Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہاَصْفَہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سیِّدُنامُعَاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے قرض خواہ چونکہ یہودی تھے اس لئے انہوں   نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ کوئی رعایت نہ کی ۔  ‘‘

 ( 784 ) … حضرت سیِّدُنا ابووائِلرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ جب حضور نبی ٔ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وصالِ ظاہری فرمایاتولوگوں   نے حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو خلیفہ منتخب کر لیااس وقت حضرتِ سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم سے یمن میں   تھے ۔ پس امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو حج کے قافلے کا امیر بنا کر بھیجا ۔  چنانچہ،  مکۂ مکرمہزَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًامیں  ان کی ملاقات حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے اس حال میں   ہوئی کہ ان کے ہمراہ کچھ غلام بھی تھے ۔ انہوں   نے عرض کی :  ’’  اہلِ یمن نے یہ غلام مجھے اور یہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ہدیہ کئے ہیں   ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُناعمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ میں   آپ کو مشورہ دیتا ہوں   کہ آپ امیر المؤمنینرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس چلے جائیں   ۔  ‘‘

            راوی فرماتے ہیں   کہ دوسرے دن جب حضرت سیِّدُنامُعَاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی ملاقات امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے ہوئی تو انہوں   نے عرض کی :  ’’ اے ابن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ! میں   نے رات خواب میں   دیکھا کہ میں   آگ کی طرف جا رہا ہوں  اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمجھے اس سے روک رہے ہیں   ۔  لہٰذا اب مجھے آپ کی اِتباع کے سوا کوئی چارہ نہیں   ۔   ‘‘ چنانچہ،   حضرت سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ غلاموں   کو لے کرامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضر ہوگئے اور عرض کی :  ’’  یہ غلام اہلِ یمن نے مجھے اور یہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو بطور ہدیہ دئیے ہیں   ۔  ‘‘  امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ میں   آپ کا ہدیہ آپ کے سپرد کرتاہوں   ۔  ‘‘ پھر حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نماز کے لئے تشریف لے گئے اورغلاموں  کواپنے پیچھے نمازپڑھتے دیکھاتو استفسار فرمایا :   ’’ تم کس کے لئے نماز پڑھ رہے ہو  ؟  ‘‘  بولے :   ’’ ہماللہ عَزَّوَجَلَّکے لئے نماز پڑھ رہے ہیں   ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ جاؤ ! میں   تم سب کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے آزادکرتا ہوں   ۔  ‘‘    ( [1] )

فتنوں   کی خبر :  

 ( 785 ) … حضرت سیِّدُناامام زُہری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیحضرت سیِّدُناابواِدْرِیس خَوْلَانِی قُدِّ سَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے راویت کرتے ہیں  کہ حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   بے شک تمہارے بعد فتنے ہوں   گے،   ان میں   مال کی کثرت ہوگی،   قرآن کریم کے راستے کھل جائیں   گے یہاں   تک کہ مومن و منافق،   چھوٹا و بڑا ،   سرخ و سیاہ سب اسے حاصل کریں   گے ۔ پھر عنقریب ایک ایسازمانہ آئے گاکہ کوئی کہنے والاکہے گاکہ ’’  کیابات ہے لوگ میری پیروی نہیں   کرتے حالانکہ میں   ان کو قرآن پڑھ کر سناتا ہوں    ؟  میراخیال ہے کہ یہ لوگ اس وقت میری اِتباع کریں   گے جب میں   ان کے سامنے کوئی بدعت گھڑکرپیش کروں   گا ۔  ‘‘  ( خبردار !  ) تم اس کی گھڑی ہوئی بدعت سے ضرور بچ کررہنا کیونکہ وہ سراسر گمراہی ہے اور میں   تمہیں   عالم کی گمراہی سے ڈراتا ہوں   کہ کبھی شیطان عالم کی زبان سے گمراہی والی بات کہلوادیتا ہے اور کبھی منافق بھی حق بیان کر دیتا ہے ۔ بہرحال تم حق قبول کر لیناکیونکہ اتباعِ حق میں   نورانیّت ہے ۔  ‘‘ لوگوں   نے عرض کی :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّآپ پر رحم فرمائے !  ہمیں   کس طرح پتا چلے گاکہ عالم گمراہی والی بات کہہ رہا ہے  ؟   ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  وہ ایسی بات بیان کرے گاجس کاتم انکارکروگے اور کہوگے کہ ’’   یہ اس نے کیابات کہی ہے ؟  ‘‘  بہرحال یہ چیزتمہیں  عُلما کے بیان کردہ حق پرعمل کرنے سے نہ روکے کیونکہ ہو سکتا ہے وہ اپنی غلطی سے رجوع کر لے اورایمان وعمل کامقام ومرتبہ قیامت کے دن کھلے گا ۔ البتہ !  جو ان کوپانے کی کوشش کرتاہے وہ انہیں   پالیتا ہے ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 786 ) … حضرت سیِّدُنا یزید بن عُمَیْرَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جوحضرت سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے مصاحبوں   میں   سے تھے بیان کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جب بھی کسی مجلس میں   وعظ کرنے تشریف لاتے تو فرماتے:  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّہی حاکم اور انصاف فرمانے والا ہے ۔  اس کا نام برکت والاہے ۔  

شک کرنے والوں   کے لئے ہلاکت ہے ۔  ‘‘ چنانچہ،   ایک روز آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ بے شک تمہارے بعد فتنے ہیں   ۔ ان میں   مال کی کثرت ہوگی ۔ قرآن حکیم کے راستے کھل جائیں   گے یہاں   تک کہ مومن و منافق،  مرد وعورت،   چھوٹا بڑا،   آزاد و غلام ہرکوئی اسے حاصل کرلے گا ۔ پھر عنقریب ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کوئی کہنے والا کہے گا :   ’’ کیا بات ہے لوگ میری اتباع نہیں   کرتے حالانکہ میں   انہیں   قرآن سناتا ہوں   ؟  میراخیال ہے کہ یہ میری اِتباع اس وقت کریں   گے جب میں   قرآن چھوڑکرکوئی بدعت گھڑکران کے سامنے پیش کروں  گا ۔  ‘‘  ( خبردار !  ) تم اس کی گھڑی ہوئی بدعت سے بچ کررہناکیونکہ وہ سراسر گمراہی ہے اورمیں   تمہیں   عالِم کی گمراہی سے ڈراتا ہوں   بے شک شیطان کبھی اس کی زبان سے گمراہی والی بات کہلوا دیتا ہے اور کبھی منافق بھی حق بات کہہ دیتا ہے ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا یَزِید بن عُمَیْرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے ! مجھے کیسے معلوم ہو گاکہ عالِم گمراہی والی بات کہہ رہا ہے اور منافق حق بات بیان کررہا ہے ؟  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ کیوں   نہیں   ! تم عالِم کی ان باتوں   سے بچو جن کے بارے میں   اہل علم کہیں   کہ ’’   یہ اس نے کیا کہا ہے ؟ اورعالِم کی غلطی تمہیں   اس کے بیان کردہ حق کو قبول کرنے سے نہ روکے ۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جب وہ حق سنے تو اپنی غلطی سے رجوع کر کے حق کا اتباع کر لے،   بے شک اتباعِ حق میں   نورانیّت ہے ۔  ‘‘    ( [3] )

اِعْتِدال کادرس :  

 ( 787 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہ بن سَلَمَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی :  ’’ مجھے کوئی علم کی بات سیکھئے ۔  



[1]    المستدرک ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  باب إن مُعَاذا ( کان أمۃ قانتاًﷲ )  ، الحدیث : ۵۲۳۹ ، ج۴ ، ص۳۰۹۔

[2]    سنن ابی داود ،  کتاب السنۃ ،  باب من دعاالی السنۃ ،  الحدیث : ۴۶۱۱ ، ص۱۵۶۲ ، مفہومًا۔

[3]    سنن ابی داود ،  کتاب السنۃ ،   باب من دعاالی السنۃ ،  الحدیث : ۴۶۱۱ ، ص۱۵۶۲۔



Total Pages: 273

Go To