Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ کیا تم میری اطاعت کرو گے ؟  ‘‘  اس نے عرض کی :  ’’  میں   آپ کی اطاعت پر حریص ہوں   ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  روزہ رکھو اور افطار بھی کرو،  رات میں   قیام کرو اورآرام بھی کرو،   کسبِ حلال کے لئے کوشش کرو اور گناہ سے بھی بچو،  حالت اسلام میں   ہی مرو اور مظلوم کی بد دعا سے بچو ۔  ‘‘   ( [1] )

آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی مناجات :  

 ( 788 ) … حضرت سیِّدُناثَوْربن یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَجِیْدسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جب تہجد کی نماز سے فراغت پاتے توبارگاہِ خداوندی میں   یوں   مُناجات کرتے :  ’’  اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !  آنکھیں   سو رہی ہیں   اور ستارے چھپ گئے ہیں   جبکہ تو زندہ اور دوسروں   کو زندہ رکھنے والا ہے ۔  اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !  جنت کے معاملے میں   میری طلب سست ہے اور جہنم کی آگ سے میرا بھاگنا ضعیف ہے ۔  اےاللہ عَزَّوَجَلَّ !  مجھے اپنے پاس سے ایسی ہدایت عطا فرما جو آخرت میں   بھی میرے کام آئے ۔  بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف نہیں   کرتا ۔  ‘‘    ( [2] )

بیٹے کونصیحت :  

 ( 789 ) … حضرت سیِّدُنامُعَاوِیَہ بن قُرَّہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا :  ’’  اے میرے بیٹے !  جب تم نماز پڑھو تورخصت ہونے والے کی طرح نماز پڑھو ( یعنی اسے اپنی زندگی کی آخری نمازخیال کرو ) اور اس گمان میں   نہ رہنا کہ تمہیں   دوسری نماز کا موقع ملے گا ۔ اے میرے بیٹے !  مومن دو نیکیوں   کے درمیان وفات پاتاہے ایک وہ نیکی جسے وہ آگے بھیج چکا اور دوسری وہ جو اپنے پیچھے چھوڑی  ( یعنی صدقہ جاریہ )  ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 790 ) … حضرت سیِّدُنامحمد بن سِیرِینعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمُبِیْنسے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضرہوا اس کے ساتھ اس کے دوست بھی تھے جو اسے سلامِ رخصت کر کے جارہے تھے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’  میں   تمہیں   دو باتوں   کی نصیحت کرتا ہوں   ۔  اگر تم ان کی حفاظت کرو گے تومحفوظ رہو گے :   ( ۱ )  تمہیں   دنیا سے جو حصہ ملنا ہے اس کی فکرمت کرنا ( ۲ )  تمہیں   اپنی آخرت کے حصے کی فکرکرنے کی زیادہ حاجت ہے ۔  لہٰذا آخرت کے حصہ کو دنیا کے حصہ پر ترجیح دویہاں   تک کہ اس کا انتظام کرلواس کے بعد تم جہاں   کہیں   بھی جاؤ گے وہ تمہارے ساتھ ساتھ رہے گا ۔  ‘‘    ( [4] )

علم دِین کی محبت نے رُلادیا :  

 ( 791 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہ بن سَلَمَہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضرہوکرگریہ وزاری کرنے لگاتو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس سے رونے کاسبب دریافت فرمایا ۔  اس نے کہا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! میں   اس قرابت داری کی وجہ سے نہیں   رو رہا جو میرے اورآپ کے درمیان ہے اور نہ ہی میرے رونے کاباعث مجھے آپ کی طرف سے ملنے والی دنیاہے تاہم مجھے اس بات کا خوف رُلارہاہے کہ میں   جو آپ سے علم حاصل کرتا تھا اب اس کا سلسلہ منقطع ہوجائے گا ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ مت رو ! بے شک جو شخص علم وایمان کا اِرادہ رکھتا ہےاللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اس طرح علم عطافرماتا ہے جس طرح حضرت سیِّدُنا ابراہیمعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو عطا فرمایا تھا حالانکہ اس وقت علم حاصل کرنے اور ایمان کے نورسے اپنے قلب کوچمکانے کاکوئی ظاہری ذریعہ موجود نہیں   تھا ۔  ‘‘    ( [5] )

انصاف کی عمدہ ولاجواب مثال :  

 ( 792 ) … حضرت سیِّدُنایحییٰ بن سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَجِیْدسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی دو بیویاں   تھیں   ۔  جس دن ایک کی باری ہوتی اس دن دوسری کے گھر میں   وضو تک نہ فرماتے تھے ۔  جب ملکِ شام میں   کسی مرض میں  مبتلا ہوکردونوں   انتقال کرگئیں   توچونکہ اس وقت سب لوگ اپنے اپنے معاملات میں   مصروف تھے اس لئے دونوں   کو ایک ہی قبر میں   دفن کردیا گیا اورقبرمیں   اُتارتے وقت بھی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے قُرعہ ڈالا کہ پہلے کس کو قبر میں   رکھا جائے ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 793 ) … حضرت سیِّدُنایحییٰ بن سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَجِیْد سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی دو بیویاں   تھیں   جب باری کے مطابق کسی ایک کے پاس تشریف فرماہوتے تواس دوران دوسری کے گھر سے پانی تک نوش نہ فرماتے تھے ۔  ‘‘    ( [7] )

ذِکْرُاللہ جہادسے اَفضل ہے

 ( 794 ) … حضرت سیِّدُناابو زُبَیررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرما یا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکے ذکر سے بڑھ کر بندے کو عذابِ الٰہی سے



[1]    الزھد للامام احمد بن حنبل ،  أخبارمُعَاذ بن جَبَل ،   الحدیث : ۱۰۱۰ ، ص۲۰۰۔

[2]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۴۸ ، ج۲۰ ، ص۳۴۔

[3]    الزھدللامام احمدحنبل ،  أخبارمُعَاذبن جَبَل ،  الحدیث : ۱۰۰۷ ، ص۱۹۹۔

[4]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۴۹ ، ج۲۰ ، ص۳۵۔

[5]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۲۲۸ ، ج۲۰ ، ص۱۱۵ ،  مفہومًا۔

[6]    صفۃ الصفوۃ ،  الرقم۵۱مُعَاذبن جَبَل ،  ذکرنبذہ من ورعہ  ، ج۱ ، ص۲۵۵۔

[7]    الزھدللامام احمدبن حنبل ،  أخبارمُعَاذبن جَبَل