Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

کے بعدبقیہ صدقہ کر دیتے توزوجہ پوچھتی :  ’’ بقیہ رقم کہاں   ہے ؟  ‘‘ فرماتے :  ’’ میں   نے قرض دے دیا ہے ۔  ‘‘   کچھ لوگ نے ان کے پاس آکر کہا :  ’’ آپ کے گھر والوں   اور سسرال والوں   کا بھی آپ پر حق ہے ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  میں  ان کے حقوق ادا کرنے پر کسی کوترجیح نہیں   دیتا اورنہ حورِعین کی طلب میں   کسی انسان کی رضاکا متلاشی ہوں    ۔  اگرجنت کی ایک حور دنیا کی طرف جھانک لے تو ساری زمین آفتاب کی طرح چمکنے لگے اور میں   جنت میں   سب سے پہلے داخل ہونے والے گروہ سے پیچھے نہیں   رہنا چاہتا  ۔ میں   نے حضورنبی ٔاَکرم،  نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اِرشاد فرماتے سنا ہے کہاللہعَزَّوَجَلَّ  تمام لوگوں   کو حساب کے لئے جمع فرمائے گا توغریب مسلمان جنت کی طرف ایسے تیزی سے جائیں   گے جیسے کبوتر پَرپھیلا کراپنے گھونسلے کی طرف اترتا ہے ۔  ان سے کہا جائے گا :  ’’  ٹھہرو ! پہلے حساب دو ۔  ‘‘ تو وہ کہیں   گے :  ’’ ہمارے پاس توکچھ بھی نہیں   جس کاحساب ہو ۔  ‘‘  ان کا پروردگار عَزَّوَجَلَّفرمائے گا :  ’’  میرے بندے سچ کہتے ہیں   ۔  ‘‘  پھر ان کے لئے جنت کا دروازہ کھل جائے گا اور وہ دوسرے لوگوں   سے 70 سال پہلے جنت میں   داخل ہوجائیں   گے ۔  ‘‘

            یہ الفاظ حضرتجَرِیْر رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی روایت کے ہیں  جبکہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ صغیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْکَبِیْر کی روایت میں   اس طرح ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو خبر ملی کہ حضرت سیِّدُناسعید بن عامررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو مشکلات کاسامناہے یہاں  تک کہ ان کے گھرمیں   آگ بھی نہیں   جلتی توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کی طرف کچھ مال بھیجاانہوں   نے وہ سارا مال مختلف تھیلیوں   میں   ڈالا اور آس پاس کے پڑوسیوں  میں   صدقہ کر دیااورفرمایا :  میں   نے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے سناہے کہ ’’  اگر کوئی حُور ا پنی ایک انگلی ظاہر کردے تو ہر جاندار اس کی خوشبو پائے ۔  ‘‘ توکیامیں   تمہاری خاطران کوچھوڑ دوں   ؟  اللہعَزَّوَجَلَّ کی قسم !  اے دنیا کی عورتو !  تم اس بات کے زیادہ لائق ہو کہ میں   تمہیں   ان حوروں   کی خاطرچھوڑدوں  نہ کہ انہیں   تمہاری خاطر ۔  ‘‘    ( [1] )

حضرت سَیِّدُناعُمَیْربن سَعْدرَضِیَ اللہ تَعَا لٰی عَنْہ

            ہجرت میں   سبقت لے جانے والوں   میں   حضرت سیِّدُناعُمَیْربن سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بھی ہیں   ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ عہد کی حفاظت کرتے ،  وعدہ پورا کرتے تھے ۔  بہت ذہین تھے اورمزاج میں   قدرے سختی تھی ۔  بہترین گورنر اور رعایا پراللہ عَزَّوَجَلَّکی حجت تھے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ’’  نَسِیْجٌ وَّحْدَہٗ ‘‘  یعنی صفاتِ محمودہ میں   لاثانی وبے نظیر کہا جاتاہے ۔

حِمص کے گورنر کاتقرر :  

 ( 826 ) … حضرت سیِّدُناعُمَیْربن سعد اَنصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان فرماتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے حِمص کاگورنر بنا کر بھیجا ایک سال گزر گیا لیکن میری کوئی خبرنہ آئی توامیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے کاتِب سے فرمایا :  ’’ عُمَیْر کی طرف خط لکھوکہ جیسے ہی یہ خط تمہیں   ملے فوراً میرے پاس چلے آؤ اوروہ سارا مال بھی لے آؤجوتم نے مسلمانوں   کے مالِ غنیمت سے جمع کر رکھا ہے ۔  ‘‘ خط پڑھتے ہی میں   نے تھیلے میں   اپنا زادِ راہ ،   پیالہ اور چمڑے کا ایک برتن رکھا،   لاٹھی لی اورحِمص سے پیدل سفرطے کرکے مدینۂ منورہ زَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاآپہنچا  ۔

            راوی بیان کرتے ہیں   کہ جب آپ تشریف لائے تو آپ کا رنگ بدلا ہوا،   چہرہ غبار آلو د اور بال لمبے ہو چکے تھے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں   حاضر ہوکرسلام عرض کیا ۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کاحال دریافت فرمایا توانہوں   نے عرض کی :  ’’ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں   کہ میں   صحت مند اورپاک خون والا ہوں   میرے ساتھ میر ی یہ دنیاہے جسے یہاں   تک کھینچ لایا ہوں   ۔  ‘‘ امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے پوچھا :  ’’ آپ کے ساتھ کیا ہے ؟  ‘‘  اور یہ گمان کیا کہ یہ اپنے ساتھ مال لائے ہوں   گے ۔  حضرت سیِّدُنا عُمَیْر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی :   ’’ میرے پاس میرا ایک تھیلا ہے اس میں   میرا زادِراہ ایک پیالہ ہے جس میں  ،  میں   کھاتا ہوں   اور اسی کے ذریعے اپنا سراور کپڑے دھوتا ہوں   اور ایک چمڑے کا برتن ہے جس میں   وضوکرنے اور پینے کا پانی رکھتا ہوں  اس کے علاوہ ایک لاٹھی ہے جس پر سہار ا لیتا ہوں   اور اگرکوئی دشمن سامنے آ جائے تو اسی سے مقابلہ کرتا ہوں   ۔ اللہعَزَّوَجَلَّ کی قسم !  میری یہ متاع ہی میری دنیا ہے ۔  ‘‘ امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے استفسار فرمایا :   ’’ آپ وہاں   سے پیدل سفرکرکے آئے ہیں   ؟  ‘‘  عرض کی :  ’’ جی ہاں   ۔  ‘‘ فرمایا :  ’’  کیا وہاں  ایسا کوئی نہیں   تھا جوآپ کو سواری کے لئے جانور دیتا ؟   ‘‘ عرض کی :  ’’ نہ انہوں   نے ایساکیااور نہ میں   نے ان سے اس کامطالبہ کیا ۔  ‘‘ امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ وہ مسلمان کتنے بُرے ہیں   جن کے پاس سے تم آئے ہو ۔  ‘‘ انہوں   نے عرض کی :   ’’ یاامیرالمؤمنینرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  ! اللہعَزَّوَجَلَّ سے ڈرئیے اس نے غیبت کرنے سے منع فرمایا ہے اورمیں   نے وہاں   کے مسلمانوں   کو صبح کی نمازاداکرتے دیکھاہے ۔  ‘‘

            امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  میں   نے تمہیں   کہاں   بھیجا تھا ؟ اور تم نے کیا کیا ہے ؟  ‘‘  انہوں   نے عرض کی :  ’’ آپ کیاپوچھناچاہتے ہیں   ؟  ‘‘  فرمایا :   ’’ سبحان اللہ !  ( یہ بطورتعجب کے کہاجاتا ہے )  ۔  ‘‘  انہوں   نے عرض کی :   ’’ اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتاکہ میرے نہ بتانے سے آپ کوغم ہوگا تو میں   نہ بتاتا ۔  آپ نے جس شہرمیں   مجھے بھیجامیں   نے وہاں   پہنچ کر وہاں   کے نیک لوگوں   کو اکٹھا کیا اور اُنہیں   مسلمانوں   سے مالِ غنیمت جمع کرنے کی ذمہ داری سونپی جب وہ مال جمع کر لیاگیاتومیں   نے سارے کاساراصحیح مصرف پرخرچ کردیااگراس میں   امیرالمؤمنین کا کوئی حصہ بنتاتومیں   ضرورآپ کے پاس لاتا ۔  ‘‘  امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے استفسارفرمایا :  ’’ کیاتم ہمارے پاس کچھ نہیں   لائے ؟  ‘‘  عرض کی :  ’’  ہاں   ! میں   کچھ نہیں   لایا ۔  ‘‘ امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ عُمَیْربن سعد کے لئے گورنری کا نیاعہد نامہ لکھ دو ۔  ‘‘ انہوں   عرض کی :  ’’ مجھے یہ عہدہ نہ توآپ



[1]    صفۃ الصفوۃ ،  الرقم۸۳سعیدبن عامربن حِذْیَم ، ج۱ ، ص۳۳۵۔

                المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۵۵۰۸ / ۵۵۱۰ / ۵۵۱۱ ، ج۶ ، ص۵۸



Total Pages: 273

Go To