Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

کی طرف سے قبول ہے اور نہ آپ کے بعد کسی اور سے قبول کروں   گا ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !  میں   اس کے فتنے سے نہیں   بچ سکتابلکہ بچ نہیں   سکا کیونکہ ایک دن میں   نے  ( اس عہدے کے سبب ) ایک نصرانی سے کہا :  اللہعَزَّوَجَلَّ تجھے رُسواکرے ۔  ‘‘ اے امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  ! مَیں   اس معاملہ میں   آپ کی وجہ سے مبتلا ہوا اور میراسب سے برا دن وہ تھاجس دن میں   گورنربنایاگیاتھا ۔  ‘‘  پھرحضرت سیِّدُنا عُمَیْربن سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے جانے کی اجازت طلب کی اور اجازت ملنے پر اپنے گھر تشریف لے گئے جو مدینہ منورہ زَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاسے چند میل کے فاصلے پر واقع تھا ۔ ان کے چلے جانے کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  مجھے اندیشہ ہے کہ انہوں   نے ہمارے ساتھ خیانت کی ہے  ۔   ‘‘  

            چنانچہ،   اس خیال سے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حارث نامی ایک شخص کو100 دینار دے کر بھیجااور فرمایا :   ’’ عُمَیْربن سعد کے ہاں  جاکر بطورِ مہمان قیام کرو اگر ان کے گھر میں   مال ودولت کی فراوانی دیکھو تو لوٹ آنا اور تنگی دیکھو تویہ دینار دے آنا ۔  ‘‘ جب حارِث حضرت سیِّدُناعُمَیْربن سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس پہنچاتودیکھاکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ایک دیوارسے ٹیک لگائے اپنی قمیص کو جوؤں   سے صاف کررہے ہیں   ۔  حارِث نے سلام عرض کیا آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے جواب دینے کے بعد فرمایا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پر رحم فرمائے ! ہمارے ہاں   رُک جاؤ ۔   ‘‘  حارث سواری سے اتر کران کے ہاں   ٹھہر گیا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے پوچھا :   ’’ کہاں   سے آئے ہو ؟  ‘‘  کہا :   ’’ مدینے سے ۔  ‘‘ پھردریافت فرمایا :  ’’ امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو کس حال میں   چھوڑاہے ؟  ‘‘  عرض کی :  ’’ اچھے حال میں   چھوڑاہے ۔  ‘‘ پوچھا :   ’’ مسلمانوں   کوکس حال میں   چھوڑا ؟  ‘‘  عرض کی :  ’’  وہ بھی اچھے حال میں   ہیں   ۔  ‘‘ پھر پوچھا :   ’’ کیا امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  شرعی حدودنافذ کرتے ہیں   ؟   ‘‘ عرض کی :   ’’ ہاں   ! یہاں   تک کہ انہوں   نے اپنے بیٹے کوکسی قبیح فعل کی وجہ سے کوڑے لگائے جس کی تکلیف کی شدت ان کے بیٹے سے برداشت نہ ہوسکی اور ا ن کا انتقال ہو  گیا ( [1] ) ۔  ‘‘  یہ سن کر حضرت سیِّدُناعُمَیْربن سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اللہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں   عرض کی :   ’’ اے اللہعَزَّوَجَلَّ !  عمر کی مدد فرما ! میں   ان کے بارے میں   جانتا ہوں   کہ وہ تجھ سے بہت محبت کرتے ہیں    ۔  ‘‘

            راوی بیان کرتے ہیں   کہ حارث نے حضرت سیِّدُنا عُمَیْر بن سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاں  3 دن قیام کیا ۔  ان کے پاس صرف جو کی ایک روٹی ہوتی جو وہ حارث کو کھلادیتے اور خود بھوکے رہتے ۔ یہاں   تک کہ جب فاقہ بہت زیادہ ہوگیا توانہوں   نے حارث سے فرمایا :   ’’ ہم پر فاقے آگئے ہیں   اگر مناسب سمجھو تو کہیں   اور چلے جاؤ ۔  ‘‘  حارث نے وہ دینار نکال کر دیئے اور عرض کی :  ’’  امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے یہ آپ کے لئے بھیجے ہیں   ان سے اپنی ضروریات پوری کرلیں   ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے بلند آواز سے کہا :  ’’ مجھے ان کی حاجت نہیں   ۔  ‘‘  اوروہ دینار واپس لوٹادیئے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ نے وہ دینار رکھ لینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ ’’  اگر ضرورت نہ پڑی تو کسی مناسب جگہ پر خرچ فرما دیجئے گا ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ اللہعَزَّوَجَلَّ کی قسم ! انہیں   رکھنے کے لئے بھی میرے پاس کوئی چیز نہیں   ہے ۔  ‘‘ زوجہ نے اپنی قمیص کا نیچے والاحصہ پھاڑ کر دیا،  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس میں   دینار رکھ لئے پھرگھرسے باہرجاکروہ سب کے سب شُہَدا اور فقرا کی اولاد وں  میں   بانٹ آئے ۔  ‘‘ جب واپس لوٹے توحارِث نے خیال کیا کہ مجھے بھی ان میں   سے کچھ عطا کریں   گے لیکن آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ توبالکل خالی ہاتھ تھے اور حارث سے فرمایاکہ ’’   امیر المومنین کومیراسلام عرض کیجئے گا ۔  ‘‘ جب حارِث امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں  پہنچاتوانہوں   نے اِسْتِفْسَار فرمایا :  ’’ تم نے کیا دیکھا ؟  ‘‘ عرض کی :   ’’ یاامیرالمؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  میں   نے انہیں   سخت مشکل حالات میں   دیکھا ہے ۔   ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے دیناروں   کے بارے میں   دریافت کیاتو عرض کی :  ’’  مجھے نہیں   معلوم کہ انہوں   نے ان کاکیاکیا ۔   ‘‘ پھرامیرالمؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا عُمَیْربن سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو خط لکھا کہ ’’   جیسے ہی آپ میراخط پڑھیں   فور اً میرے پاس چلے آئیں   ۔  ‘‘  

            چنانچہ،   حضرت سیِّدُناعُمَیْربن سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضر ہو ئے توانہوں   نے دیناروں   کے متعلق استفسار فرمایاآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی :  ’’ میرے دل نے جو چاہا میں   نے وہی کیا آپ ان کے متعلق کیوں   پوچھ رہے ہیں   ؟  ‘‘  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ میں   تمہیں   قسم دیتاہوں   مجھے ضرور بتاؤ کہ تم نے وہ کہاں   صرف کئے ہیں   ؟  ‘‘ حضرت سیِّدُناعُمَیْربن سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی :  ’’  میں   انہیں   اپنے لئے آگے بھیج چکاہوں   ۔  ‘‘ امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے !   ‘‘ پھر انہیں   ایک وَسْق غلہ اور دو کپڑے دینے کا حکم دیا ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے یہ کہتے ہوے غلہ لینے سے انکار کر دیاکہ ’’  مجھے اس کی ضرورت نہیں   کیوں   کہ میرے گھر میں   دو صاع غلہ موجودہے جب وہ ختم ہوگا اللہعَزَّوَجَلَّ مزید رزق عطافرمادے گااورکپڑے اس نیت سے لے لئے کہ اُ مِّ فلاں   کے پاس کپڑے نہیں  ہیں   اسے دے دوں   گا ۔  ‘‘ پھر وہ کپڑے لے کراپنے گھر لوٹ آئے اور کچھ ہی عرصے بعدان کااِنتقال ہوگیا،   اللہعَزَّوَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو ۔ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ان کے انتقال کی خبر ملی توانہیں  بہت صدمہ ہوا اوربہت سے لوگوں   کے ہمراہ جنت البقیع تشریف لے گئے اور اپنے رُفَقَا سے فرمایا :   ’’ تم میں   سے ہرشخص اپنی خواہش وتمناکااظہار کرے ۔  ‘‘  ایک نے کہا :   ’’ یاامیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ! میں   چاہتا ہوں  کہ میرے پاس بہت سا مال ہو اور میں   اس کے ذریعے بہت سے غلام خرید کررضائے الٰہی کے لئے آزاد کردوں   ۔  ‘‘ دوسرے نے کہا :   ’’ کاش !  مجھے اتنی جسمانی طاقت مل جائے کہ میں   آبِ زمزم کے ڈول نکال نکال کر حاجیوں   کو پلاتا رہوں   ۔  ‘‘ پھر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’  میری تمنا تویہ ہے کہ میرے پاس عُمَیْر بن سعد جیساشخص ہوتا جس سے میں   مسلمانوں   کے مختلف کاموں   پر مدد لیتا ۔  ‘‘    ( [2] )

 



[1]    امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے صاحبزادے کی طرف کارِبد کی نسبت غلط ہے جیساکہ فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی مجمع البحار کے حوالہ سے فرماتے ہیں   : ’’حضرت سیِّدُناعمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے صاحبزادے جن کا نام عبدالرحمن اوسط اور کنیت ابو شحمہ ہے۔ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ۔ ان کی جانب شراب  پینے اور زنا کرنے کی نسبت غلط ہے ۔صحیح یہ ہے کہ انہوں   نے نبیذ پی تھی جس کے سبب نشہ ہو گیا تھاتوحضرت عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان پر حد قائم فرمائی ۔پھر وہ بیمار ہوکر اتنقال فرماگئے ۔ ( فتاوی فیض الرسول ، ج۲ ، ص۷۱۰ )

[2]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۱۰۹ ، ج۱۵۔۱۷ ، ص۵۱تا۵۳۔



Total Pages: 273

Go To