Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

جنت میں   جاناہوگا یاپھرجہنم ٹھکانہ ہو گا اور وہاں   ہمیشہ ٹھہرنا ہے اس سے آگے کوچ نہ ہوگا اورہم ہمیشہ ان جسموں   میں   رہیں   گے جنہیں   کبھی موت نہیں   آئے گی ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 802 ) … حضرت سیِّدُنایزید بن یزید بن جابر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَادِرسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  تم جتنا چاہو علم حاصل کرو لیکن اس پرعمل بھی کروکیونکہاللہ عَزَّوَجَلَّ  تمہیں   ہرگزعلم پر اجر عطا نہ فرمائے گاجب تک اس پر عمل نہ کروگے ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 803 ) … حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔ مُکَرَّم،  نُورِمُجَسَّم،  شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا :   ’’ اگر تم علم حاصل کرنا چاہتے ہو تو جتنا چاہو حاصل کرولیکن اس پر عمل بھی کرو کیونکہ جب تک تم علم پر عمل نہ کروگےاللہ عَزَّوَجَلَّ ہرگزتمہیں   اس سے نفع عطانہ فرمائے گا  ۔  ‘‘    ( [3] )

عورتوں   کافتنہ :  

 ( 804 ) … حضرت سیِّدُنارَجَاء بن حَیْوَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  تمہیں   خستہ حالی کے فتنے میں   مبتلا کیاگیاتوتم نے اس پرصبر کیا اور عنقریب تم خوشحالی کے فتنے میں   مبتلا کئے جاؤ گے اورمجھے تم پرسب سے زیادہ عورتوں   کے فتنے کا خوف ہے،   جب وہ سونے اور چاندی کے کنگن پہنیں   گی اور شام کے نرم و نازک کپڑے اور یمن کی چادریں   زیب تن کریں   گی تو مالداروں   کو تھکا دیں   گی اور غریبوں  کو اس چیز کا مکلف بنائیں   گی جس کی وہ طاقت نہیں   رکھتے ۔  ‘‘    ( [4] )

 نفرت کے اَسباب :  

 ( 806 ) … حضرت سیِّدُنامحمد بن نضر حارثی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہحضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مرفوعاًروایت کرتے ہیں   کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ 3باتیں   ایسی ہیں   کہ جوان کاعادی ہوتاہے اسے لوگوں  کی نفرت وناپسندیدگی کاسامناکرناپڑتاہے :   ( ۱ ) بغیر کسی عجیب بات کے ہنستے رہنا ( ۲ ) بلاضرورت سوئے رہنااور ( ۳ ) بغیر بھوک کے کھاناکھانا ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 807 ) … حضرت سیِّدُنامالک دَارَانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک تھیلی میں  400 دینار ڈال کر غلام کودیئے اور فرمایا :  ’’  انہیں   حضرت ابو عبیدہ بن جَرَّاح رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس لے جاؤ پھرکچھ دیروہاں   ٹھہرنااور دیکھناکہ وہ انہیں   کہاں   صرف کرتے ہیں   ۔  ‘‘  چنانچہ،   غلام وہ تھیلی لے کر امین الامّت حضرت سیِّدُناابو عبیدہ بن جَرَّاح رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس حاضر ہوا اورعرض کی :  ’’ امیر المومنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایاہے کہ یہ دینار اپنی کسی ضرورت میں   استعمال کر لیں   ۔  ‘‘ انہوں   نے فرمایا :  ’’ اللہعَزَّوَجَلَّ امیرالمؤمنین پر رحم فرمائے ۔  ‘‘ پھر اپنی لونڈی کو بلاکرفرمایا :  ’’  یہ 7دینار فلاں   کو،   یہ 5 فلاں   کواور یہ5 فلاں   کودے آؤ  ۔  ‘‘  یہاں   تک کہ سب کے سب صدقہ کردیئے ۔  غلام نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضر ہوکرساری صورت حال بیان کردی  ۔

            پھرامیرالمؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اتنے ہی دینار ایک اورتھیلی میں   ڈال کر غلام کے حوالے کئے اور فرمایا :   ’’ یہ حضرت مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس لے جاؤاور کچھ دیر وہاں   ٹھہرنا اور دیکھناکہ وہ انہیں   کہاں   صرف کرتے ہیں   ؟   ‘‘  غلام نے تھیلی لی اور حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضر ہوکر عرض کی :   ’’ امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   اس رقم سے اپنی کوئی حاجت پوری کر لیں   ۔  ‘‘ انہوں   نے فرمایا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ امیر المومنینرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پر رحم فرمائے ۔  ‘‘ پھر اپنی لونڈی کو بلا کر فرمایا :  ’’  اتنے درہم فلاں   کے گھر اور اتنے فلاں   کے گھر پہنچادو ۔  ‘‘ اسی اَثنا میں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ کواس بات کاعلم ہواتوعرض گزارہوئیں :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !  ہم بھی مسکین ہیں  ،   ہمیں   بھی عطا فرمائیں   ۔  ‘‘ اس وقت تھیلی میں   صرف 2 دینار باقی بچے تھے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے وہ تھیلی دیناروں   سمیت اپنی اہلیہ کی طرف اُچھال دی ۔ غلام امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں   حاضر ہوا اور سارا واقعہ سنایا ۔ یہ سن کرآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بہت خوش ہوئے اور فرمایا :  ’’ بے شک تمام صحابہ آپس میں   بھائی بھائی ہیں   ۔  ‘‘    ( [6] )

امیرالمؤمنین کونصیحت :  

 ( 808 ) … حضرت سیِّدُنا محمد بن سُوقَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  میں   حضرتِ سیِّدُنا نُعَیْم بن اَبِی ہِنْد رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آیا تو انہوں   نے مجھے ایک کا غذنکال کر دکھایا جس پرلکھاتھاکہ یہ خط ابو عبیدہ بن جَرَّاح و مُعَاذ بن جَبَل کی طرف سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف ہے ۔

            اَلسَّلَامُ عَلَیْک  !  حمد و ثناء کے بعد !  ہم دونوں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں  عرض کرتے ہیں   کہ ’’ جو معاملہ ( یعنی خلافت ) آپ کے سپردکیاگیاہے وہ اہم ترین ہے ۔  آپ کواس امت کے سرخ و سیاہ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔  آپ کے پاس معززوحقیر،   دشمن و دوست فیصلے کروانے آئیں   گے اور عدل وانصاف ہرایک کاحق ہے ۔  اے امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  غورکرلیں   کہ اس وقت آپ کی کیاکیفیت ہو گی ۔ ہم آپ کو اس دن سے ڈراتے ہیں   جس دن لوگوں   کے چہرے جھک جائیں   گے ۔  دل کانپ اُٹھیں   گے اور تمام حجتیں   ختم ہو جائیں   گی ۔  صرف ایک بادشاہِ حقیقی اللہ رَبُّ الْعَالَمِیْنعَزَّوَجَلَّکی حجت اپنی طاقت وقدرت کے ساتھ غالب ہوگی اور مخلوق اس کے سامنے حقیر ہوگی ۔  اس کی رحمت کی امید اور عذاب کا خوف کرتی ہوگی اور ہم آپس میں   گفتگو کرتے ہیں   کہ آخری زمانہ میں   اس امت کا حال ایسا ہوجائے گا کہ لوگ ظاہری طور پر توایک دوسرے کے بھائی بنیں   گے جبکہ دِلی طورپر دشمن ہوں   



[1]    المستدرک ،  کتاب الإیمان ،  باب یذبح الموت علی الصراط ،  الحدیث : ۲۸۹ ، ج۱ ، ص۲۶۷۔

[2]    الزھدلابن المبارک ،  باب من طلب العلم لعرض فی الدنیا ،  الحدیث : ۶۲ ، ص۲۱۔

[3]    الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی ،  الرقم۲۶۴بکربن خُنَیْس کوفی ، ج۲ ، ص۱۸۹ ، بدون  إن شئتم۔

[4]    الزھدلابن المبارک ،  باب ماجاء فی ذنب التنعم فی الدنیا ،  الحدیث : ۷۸۵ ، ص۲۷۱۔

[5]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  أخبارمُعَاذبن جَبَل ،  الحدیث : ۱۰۲۲ ، ص۲۰۲۔

[6]