Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

ایک غلط عقیدے کی تردید :  

 ( 827 ) … حضرت سیِّدُناابو طلحہخَوْلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی  فرماتے ہیں   کہ ایک مرتبہ ہمارافِلَسْطِین میں   حضرت سیِّدُناعُمَیْربن سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے گھر جانا ہوا ۔  انہیں  ’’ نَسِیْجٌ وَّحْدَہٗ ‘‘ یعنی صفاتِ محمودہ میں   لاثانی و بے نظیر کے نام سے پکارا جاتاتھایہ اس وقت کی بات ہے کہ جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنے گھر میں   واقع ایک بڑی دکان پرتھے اور گھر میں   پانی کا ایک پکاحوض بھی تھا ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے غلام سے فرمایا :  ’’  گھوڑوں   کو حوض پر لاؤ ۔  ‘‘  غلام گھوڑے لے کر آیا تو دریافت فرمایا :  ’’ فلاں   گھوڑی کہاں   ہے ؟  ‘‘  غلام نے عرض کی :  ’’ اسے خارش ہے جس کی وجہ سے اس کے بدن سے خون بہہ رہا ہے ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ اسے بھی پانی پلانے کے لئے حوض پر لاؤ ۔  ‘‘  غلام نے عرض کی :  ’’ اس کی وجہ سے دوسرے گھوڑوں   کو بھی خارش لگ جائے گی ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  اسے لے آؤ کیونکہ میں   نے حضورنبی ٔاکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اِرشاد فرماتے سناہے کہ ’’  نہ بیماری کا اُڑ کر لگنا ہے نہ پرندہ نہ اُلّو ( [1] ) ۔  ‘‘  تمہاراکیاخیال ہے کہ ایک اونٹ صحرا میں   ہوتا ہے اس کے سینہ کے اُبھاریا پیٹ کے نرم حصہ پر خارش کا نکتہ ظاہر ہوتاہے جوپہلے نہیں   تھاتو اس کو پہلے کس نے بیماری لگائی ؟  ( [2] )

مصنف کتاب کا تبصرہ :  

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہاَصْفَہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی فرماتے ہیں : ’’ اس حدیث کے علاوہ حضرت سیِّدُناعُمَیْر بن سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی کوئی حدیث ہمارے علم میں   نہیں   ہے ۔  ‘‘

حضرت سَیِّدُنااُبَیْ بن کَعْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            ہجرت میں  سبقت لے جانے والے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن میں  سے حضرت سیِّدُنااُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبھی ہیں   ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پیچیدہ ومشکل مسائل کاجواب بھی اتنہائی آسان اندازمیں   ارشاد فرما دیتے  ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے پیارے حبیب،  حبیب لبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت سے سرشار اور سَیِّدُالْمُسْلِمِیْن  ( یعنی مسلمانوں   کے سردار )  کے لقب سے مشہور تھے ۔

سَیِّدُنااُبَیْ بن کَعْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کامقام ومرتبہ

سب سے زیادہ عظمت والی آیت :  

 ( 828 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہ بن رَبَاح اَنصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا اُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں  کہ حضورنبی ٔ پاک،  صاحب لولاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے فرمایا :   ’’ اے ابو مُنْذِر !  ( یہ حضرت سیِّدُنااُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی کنیت ہے )   تمہارے نزدیک قرآنِ پاک کی سب سے زیادہ عظمت والی آیت کونسی ہے ؟  ‘‘  عرض کی :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ اوراس کا رسولصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمزیادہ جانتے ہیں    ۔  ‘‘  پھرفرمایا :  ’’ اے ابو مُنْذِر ! تمہارے نزدیک قرآنِ پاک کی سب سے زیادہ عظمت والی آیت کونسی ہے ؟  ‘‘ توانہوں   نے عرض کی: ’’ سب سے زیادہ عظمت والی آیت :  اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ﳛ ( یعنی آیت الکرسی ) ہے  ۔  ‘‘  سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کے سینے پرہاتھ مارکر فرمایا :  ’’ اے ابومُنْذِر !  تمہیں   علم مبارَک ہو ۔  ‘‘    ( [3] )

محبت الٰہی :  

 ( 829 ) … حضرت سیِّدُنااَنس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضورنبی ٔ کریم،  رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنااُبی بن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشادفرمایاکہ ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں   تمہیں   قرآن سناؤں   ۔  ‘‘ انہوں   نے عرض کی :  ’’ کیااللہ عَزَّوَجَلَّ نے میرا نام لے کر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو تلاوت کرنے کا حکم دیا ہے  ؟  ‘‘ ارشاد فرمایا :  ’’ ہاں  اللہ عَزَّوَجَلَّنے تمہارانام لے کرحکم فرمایا ہے ۔  ‘‘  راوی کہتے ہیں : ’’ یہ سن کر حضرت سیِّدُنا اُبی بن کَعْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے رونا شروع کر دیا ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 830 ) … حضرت سیِّدُنااُبی بن کَعْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت،   شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشادفرمایا :  ’’ مجھے حکم ہواہے کہ میں   



[1]    حکیم الامت مفتی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس کے تحت فرماتے ہیں   : ’’اہلِ عرب کاعقیدہ تھاکہ بیماریوں   میں   عقل وہوش ہے جوبیمارکے پاس بیٹھے اسے بھی اس مریض کی بیماری لگ جاتی ہے وہ پاس بیٹھنے والے کوجانتی پہچانتی ہے یہاں   اسی عقیدے کی تردیدہے موجودہ حکیم ڈاکٹرسات بیماریوں   کومتعدی مانتے ہیں  ۔ جذام ،  خارش ،  چیچک ، موتی جہرہ ، منہ کی یابغل کی بو ، آشوب چشم  ، وبائی بیماریاں   اس حدیث میں   ان سب وہموں   کودفع فرمایا گیا ہے۔  ( مرقات واشعہ ) اس معنی سے مرض کااڑکرلگناباطل ہے مگریہ ہوسکتاہے کہ کسی بیمارکے پاس کی ہوامتعفن ہو اورجس کے جسم میں   اس بیماری کامادہ ہووہ اس تعفن سے اثرلے کربیمارہوجاوے اس معنی سے تعدی ہوسکتی ہے اس بناپر فرمایا گیا کہ جذامی سے بھاگو لہٰذایہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں   غرضیکہعُدْوٰی یا تَعَدِّیاورچیز ہے کسی بیمارکے پاس بیٹھنے سے بیمارہوجاناکچھ اورچیزہے۔اہلِ عرب کاخیال تھاکہ میت کی گلی ہڈیاں   اُلّوبن کرآجاتی ہیں   اور اُلّوجہاں   بول جاوے وہاں   ویرانہ ہوجاتا ہے۔یہ عقیدہ غلط ہے بعض لوگ کہتے تھے کہ جس مقتول کابدلہ نہ لیاجاوے اس کی روح اُلّوکی شکل میں   آکرلوگوں   سے کہتی ہے اُسْقُو ،  اُسْقُومجھے پانی پلاؤ۔یہ سب باطل خیالات ہیں  ۔

  ( مرآۃ المناجیح ، ج۶ ، ص۲۵۶ )

[2]    المسندلابی یعلی الموصلی ،  مسندعمیربن سعد ،  الحدیث : ۱۵۷۷ ، ج۲ ، ص۱۰۰۔

[3]    صحیح مسلم ،  کتاب فضائل القرآن ،  باب فضل سورۃ الکہف وآیۃ الکرسی ،  الحدیث : ۱۸۸۵ ، ص۸۰۵۔

[4]    صحیح مسلم ،  باب اِسْتِحْباب قراء ۃ القرآنالخ ،  الحدیث : ۱۸۶۴ / ۱۸۶۵ ، ص۸۰۳۔



Total Pages: 273

Go To