[2]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  الحدیث : ۲۱۱۹۵۔المستدرک ،  الحدیث : ۵۳۷۶ ، ج۴ ، ص۳۵۸۔



Total Pages: 273

Go To