Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

گے ۔  ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں   اس بات سے کہ یہ خط آپ کوہماری طرف سے وہ بات پہنچائے جو ہمارے دلوں   میں   نہیں   ۔  ہم نے محض آپ کی خیر خواہی کے لئے یہ خط لکھا ہے  ۔ وَالسَّلَام عَلَیْک ۔

            امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس خط کا جواب یوں   دیا :  یہ تحریرعمر بن خطاب کی طرف سے حضرت ابوعبیدہ بن جَرَّاح اورحضرت مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی طرف ہے ۔

            اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمَا :    حمد و ثناء کے بعد !  مجھے آپ کا خط ملا،   جس میں   آپ نے ذکر کیا ہے کہ ’’   میرا معاملہ سخت تر ہے اور مجھے اس امت کے سرخ وسیاہ کی ولایت سونپی گئی ہے ۔  میرے سامنے شریف و ذلیل،   دشمن و دوست آئیں   گے ۔  بے شک ہر شخص کا عدل میں   حصہ ہے ۔  ‘‘  آپ نے لکھا ہے کہ ’’   اے عمر ! اس وقت تمہاری کیا حالت ہوگی ۔  ‘‘ بے شک عمر کو اطاعت کی توفیق اورمعصیت سے بچنے کی قوت دینے والا صرفاللہ عَزَّوَجَلَّہے اور آپ نے لکھاہے کہ ’’   آپ مجھے اس معاملہ سے ڈراتے ہیں   جس سے سابقہ اُمتیں   ڈرائی جاتی رہیں   ۔  ‘‘ پہلے ہی رات اوردن کے بدلنے نے لوگوں   کی اموات کے ساتھ ہردُور کو قریب،  ہر نئے کو پرانااورہر آنے والے کو حاضرکر دیا ہے یہاں   تک کہ لوگ اپنے ٹھکانے جنت یا دوزخ کی طرف چلے گئے ۔ آپ نے اس بات کابھی اظہارکیاہے کہ ’’ آخری زمانے میں   اس امت کا یہ حال ہوگا کہ لوگ بظاہربھائی بھائی جبکہ دلی طورپرایک دوسرے کے دشمن ہوں   گے  ۔  ‘‘ لیکن آپ تو ایسے نہیں   اور نہ ہی یہ وہ زمانہ ہے کیوں   کہ اِس زمانہ میں  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف رغبت اور اس کا خوف ظاہر ہے،  لوگ اصلاحِ دنیا کے لئے ایک دوسرے کی طرف رغبت کرتے ہیں  اور آخر میں   تحریرکیاکہ ’’   آپاللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں  اس بات سے کہ میں   یہ خط پڑھ کروہ مفہوم لوں   جو آپ کے دلوں   میں   نہیں   ہے جبکہ آپ نے توخیرخواہی کے لئے لکھا ہے ۔  ‘‘  تم دونوں   نے سچ کہاہے مجھے آئندہ بھی تمہارے خط کاانتظار رہے گا،   میں   آپ حضرات ( کی خیرخواہی ) سے بے نیاز نہیں   ہوں    ۔  ‘‘    ( [1] )      وَالسَّلَامُ عَلَیْکُمَا ۔                          

علم کے فضائل وبرکات :  

 ( 809 ) … حضرت سیِّدُنارَجَاء بن حَیْوَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنامُعَاذبن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ علم حاصل کرو کہاللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے علم حاصل کرنا خشیّت ،  اسے تلاش کرناعبادت،   اس کی تکرارکرنا تسبیح اور اس کی جستجوکرناجہاد ہے ۔ جاہلوں   کوعلم سکھاناصدقہ اور اسے اس کے اہل تک پہنچانانیکی ہے کیونکہ یہ حلال و حرام کاشعوردیتا،  اہل جنت کوروشن دلیل اور گھبراہٹ میں   انسیت دیتاہے ۔ سفرمیں   ہم نشین اورتنہائی کا ساتھی ہے ۔  تنگدستی و خوشحالی میں   رہنمائی کرتااور دشمنوں   کے مقابلے میں   ہتھیارہے ۔  عظیم لوگوں   کے ہاں  علم کی حیثیت زینت کی سی ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ علم ہی کی بدولت قوموں   کو رفعت وبلندی عطا فرماتا اور انہیں   بھلائی میں   لوگوں   کا مقتدا وپیشوا بنا دیتاہے ۔  اہلِ علم کے نقش وقدم پر چلاجاتا،  ان کے افعال کی پیروی کی جاتی اوران کی رائے کو حرفِ آخر سمجھاجاتا ہے ۔  فرشتے ان کی دوستی میں   رغبت رکھتے اورا نہیں   اپنے پروں   سے ڈھانپ لیتے ہیں   ۔  ہرخشک و تر یہاں   تک کہ سمندر میں   مچھلیاں   اورپانی کے دیگرجانور،  درندے اور چوپائے سب ان کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں   ۔  علم جہالت کی تاریکی سے نجات دیتا،  دلوں   کو جلا بخشتا اورجہالت کے اندھیروں  میں   آنکھوں   کو روشنی عطاکرتاہے ۔  اس کے ذریعے انسان نیک لوگوں   کی منازل تک رسائی پاتااور دنیا و آخرت میں   بلندمقام تک جا پہنچتا ہے ۔ علم میں   غورو فکر کرنے کااجر روزہ رکھنے کے برابر اور اسے پڑھناپڑھانانوافل کے برابر ہے ۔  علم ہی صلۂ رحمی کاپیغام دیتا اورحلال وحرام کی پہچان کراتاہے ۔  علم تمام عمل کرنے والوں   کاسردار اور عمل اس کاپیروکار ہے  ۔ یہ ایسی نعمت ہے جوخوش نصیبوں   کو عطاکی جاتی اوربد بختوں   کو اس سے محروم رکھاجاتاہے ۔  ‘‘    ( [2] )

مرحبااے موت  ! مرحبا :  

 ( 810 ) … حضرت سیِّدُناعَمرو بن قَیس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا وقتِ وصال قریب آیا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  دیکھو ! کیاصبح ہوچکی ہے ؟  ‘‘ عرض کی گئی :  ’’ ابھی صبح نہیں   ہوئی ۔  ‘‘ کچھ دیربعدپھر فرمایا :  ’’  دیکھو !  کیا صبح ہو چکی ہے ؟  ‘‘ عرض کی گئی :   ’’ ابھی صبح نہیں   ہوئی ۔  ‘‘ پھرکچھ دیر بعد کسی نے آکرخبردی کہ ’’   صبح ہو چکی ہے ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  میں   ایسی رات سےاللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتا ہوں   جس کی صبح آگ کی طرف لے جانے والی ہو ۔ مرحبااے موت ! مرحبا !  موت ایک ایسا ملاقاتی ہے جوآخرمیں   آیاہے ۔  ایسا دوست ہے جو فاقہ کی حالت میں   آیا ہے ۔ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میں   دنیا میں   تجھ سے ڈرتا تھا اور آج تجھ سے امیدیں   وابستہ کئے ہوئے ہوں   ۔ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ  !  تو جانتا ہے کہ میں   نے دنیا کی محبت کو دل میں   بسایا نہ لمبی عمر کا ارمان رکھا کہ اس دنیا میں   نہریں   جاری کروں   اور باغات لگاؤں   لیکن سخت گرم دنوں   کی پیاس ،   سختی والی ساعتیں  ،   سفر میں   عُلما سے ملاقات اور ذکراللہعَزَّوَجَلَّ کے حلقوں   کی طلب دل میں   آج بھی باقی ہے ۔  ‘‘    ( [3] )

طاعون اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ہے :  

 ( 811 ) … حضرت سیِّدُناطارق بن عبدالرحمنعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے مروی ہے کہ ملک شام میں   طاعون  ( [4] )کی وبا پھیلی تو لوگوں   نے کہنا شروع کردیاکہ یہ بغیر پانی کے طوفان ہے ۔  یہ



[1]    المصنف لابن  ابی شیبۃ ،  کتاب الزھد ،  کلام عمربن الخطاب ،  الحدیث : ۱۰ ، ج۸ ، ص۱۴۸۔

                المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۴۵ ، ج۲۰ ، ص۳۲۔

[2]    مختصرجامع بیان العلم وفضلہ لابن عبد البر ،  باب جامع فی فضل العلم ،   الحدیث : ۵۴ ، ص۵۳۔

[3]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  أخبارمُعَاذبن ،  جَبَل ،   الحدیث : ۱۰۱۱ ، ص۲۰۰ ، بتغیرٍ۔

[4]    مفتی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں   : ’’طاعون طعن سے بناہے بمعنی نیزہ مارنا ، چونکہ اس بیماری میں  مریض کوپھوڑے یا زخم سے ایسامحسوس ہوتاہے جیسے اسے کوئی نیزے مار رہا ہے ،  سوئیاں   چبھورہاہے اس لئے اسے طاعون کہاجاتاہے یہ مشہوروبائی بیماری ہے ۔ ( مرآۃ المناجیح ، ج۲ ، ص۴۱۳ )  



Total Pages: 273

Go To