Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

نجات دِلانے و الی کوئی چیز نہیں   ۔  ‘‘  لوگوں   نے عرض کی :   ’’ کیا راہِ خدا  میں   تلوار چلانا بھی نہیں    ؟  ‘‘ یہ بات لوگوں   نے تین بارکہی تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ ہاں   یہ بھی نہیں   !  مگر یہ کہ راہ ِخدامیں   لڑتے لڑتے اس کی تلوار ٹوٹ جائے ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 795 ) … حضرت سیِّدُناابوبَحْرِیَّہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے بڑھ کربندے کوعذابِ الٰہی سے نجات دلانے والا کوئی عمل نہیں   ۔  ‘‘  لوگوں   نے عرض کی :   ’’ اے ابو عبدالرحمن !  ( یہ حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی کنیت ہے )  کیاراہِ خدا میں   جہاد کرنا بھی نہیں   ؟   ‘‘ فرمایا :   ’’ نہیں   ،   مگر یہ کہ لڑتے لڑتے تلوار ٹوٹ جائے کیونکہاللہ عَزَّوَجَلَّنے قرآن پاک میں   ارشاد فرمایاہے :  

وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُؕ ( پ۲۱،   العنکبوت :  ۴۵ )

 ترجمۂ کنزالایمان : اور بے شک اللہکا ذکر سب سے بڑا ۔  ‘‘  ( [2] )

 ( 796 ) … حضرت سیِّدُناسعید بن مُسَیَّب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  میں   صبح سے رات تکاللہ عَزَّوَجَلَّکے ذکر میں   مشغول رہوں   یہ عمل مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں   عمدہ گھوڑے پر سوار ہو کر صبح سے رات تک راہِ خدا میں   جہاد کروں   ۔  ‘‘    ( [3] )

ترکِ سنت گمراہی کا سبب:

 ( 797 ) … حضرت سیِّدُناابو بَحْرِیَّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  میں  حِمْص کی مسجد میں   داخل ہوا تو حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکوفرماتے ہوئے سناکہ ’’ جسے یہ پسندہوکہاللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں   حاضر ہوتے وقت اسے کوئی خوف نہ ہوتواسے چاہئے کہ جب اذان دی جائے تونمازکے لئے مسجدمیں   حاضر ہو جائے کیونکہ باجماعت نماز ادا کرنا سُنَنِ ہُدیٰ میں   سے ہے اور یہ ان سنتوں   میں   سے ہے جنہیں  حضورنبی ٔمُکَرَّم،  نُورِمُجَسَّم،   شاہ بنی آدمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تمہارے لئے جاری فرمایا اور کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرے گھر میں   جائے نماز ہے میں   گھر میں   ہی نماز پڑھ لوں   گا  ۔ کیونکہ اگر تم ایسا کرو گے تو اپنے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت کے تارک کہلاؤ گے اور اگر تم نے اپنے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت کو ترک کر دیا توگمراہ ہو جاؤ گے ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 798 ) … حضرت سیِّدُنااَ سوَد بن ہِلال رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ہم حضرت سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے ہمراہ چل رہے تھے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے سے ہم فرمایا :  ’’  بیٹھو تھوڑی دیر ایمان کی باتیں   کر لیں    ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 799 ) … حضرت سیِّدُناابواِدْرِیس خَوْلاَنِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’  تم ایسے لوگوں   کے پاس بیٹھتے ہو جولازمی طور پر باتوں   میں   لگ جاتے ہیں   ۔  لہٰذا جب انہیں   غفلت میں   دیکھو تو فور ًا اپنے رب  عَزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ ہو جاؤ ۔  ‘‘

            حضرت سیِّدُناوَلِیْدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَجِیْد فرماتے ہیں : جب یہ حدیث حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن یزید بن جابر رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس ذکر کی گئی تو انہوں   نے کہا :  جی ہاں   !  مجھے ابو طلحہ حَکِیم بن دِینار نے بیان کیا کہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن فرمایاکرتے تھے کہ ’’ مقبول دُعا کی نشانی یہ ہے کہ جب تم لوگوں   کو غفلت میں   دیکھو تو فوراً اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ ہو جاؤ ۔  ‘‘  ( [6] )

 ( 800 ) … حضرت سیِّدُناطاؤس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہمارے علاقے میں   تشریف لائے تو ہمارے کچھ بزرگوں   نے ان سے درخواست کی کہ ’’   اگر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اجازت دیں   تو ہم پتھروں   اور لکڑیوں   کا بندوبست کردیں   تاکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے لئے مسجد بنا دی جائے ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ مجھے خوف ہے کہ بروزِ قیامت انہیں   پیٹھ پر اُٹھانے کا مکلف نہ بنا دیا جاؤں   ۔  ‘‘    ( [7] )

فکر ِآخرت پر مبنی بیان:

 ( 801 ) … حضرت سیِّدُناعَمْروبن مَیْمُون اَوْدِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ہمارے درمیان کھڑے ہوکر فرمایا :  ’’  اے قبیلۂ ’’  اَوْد ‘‘  والو !  میں  رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا قاصد ہوں   ۔  تمہیں   اس بات کایقینی علم ہونا چاہئے کہ ایک دن ہمیں   اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں   حاضرہونا ہے،  اس کے بعد



[1]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  أخبارمُعَاذبن جَبَل ،  الحدیث : ۱۰۰۸ ، ص۱۹۹۔

[2]    الزھدللامام احمدحنبل ،  أخبارمُعَاذبن جَبَل ،  الحدیث : ۱۰۲۵ ، ص۲۰۲۔

[3]    شعب الایمان للبیہقی ،  باب فی محبۃ اﷲ / فصل فی ذکرأخباروردت فی ذکراﷲ ،  الحدیث : ۶۷۵ ، ج۱ ، ص۴۴۹۔

[4]    صحیح مسلم ،  کتاب المساجدومواضع الصلاۃ ،  باب صلاۃ الجماعۃ من سنن الھدی ،  الحدیث : ۱۴۸۸ ،

                 ص۷۷۹ ،  راوی عبداﷲ بن مسعود ،  بتغیرٍ۔