Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

بات حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو پہنچی تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اُٹھے اور خطاب کرتے ہوئے فرمایا :  ’’  مجھے تمہاری باتیں   پہنچی ہیں   حالانکہ یہ تو تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ  کی رحمت اور تمہارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دُعا اور تم سے پہلے نیک لوگوں   کی وفات کا سبب ہے ۔  لیکن وہ اسبیماری  کے بجائے اس بات سے زیادہ ڈرتے تھے کہ تم میں   سے کوئی شخص اپنے گھرمیں   اس حال میں   صبح کرے کہ اسے اتنی بھی خبرنہ ہوکہ وہ مومن ہے یا منافق اور وہ بچوں   کی حکمرانی سے خوفزدہ تھے ۔  ‘‘   ( [1] )

اَولاد کے لئے طاعون کی دُعا :  

 ( 812 ) … حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن غَنمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا معاذ بن جَبَل،   حضرت سیِّدُناابو عبیدہ بن جَرَّاح،  حضرت سیِّدُنا شُرَحْبِیْل بن حَسَنَہ اور حضرت سیِّدُناابو مالک اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمچاروں   بزرگوں   پر ایک ہی دن طاعون کا حملہ ہواتو حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ یہ تمہارے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت اور تمہارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دعا ہے ۔  نیز تم سے قبل نیک لوگ اسی بیماری کے سبب فوت ہوئے ۔ اےاللہ عَزَّوَجَلَّ !  معاذکی اولادکو اس رحمت سے وافر حصہ عطا فرما ( [2] ) ۔  ‘‘  چنانچہ،   ابھی شام بھی نہ ہوئی تھی کہ آپ کے بیٹے حضرت سیِّدُناعبدالرحمن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کہ جن کے نام سے آپ نے اپنی کنیت رکھی اوران سے آپ کوبہت محبت تھی طاعون کے مرض میں   مبتلا ہوگئے ۔  جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مسجدسے لوٹے تو اپنے بیٹے کو سخت تکلیف میں   مبتلاپاکردریافت فرمایا :   ’’ اے عبدالرحمن !  کیا حال ہے ؟  ‘‘ بیٹے نے جواب میں   یہ آیت کریمہ تلاوت کی :   اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ(۶۰)  ( پ۳،   ال عمران :  ۶۰ )

 ترجمۂ کنزالایمان: اے سننے والے ! یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تو شک والوں   میں   نہ ہونا ۔

            حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ اِنْ شَاءَ اللہعَزَّوَجَلَّ ! تم مجھے صبر کرنے والاہی پاؤ گے ۔  ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ رات بھر ٹھہرے رہے اور صبح کے وقت بیٹے کو دفن کیا ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پر طاعون کاحملہ ہوااورنزع کی تکالیف شدت اختیارکرگئیں  توجب کچھ افاقہ ہوتاتوعرض کرتے :    ’’ اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ ! مجھے جتنی بھی تکلیف آلے لیکن تیری عزت کی قسم !  بے شک تو جانتا ہے کہ میرادل تیری محبت سے لبریز ہے ۔  ‘‘    ( [3] )

 سفریمن کے وقت نصیحتیں :

 ( 813 ) … حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورنبی ٔ اکرم ،  نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا :  ’’ اے مُعَاذ !  جاؤ اپنی سواری تیار کرو پھر میرے پاس آجانا میں   تمہیں   یمن بھیجنا چاہتا ہوں   ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  میں   نے سواری تیار کی اور مسجد کے دروازے پر آکر کھڑا ہوگیا یہاں   تک کہ حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے اجازت عطا فرمائی اورمیرا ہاتھ پکڑ کر میرے ساتھ چلتے ہوئے ارشادفرمایا :   ’’ اے مُعَاذ ! میں   تمہیں  اللہعَزَّوَجَلَّسے ڈرنے،   سچی بات کہنے،   وعدہ پورا کرنے،   امانت ادا کرنے،   خیانت سے بچنے،  یتیم پر رحم کرنے،   پڑوسی کا خیال رکھنے،  غصہ پرقابوپانے،  دوسروں   کے لئے نرمی اختیار کرنے،   سلام عام کرنے ،   گفتگومیں   نرمی اپنانے،  ایمان پرثابت قدم رہنے ،   قرآن میں   غور و فکر کرنے،   آخرت سے محبت کرنے،   حساب و کتاب سے ڈرنے،   لمبی امیدوں   سے بچنے اور اچھے اعمال کرنے کی وصیت کرتا اور مسلمان کو گالی دینے ،   سچے کو جھوٹا یا جھوٹے کو سچا ثابت کرنے اور عادِل حکمران کی نافرمانی کرنے سے منع کرتا ہوں   ۔  اے مُعَاذ !  ہر شجر و حجر کے پاساللہعَزَّوَجَلَّ  کا ذکر کرتے رہنااورجب کوئی گناہ سرزد ہو جائے توتوبہ کرناپوشیدہ گناہ کی پوشیدہ اور عَلا نِیہ کی عَلانِیہ  ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 814 ) … امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ جب رسولِ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو یمن بھیجنے کاارادہ فرمایاتواس وقت حضرت مُعَاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سواری پرتھے اورپیارے مصطفیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کے ساتھ پیدل چلتے ہوئے انہیں   نصیحت فرما رہے تھے کہ ’’   اے مُعَاذ !  میں   تمہیں   اس طرح نصیحت کرتاہوں   جس طرح ایک حقیقی بھائی نصیحت کرتاہے ۔  میں   تمہیں  اللہعَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں   ۔  ‘‘  اس کے بعد مذکورہ بالاحدیث کی طرح بیان کیا ۔ البتہ اس میں   اتنازائدکہ ’’ مریض کی عیادت کرنا ۔ بیواؤں   اورکمزوروں   کی ضروریات کو جلدپورا کرنا ۔  غریبوں   اور مسکینوں   کے ساتھ اٹھنابیٹھنا ۔  لوگوں   کو اپنی طرف سے انصاف فراہم کرنا ۔  ہمیشہ حق بات کہنا اوراللہعَزَّوَجَلَّ کے معاملہ میں   کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرنا ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 815 ) … حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  حضور نبی ٔ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک دن میرا ہاتھ پکڑکرارشاد فرمایا :   ’’  اے مُعَاذ ! اللہعَزَّوَجَلَّ کی قسم  !  میں   تم سے محبت کرتا ہوں   ۔  ‘‘  میں   نے عرض کی :  ’’  یارسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  میرے ماں   باپ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر قربان  ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !  میں   بھی آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہوں   ۔  ‘‘ پھر حضور نبی ٔ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’  اے مُعَاذ !  میں   تمہیں   نصیحت کرتا ہوں   کہ ہر نماز کے بعد یہ دُعا پڑھنا مت بھولنا :   اللہمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکیعنی اےاللہعَزَّوَجَلَّ  ! اپنے ذکر ،   شکر اور حُسنِ عبادت پر میری مدد فرما ۔  ‘‘

 



[1]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  أخبارمُعَاذبن ،  جَبَل ،   الحدیث : ۱۰۲۱ ، ص۲۰۲۔

[2]    آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کااپنی اولاد کے لئے طاعون کی دعاکرنادرحقیقت ان کے لئے شہادت ورحمت کی دعا کرنا ہے کیونکہ سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے شہادت فرمایا ہے۔ جیساکہمشکوۃ المصابیح میں   بخاری ومسلم کے حوالے سے فرمانِ مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنقل ہے :  طاعون ہرمسلمان کی شہادت ہے۔ایک اورروایت کاخلاصہ ہے کہاللہعَزَّوَجَلَّ نے اسے مسلمانوں   کے لئے رحمت بنایاہے۔        ( مرآۃ المناجیح ، ج۲ ، ص۴۱۳ )

[3]    البحرالزخارالمعروف بمسندالبزار ،  مسندمُعَاذبن جَبَل ،  الحدیث : ۲۶۷۱ ، ج۷ ، ص۱۱۴۔

[4]    الزھدالکبیرللبیہقی ،  باب الورع والتقویٰ ،  الحدیث : ۹۵۶ ، ص۳۴۷ ، مختصرًا۔

[5]    کتاب الثقات لابن حبان ،  السیرۃ النبویۃ ،  السنۃ التاسعۃ من الہجرۃ ، ج۱ ، ص۱۴۷ ، بدون الأخ الشقیق۔



Total Pages: 273

Go To