Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 778 ) … حضرت سیِّدُناامامشَعْبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  حضرتِ سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ایک امام اوراللہ عَزَّوَجَلَّکے فرمانبردار بندے تھے ۔  ‘‘ کسی نے کہا کہ ’’ امام اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانبردار توقرآن پاک میں   حضرت سیِّدُناابراہیم خلیل اللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فرمایا گیا ہے  ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ ہم حضرتِ سیِّدُنا مُعَاذرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوحضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مشابہ ہونے کی وجہ سے امام اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانبردار کہتے ہیں   ۔  ‘‘ کسی نے عرض کی: ’’ امام کون ہوتاہے ؟  ‘‘  فرمایا :   ’’ امام اسے کہتے ہیں   جو لوگوں   کو بھلائی سکھائے ۔  ‘‘    ( [1] )

مرجعِ صحابہ :  

 ( 779 ) … حضرت سیِّدُناعَطَاء بن اَبی رَبَاح رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناابومُسْلِم خَوْلَانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’  ایک مرتبہ میں  حِمْص کی مسجدمیں   داخل ہوا تو وہاں   تقریباً 30بزرگ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن تشریف فرما تھے ۔  ان میں   ایک سرمگیں   آنکھوں  اورچمکداردانتوں  والا خوبصورت نوجوان خاموش بیٹھاتھا ۔ جب لوگوں  کاکسی بات میں  اختلاف ہوتا تو اس نوجوان کی طرف رجوع کرتے اور اس سے پوچھتے تھے ۔ میں   نے اپنے قریب بیٹھے ایک شخص سے دریافت کیاکہ ’’ یہ کون ہیں   ؟  ‘‘  اس نے بتایاکہ ’’  یہ حضرت سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہیں   ۔  ‘‘ چنانچہ،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی محبت میرے دل میں   رَچ بس گئی اور جب تک وہ لوگ وہاں  بیٹھے رہے میں   بھی ان کے ساتھ بیٹھارہا ۔  ‘‘  ( [2] )

 ( 780 ) … حضرت سیِّدُناشَہْربن حَوْشَب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں   نے حضرتِ سیِّدُنا ابن غَنْمرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کویہ کہتے ہوئے سنا کہ حضرتِ سیِّدُنا عَائِذُاللہبن عبداللہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  ’’ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی خلافت کے ابتدائی دورمیں  ،   مَیں   حضرات صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے ساتھ ایک مسجد میں   داخل ہوا اوروہاں   ایک مجلس میں   بیٹھ گیا ۔ اس میں   تقریباً30 سے زیادہ افراداحادیث کی تکرارکر رہے تھے ۔ اس حلقے میں   ایک خوبصورت،  پختہ گندمی رنگ والا،   شیریں   مقال نوجوان بھی بیٹھاہواتھاجو حاضرین میں   سب سے جواں   عمرمعلوم ہوتا تھا ۔ جب کسی حدیث میں   لوگوں   کااختلاف ہوتا تو وہ اس نوجوان کی طرف رجوع کرتے اوروہ انہیں   تسلی بخش جواب دیتا اور لوگ جب تک اس سے نہ پوچھتے وہ کوئی حدیث بیان نہ کرتا ۔  ‘‘ میں   نے پوچھا :  ’’ اے بندۂ خدا ! تم کون ہو ؟  ‘‘ اس نے کہا :  ’’ میرانام مُعَاذ بن جَبَل ہے ۔  ‘‘    ( [3] )

  ( 781 ) …  حضرت سیِّدُنایَعْقُوْب بن زَید رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ  حضرتِ سیِّدُناابوبَحْرِیَّہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں  حِمْص کی مسجد میں   داخل ہوا تو وہاں   گھنگریالے بالوں   والے ایک نوجوان کوبیٹھے دیکھا،   جس کے اردگرد لوگ جمع تھے ۔  وہ بات کرتا تو اس کے منہ سے نوراور موتی جھڑتے معلوم ہوتے ۔ میں   نے پوچھا :   ’’ یہ کون ہے ؟  ‘‘ لوگوں   نے بتایا :  ’’ یہ حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہیں    ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 782 ) … حضرت سیِّدُناشَہْربن حَوْشَب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ حضرت سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی موجودگی میں   صحابۂ  کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن جب آپس میں   گفتگو کرتے توان کی علمی جلالت ورُعب کی وجہ سے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن انہیں   دیکھتے رہتے ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 783 ) … حضرت سیِّدُناابن کَعْب بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ’’ حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ خوبصورت،  فیاض اوراپنے خاندان کے سب سے بہتر نوجوان تھے ۔ ان سے جومانگاجاتا ضرور عطا فرماتے ۔  یہاں   تک کہ مقروض ہوگئے اورقرض ان کے مال واسباب سے بڑھ گیا ۔ چنانچہ،  انہوں   نے بارگاہِ رسالت عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں   عرض کی کہ ’’   آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان قرض خواہوں   سے رعایت کرنے کا فرمائیں    ۔  ‘‘   آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے بات کی لیکن قرض خواہوں   نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بات کو اہمیت نہ دی ۔ حالانکہ اگرکسی کے کہنے پرکسی کاکوئی قرض چھوڑاجاتاتورسولِ دوجہان،  سرورِ کون ومکانصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ارشادپران کاقرض چھوڑاجاتا ۔  چنانچہ،   حضورنبی ٔ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرتِ سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کامال فروخت فرما دیا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم قرض خواہوں   کے درمیان تقسیم فرما دی جس کی وجہ سے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس کچھ نہ رہا ۔  پھر جب انہوں   نے حج کیا توحضور نبی ٔ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں   یمن بھیجا تاکہ وہ کمی پوری کر سکیں   ۔  ‘‘

             راوی فرماتے ہیں   کہ ’’   ( تقاضائے قرض کے سبب ) سب سے پہلے جس شخص پراپنے مال میں   تصرف کرنے پر پابندی عائد کی گئی وہ حضرت سیِّدُنامُعَاذبن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہہیں   ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ،  حضورنبی ٔ ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصالِ ظاہری کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے دورِ خلافت میں   یمن سے واپس لوٹے ۔    ( [6] )

 



[1]    الطبقات الکبری لابن سعد ،  مُعَاذبن جَبَل ، ج۲ ، ص۲۶۶۔

[2]    المسندللامام احمد بن حبنل ،  حدیث معاذبن جبل ،  الحدیث : ۲۲۱۴۱ ، ج۸ ، ص۲۵۱۔

                الطبقات الکبری لابن سعد ،  الرقم۳۰۲مُعَاذبن جَبَل ، ج۳ ، ص۴۴۲۔

[3]    البحرالزخارالمعروف بمسندالبزار ،  مسندمُعَاذبن جَبَل ،  الحدیث : ۲۶۷۲ ، ج۷ ، ص۱۱۶۔

                الطبقات الکبرٰی لابن سعد ،  الرقم۳۰۲مُعَاذبن جَبَل ، ج۳ ، ص۴۴۰۔

[4]    صفۃ الصفوۃ ،  الرقم۵۱مُعَاذبن جَبَل ، ج۱ ، ص۲۵۳

[5]    صفۃ الصفوۃ ،  الرقم۵۱مُعَاذبن جَبَل ، ج

Total Pages: 273

Go To